Daily Mashriq

ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 75 لاکھ ہوگئی

ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 75 لاکھ ہوگئی

اسلام آباد: ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 75 لاکھ پہنچ گئی ہے جس میں پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے ووٹرز کی تعداد کل اعداد و شمار کی 78 فیصد ہے۔

الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار ملک بھر کے کل ووٹرز میں 6 کروڑ 2 لاکھ یعنی 56 فیصد تعداد مرد ووٹرز جبکہ 4 کروڑ 74 لاکھ 80 ہزار یعنی 44 فیصد خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملک کے 57.09 فیصد ووٹرز کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جن کی تعداد 6 کروڑ 13 لاکھ 80 ہزار ہے، اس میں 3 کروڑ 40 لاکھ 30 ہزار یعنی 55 فیصد مرد جبکہ 2 کروڑ 73 لاکھ 50 ہزار یعنی 45 فیصد خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

اس طرح ملک کے ووٹرز میں سندھ کا حصہ 2 کروڑ 29 لاکھ 20 ہزار افراد کے ساتھ 21.32 فیصد ہے جس میں مرد ووٹرز ایک کروڑ 27 لاکھ 20 ہزار یعنی 56 فیصد اور خواتین ووٹرز ایک کروڑ 2 لاکھ کی تعداد کے ساتھ 44 فیصد ہیں۔

دوسری جانب ایک کروڑ 53 لاکھ 50 ہزار کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ 14.28 فیصد ہے جن میں مرد ووٹرز 80 لاکھ 71 ہزار یعنی 57 فیصد جبکہ 60 لاکھ 64 ہزار یعنی 43 فیصد ووٹرز خواتین ہیں۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے ووٹرز 43 لاکھ 30 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز کے ساتھ کل تعداد کا 4.06 فیصد ہیں، جن میں مرد ووٹرز 25 لاکھ 20 ہزار یعنی 58 فیصد جبکہ خواتین ووٹرز 18 لاکھ 40 ہزار یعنی 42 فیصد ہیں۔

قبائلی علاقوں، جنہیں فاٹا کہا جاتا تھا، میں 26 لاکھ 80 ہزار تعداد کے ساتھ ملک کے 2.50 فیصد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جس میں 16لاکھ 10 ہزار (58 فیصد) مرد ووٹرزجبکہ 10 لاکھ 70 ہزار (40 فیصد) ووٹرز خواتین ہیں۔

وفاقی درالحکومت میں 7 لاکھ 78 ہزار ووٹرز رجسٹرد ہیں جو کل تعداد کا 0.72 فیصد ہیں اس میں 4 لاکھ 13 ہزار( 53 فیصد) مرد جبکہ 3 لاکھ 65 ہزار (47 فیصد) ووٹرز مرد ہیں۔

خیال رہے کہ 2018 کے انتخابات میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 کروڑ 70 لاکھ تھی جس میں 5 کروڑ 45 لاکھ مرد اور 6 کروڑ 24 لاکھ خواتین ووٹرز شامل تھیں۔

اس تعداد میں 5 کروڑ 58 لاکھ ووٹرز کا تعلق پنجاب، 2 کروڑ 64 لاکھ سندھ، 1 کروڑ 40 لاکھ خیبرپختونخوا، 30 لاکھ 70 ہزار بلوچستان، 20 لاکھ 14 ہزار قبائلی علاقے اور 69 ہزار ووٹرز وفاقی دارالحکومت سے تعلق رکھتے تھے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا کو بلدیاتی حکومت کے قوانین میں ترمیم کے لیے 30 اپریل کی ڈیڈ لائن دے دی، جس میں ناکامی پر آئندہ بلدیاتی انتخابات موجودہ قوانین کی بنیاد پر کروانے پڑیں گے۔

ڈیڈ لائن کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی حکومت کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں صوبائی سیکریٹری قانون و بلدیات بھی شریک تھے۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی حکومت کی مدت رواں برس اگست کے آخری ہفتے میں اختتام پذیر ہوجائے گی جس کے بعد قانون کے تحت 120 دن کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہیں۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا میں بلدیاتی حلقوں کی حد بندی کا عمل مئی میں شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو آئندہ 4 ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔

اس حوالے سے اجلاس میں بتایا گیا کہ بلدیاتی حکومت کا نیا قانون تیار کرلیا گیا ہے جسے جلد صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی حکومت کا ڈھانچہ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

اس قبل بھی الیکشن کمیشن نے 21 مارچ اور اس سے قبل جنوری اور گزشتہ برس ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں بلدیاتی قوانین میں ترمیم کے لیے صوبائی حکومت کو یاد دہانی کروائی تھی

متعلقہ خبریں