Daily Mashriq


معاشی صورتحال سے نکلنے کا مژدہ کتنا حقیقت کتنا فسانہ

معاشی صورتحال سے نکلنے کا مژدہ کتنا حقیقت کتنا فسانہ

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قوم کو مژدہ دیا ہے کہ پاکستانی معیشت کا بحرانی مرحلہ گزر گیا اور اب ہم آہستہ آہستہ استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہم آہستہ آہستہ استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں، مگر ملکی معیشت مستحکم ہونے میں ابھی ڈیڑھ سال لگے گااور جس کے بعد ہم بہتر پوزیشن میں آجائیں گے۔دوسری جانب واپڈا کے وفاقی وزیر فیصل واڈا نے انقلابی وعدہ یہ کیا ہے کہ آمدہ پانچ ہفتوں میں ملک میں روزگار کے اتنے مواقع میسر آئیں گے کہ آسامیوں کے مقابلے میں امیدوار کم پڑجائیں گے۔ ہمارے تئیں اول الذکر مژدہ حقیقت پسندانہ اور ممکنات میں سے ہے جبکہ آخری الذکر دعویٰ کی حقیقت کیا ہے اس حوالے سے اندازہ لگانا بھی مناسب نہیں۔ فیصل واڈا کے دعوے کو اگر اس قسم کے دعوئوں کیلئے شہرت رکھنے والے ایک اور وفاقی وزیر کے دعوئوں کے زمرے میں لیا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔بہرحال پانچ ہفتے بعد کتنی آسامیاں نکلتی ہیں یہ سچ جلد سامنے آئے گا۔ جہاں تک وزیر خزانہ کی خوشخبری کا سوال ہے یہ صرف ان کے کہے الفاظ نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کی دعا ہے کہ وطن عزیز جلد سے جلد معاشی بحران سے نکل آئے۔ معیشت کی بحالی اور مشکل فیصلے آسان کام نہیں اور موجودہ حالات اس لحاظ سے کسی طور موافق نہیں۔ ایسے میں ڈیڑھ سال کے اندر اگر ملکی معیشت میں بہتری آتی ہے تو یہ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی ہوگی البتہ اس عرصے میں عوام کوجن حالات سے دوچار ہونا پڑے گا اسے عوام کس حد تک سہار سکیں گے اور مہنگائی کس حد کو پہنچ جائے گی اس طرف بھی وزیر خزانہ کو توجہ دینی چاہیئے اور قلیل المدتی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ عوام معاشی مشکلات سے نکلنے کی امیدمیں بہت قربانیاں دے چکے ہیں اور ہر بارناکامی اور عوام پر مزید بوجھ کا جو تجربہ رکھتے ہیں کوششیں ہونی چاہیئے کہ عوام ایک مرتبہ پھر مایوس نہ ہوں۔

ضم اضلاع کے باعث خیبرپختونخوا حکومت کی مالی مشکلات

پنجاب سمیت تین صوبوںکی خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کے لئے قابل تقسیم محاصل پول سے تین فیصد فنڈ دینے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اس حوالے سے دیگر آپشنز اختیار کرنے کی تجویز پہلی مرتبہ پیش نہیں کی گئی لیکن دیگر آپشنز کیا ہوں گے اس پر بحث ہونی چاہیئے سوائے اس کے کہ مرکزی حکومت خیبرپختونخوا میں ضم اضلاع کیلئے وسائل دے۔قبائلی اضلاع کے انضمام کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا حکومت کو اصولی طور پر وسائل کی فراہمی کی ضرورت تھی بلکہ سب سے پہلے اس کے مالیاتی امور طے کئے جاتے اور اس کے بعد انضمام عمل میں لایا جاتا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے گزشتہ روزہی خاصہ داروں اور لیویز فورس کو پولیس میںضم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ان کی تنخواہوں کی بھاری رقم ماہانہ بنیادوں پر کہاں سے آئے گی اور ان کو تنخواہوں کی ادائیگی کے کیا انتظامات کئے جائیں گے اس کا علم نہیں۔ خیبرپختونخوا میں ان اضلاع کا مرحلہ وار انضمام اور آزمائشی بنیادوں پر ایک ایک ضلع شامل کرنے کی تجویز پر عمل کیا جاتا توایسے مسائل سامنے نہ آتے جن کاحل مشکل ہوجاتا ۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو یہ مسئلہ بار بار وفاقی حکومت کے سامنے رکھنا چاہیئے اور جتنا جلد ممکن ہوسکے وفاق یا تو خود خاطر خواہ وسائل دے یا پھر این ایف سی ایوارڈ میں حصہ طے کیا جائے اس ضمن میں آئی ایم ایف اور صوبوں کے اعتراضات سے صرف نظر ممکن نہیں لیکن جب تک اس معاملے کے حل کو سنجیدگی سے نمٹا نے کی تیاری نہیں ہوگی اور معاملات طے نہیں ہوتے اس وقت تک خیبرپختونخواحکومت کی مالی پریشیانیوں میں کمی نہیں آئے گی۔

فوڈ اتھارٹی کو سخت اقدامات کرناہوںگے

پشاور یونیورسٹی کیمپس میں کینٹینز کے ناقص او ر مضرکھانوں کے حوالے سے خیبر پختونخو فوڈ اتھارٹی کی رپورٹ کے بعد جن پلیٹوں میں یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو کھانا دیا جا رہاہے اسی میں کتے کے منہ مارنے کی ویڈیو سامنے آنا اس امر پر دال ہے کہ طلبا کی شکایات اور فوڈ اتھارٹی کے ایک آدھ قدم کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔اس صورتحال میں فوڈ اتھارٹی کو سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں ہسپتالوں کے کینٹینزکے خفیہ جائزے کے بعد سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن کینٹینز میں صحت وصفائی کے نظام کی بہتری ہو ان کو چلنے دیا جائے باقی کو بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔دیکھا جائے تو یہ صرف کینٹینز ہی میں نہیں ہورہا بلکہ شہر کے جس ہوٹل میں بھی چھاپہ پڑتا ہے یہی کچھ سامنے آتا ہے۔ فوڈ اتھارٹی والے جرمانہ عائد کرتے ہیں یا پھر سیل کر دیتے ہیںلیکن ایک مرتبہ پھر وہی سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کی روک تھام نہیں ہوپارہی۔ اس طرح کی صورتحال کے تدارک کیلئے مزید سخت قوانین بنا کر اُن پر عملدرآمد میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں