Daily Mashriq

جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی بھارت کی ایک اور سعی

جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی بھارت کی ایک اور سعی

بھارت کی جانب سے پاکستانی ایف سولہ طیارے مار گرانے کے دعوے کو پاکستان نے ایک مرتبہ پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھوٹ چاہے کتنی ہی مرتبہ مرتبہ کیوں نہ بولا جائے لیکن اس سے جھوٹا دعویٰ سچ نہیں بن جاتا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی دعوئوں کے جواب میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے تبصرے میں کہا کہ بار بار جھوٹ بولنے سے سچ نہیں بن جاتا، بھارت نے جھوٹے دعوے کیے اور اپنے دعوئوں کو سچ ثابت کرنے کے لیے دنیا کے سامنے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا۔وہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے نئی دہلی میں کی گئی نیوز کانفرنس کا جواب دے رہے تھے جس میں ایئر وائس مارشل آر جی کے کپور نے فروری میں پاکستان کا جنگی طیارہ گرانے کے خودساختہ ناقابل تردید ثبوت پیش کیے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین نے بھی بھارت کی جانب سے پاکستانی طیارہ مار گرانے کے دعوے کو مسترد کردیا تھا۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کی ٹیم کی بھی گنتی میں ایف سولہ طیارے پورے نکلے۔ امریکی ٹیم نے پاکستان کی دعوت پر یہ ذمہ داری انجام دی تھی جن کو بلانے کا مقصد ہی شاید بھارت کی بار بار غلط بیانی اور غلط دعوئوں کو جھوٹا ثابت کرنا تھا لیکن اس کے باوجود بھی بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے ایک مرتبہ پھر ایف سولہ طیارے مار گرانے کے دعویٰ پر مبنی تحریری رپورٹ پڑھ کر سنائی ہے۔ بھارت یہ دعویٰ بار بار کر رہاہے مگر جس طرح پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرانے کے بعد ملبہ اور پائلٹ کی گرفتاری و واپسی کی صورت میں ٹھوس شواہد پیش کئے بھارت تمام تر دعوئوں کے باوجود ایسا نہ کرسکا۔ بھارتی میڈیا پر ایف سولہ طیارے کا جو مبینہ ملبہ دکھایا گیا اسے خود ایک بھارتی انجینئر نے یہ کہہ کر رد کیا کہ یہ ایف سولہ طیارے کا ملبہ یا پھر اس کے حصے اور پرزے سرے سے ہے ہی نہیں۔ طیاروں کی جنگ فضا میں ہوتی ہے اور جہاز سے میزائل ماراجائے یا پھر زمینی ایئر ڈیفنس سسٹم اسے مارگرائے اس کا ملبہ زمین پر ہی گرتا ہے۔ یہ ملبہ اتنا نہیں ہوتا کہ کسی جنگ یا پہاڑ میں گرے تو اس کی باقیات کا کھوج مشکل ہوجائے۔ بھارت نے اگر کوئی طیارہ مارگرایا ہو تا تو اس کا ثبوت پیش کرنا کوئی مشکل نہیں تھا پاکستان نے جو طیارہ مارگرایا اس کی گواہی مسلح افواج کو دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ طیارے کے ہندو پائلٹ کو باوردی فوجیوں سے قبل بے وردی نوجوان سپاہیوں نے دھر لیا تھا۔ اگر باوردی سپاہی جلد ہی موقع پر پہنچ کر بھارتی پائلٹ کو حراست میں نہ لیتے تو ان کو چائے پینے کا تو کیا سانس لینے کا موقع بھی نہ ملتا۔ جو دوسرا طیارہ گرایا گیا ہے اس کے ٹھوس شواہد کسی مصلحت کے تحت سامنے نہیں لائے گئے اس مصلحت کا بھارت اور اسرائیل دونوں کو بخوبی علم ہوگا۔ اس معر کے کے دوران اور بعد میں آئی ایس پی آر کے پیشہ وارانہ کردار کا بڑا چرچا ہے۔ ہمیں اپنے اس ادارے کے پیشہ وارانہ کردار سے تو انکار نہیں البتہ اس کی وجہ پیشہ واریت نہیں بلکہ آئی ایس پی آر کے پاس ٹھوس حقیقت شواہد اور سچ تھا جسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ قوم کو سچائی سے آگاہ کرنے کا بھارتی طیارے گرانے سے ایک دن قبل جو وعدہ کیا گیا تھا قدرت نے وہ الفاظ سچ کردکھائے۔ بھارتی میڈیا اور بھارتی عسکری قیادت اپنے عوام کی تسلی وتشفی کیلئے خواہ کتنے بھی جھوٹ کا سہارا لیں ان کو جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے کے محاورے سے ہی واسطہ پڑے گا۔بھارت کی حکومت اور بھارتی ایئر فورس کے سربراہ کی دروغ گوئی اور غلط بیانی کی وجوہات کو سمجھنا مشکل نہیں ان کی مجبوری کو سمجھنا اس لئے مشکل نہیں ہونا چاہیئے کہ ان کو ہر قیمت پر اپنے عوام کو اطمینان دلانے اور اپنی ہزیمت پر پردہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں گیارہ اپریل سے شروع ہونے والے انتخابات کے اختتام تک جھوٹ کا بازار گرم رکھنا بی جے پی کی مجبور ی ہے لیکن ابلاغ کے اس بے شمار اور تیز رفتار ذرائع کے ہوتے ہوئے بھارتی عوام کو اس طرح سے مطمئن کرنا کوئی آسان کام نہیںبلکہ سرا سر ناممکن ہے بھارتی عوام کسی طور ان دعوئوں کو ماننے کیلئے تیار نہیں انتخابات میں بی جے پی جیتی ہے یا کانگریس چنائو کی فاتح قرار پاتی ہے یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ۔جس طرح بی جے پی پڑوسی ممالک سے محاذ آرائی اور بھارتی عوام کو گمراہ کرنے کی مہم پر ہے اس کے سیاسی طور پر منفی اثرات ناممکن بھی نہیں۔ بھارتی حکومت اور فضائیہ جھوٹ کے ذریعے سچ اور حقائق کا مقابلہ نہیں کر سکتی جھوٹ کو ثابت نہیں کیا جاسکتا اور سچ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔بھارتی حکمرانوں کا جو چہرہ بھارت کے عوام نے اب دیکھا ہے یہ تقریباً بھارت کے سارے حکمرانوں کا چہرہ رہا ہے۔ اب جبکہ حقیقت کھل کر بھارتی عوام کے سامنے آگئی ہے تو بھارت کی سول سوسائٹی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو اندھیروں میں رکھنے اور بھارت کی عسکری اور سیاسی قیادت کے جھوٹ بیچنے کیخلاف میدان عمل میں آئے۔

متعلقہ خبریں