Daily Mashriq

ابن مریم ہوا کرے کوئی

ابن مریم ہوا کرے کوئی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب صوبہ خیبر پختون خوا کے نامور علمی اور ادبی سپوت پطرس بخاری کی عزیزہ محترمہ ڈاکٹر ثمینہ زاہد نے میڈیکل کالج برائے خواتین حیات آباد پشاور کی ایک تقریب میں راقم السطور کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے بلایا تھا۔ اس موقع پر ہم نے میڈیکل کالج کی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے بڑے فخر یہ انداز سے یہ بات کی تھی کہ میرا چھوٹا بیٹا شہباز علی جو گزرے ہوئے کل تک ایک اسلحہ ساز فیکٹری میں ملازم تھا اب اللہ کے خاص فضل وکرم سے ایک ایسے ادارے سے منسلک ہوگیا ہے جو میڈیکل سنٹر کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں دکھی اور سسکتی انسانیت کے مسیحا تقدس مآب پیشہ طب سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اسلحہ ساز فیکٹری کے برعکس انسان اور انسانیت کو نیست و نابود کرنے کا سودا نہیں کرتے بلکہ بیمار انسانیت کو موت کے جبڑوں سے کھینچ نکال کرانہیں نئی زندگی دینے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں ۔ بہت سی تالیاں بجی تھیں میری اس بات پر جن کی گونج خاص طور پر آج کے دن میرے ذہن و شعور کے نہاں خانوں سے جلترنگ بن کر اٹھ رہی ہے کہ آج اپریل کے مہینے کی دس تاریخ ہے اور آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں میڈیکل سائنسز کے شعبہ ہومیو پیتھی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ میں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ جب کوئی نومولود بچہ رحم مادر سے نکل کر اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ چیخ چیخ کر رو رہا ہوتا ہے ۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ کون سا گناہ کیا ہے میں نے۔ کیا غلطی سرزد ہوگئی تھی مجھ معصوم سے کس جرم کی پاداش میں مجھے آنا پڑا اس دکھوں بھری دنیا میں ۔ انسان جو اپنے آپ کو مسجود ملائیک کہتا ہے، انسان جو اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کہتا نہیں تھکتا جب ہوش کے ناخن لیتا ہے تو اپنے آپ کو دکھوں بھری د نیا میں گھرا پاکر اسداللہ خان غالب کی آواز میں آواز ملا کر کہہ اٹھتا ہے کہ

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، نہ ہوتا کچھ تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں کیا ہوتا

دکھ درد اور آلام بھری زندگی میں ہم بہت سی بیماریاں ماں کی کوکھ سے لیکر اس دنیا میں وارد ہوتے ہیں جن کو موروثی بیماریاں کہا جاسکتا ہے اور بے شمار بیماریاں ہمارے ارد گرد کے ماحول میں جراثیم کی صورت ہماری صحت اور تندرستی کا شکار کرنے یا ان کو گزند پہنچانے کے لئے موجود ہوتی ہیں جن سے محفوظ رہنے کے لئے ہمیں پرہیز کے علاوہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ہمارے جسم کا درجہ حرارت اس وقت تک98ڈگری سنٹی گریڈ رہتا ہے جب تک ہم زندگی کی دھوپ چھائوں برداشت کرنے کے قابل رہتے ہیں ۔ جسم کا درجہ حرارت 98سے99سنٹی گریڈ ہوتے ہی صحت انسانی کی حالت دگرگوں ہونے لگتی ہے ۔ حدیث قدسی ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میرا اللہ ہی مجھے شفا دیتا ہے ۔ جزا اور سزا کی طرح بیماری اور شفا بھی رب کن فیکون کے ہاتھ میں ہے لیکن ہم یا ہمارے لواحقین بیمار یا بیماری کی شفا یابی کے لئے ہر اس معالج سے رجوع کرتے ہیں جس کے ہاتھ میں وہ اپنی شفا کے امکانات پاتے ہیں ۔ یونانی طرز علاج کی کوکھ سے جنم لینے والاایلو پیتھی طرز علاج اس وقت شدید الجھنوں کا شکار ہوچکا تھا جب7181 میں ایلوپیتھی طرز علاج کے ڈاکٹر آف میڈیسن بننے والے ریسرچ سکالر ڈاکٹر ہائیمین نے ایلو پیتھی ادویات سے پیدا ہونے والی الجھنوں کو سلجھانے کی کوشش کی ۔اس ضمن میں انہوں نے ابتدائی تجربات اپنی ذات گرامی پر کرتے ہوئے مختلف ادویہ کا استعمال کرکے ان کا جائزہ لینا شروع کیا اور یوں دھیرے دھیرے وہ اپنے تجربات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچ گئے جہاں انہیں ہومیو پیتھی طریقہ علاج کا بانی مبانی قرار دیا جانے لگا۔ ورلڈ ڈے آف ہومیو پیتھی کے موقع پر میں اپنے مرحوم والد بزرگوار کے گلے میں پیدا ہونے والے اس ٹیومر کاتذکرہ کرنا چاہتا ہوں جس کو ارنم ہسپتال پشاور کی لیبارٹریز میں ٹیسٹ کے مرحلے طے کروانے کے بعد ماہرین طب گلے کا کینسر قرار دے چکے تھے۔ ان کی رائے کی تعمیل میں ہم نے والد صاحب کے گلے کا آپریشن کروانا تھا ۔ لیکن آپریشن سے پہلے ہم نے ہومیو پیتھک طریقہ علاج آزمانے کا سوچا اور انہیں سکندر پورہ پشاور میں ہومیو پیتھک ڈاکٹر مسعود کی چھوٹی سی دکان میں قائم ہومیوپیتھک کلینک لے گئے جنہوں نے مختصر سی تشخیص کے بعد تین روپوں کے عوض ہومیو پیتھک کی میٹھی گولیاں چھوٹے خاکی لفافہ میں بند کرکے دیں ۔ آپ یقین کریں کہ ہمارے حافظ قرآن اور امام مسجد والد بزرگوار نے گھر آکر ہومیو پیتھک ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق چھوٹی چھوٹی میٹھی گولیوں کی پہلی خوراک لی اور پھر ہم نے دیکھا کہ دوسری اور تیسری خوراک تک فضل باری تعالیٰ ان کے وجود کے رگ و پے میں سرایت کرکے اپنے اثرات دکھانے لگا اور جب تک آپ زندہ رہے ایسی کوئی بھی تکلیف ان کے قریب تک نہ پھٹک سکی ۔ اپنے ارد گرد پھیلی ایسی بہت سی مثالیں ہیں جو خوف طوالت کے سبب یہاں پیش نہیں کی جاسکتیں۔ مختصر الفاظ میں صرف اتناعرض کرنا ہے کہ ڈاکٹر ہائیمن کا ایجاد کردہ کم وبیش ڈیڑھ صدی سے جاری ہومیو پیتھک طرز علاج دنیا بھر میں مقبول عام و خواص ہونے کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ کہتے ہیں کہ بے ضرر ہے یہ طریقہ علاج اور پرانی سے پرانی بیماری کو دھیرے دھیرے سہی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی اتنی اہلیت رکھتا ہے کہ کسی کو یہ بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ

ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

متعلقہ خبریں