Daily Mashriq

ادویات کی قیمتیں،سکول بس اوربلاوجہ کے پیغامات

ادویات کی قیمتیں،سکول بس اوربلاوجہ کے پیغامات

ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ روزنامہ مشر ق میں آپ نے ملاحظہ کی ہوگی۔ادویات کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں خاص طور پر جان بچانے والی ادویات، دل وگردے کے امراض کی ادویات بلڈ پریشر کی ادویات شوگر،دماغی امراض،مرگی ڈپریشن کی ادویات تسلسل سے کھانے اور زندگی انہی ادویات کے سہارے گزارنا ہوتی ہے ۔ ادویات کے مہنگا ہونے کے سب سے زیادہ اثرات جاری قسم کی ادویات استعمال کرنے والوں کی مشکلات بڑھ گئی ہوں گی۔ ڈاکٹر مجتبیٰ نفسیاتی امراض کے معالج ہیں اور ایک عرصے سے اس شعبے سے وابستہ ہیں گزشتہ روز انہوں نے بطور خاص فون کر کے مرگی کی ادویات Revotril اور Tegralکے مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ سے ان ادویات کے غائب کئے جانے کے باعث مریضوں کی مشکلات کی طرف توجہ دلائی۔نرخ کن بالا کہ ارزانی شود ہنوز کا مصرعہ ادویات کی مہنگائی اور قلت پر صادق آتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اس پر میں کیا لکھوں سوائے اس کے کہ بندے کو پوری روٹی نہ ملے تو آدھی پر گزارہ کرلیتا ہے بھوک ہوتی بڑی مشکل لیکن جیسے تیسے روکھی سوکھی مل جائے تو گزارہ ہوجاتا ہے۔ ادویات کا تعلق براہ راست انسانی صحت پر ہوتا ہے بلکہ ادویات پرانسانی زندگی کا دارومدار ہوتا ہے یہ بھی پندرہ سے دوسو فیصد تک مہنگی ہونے کے باوجود ناپید ہوں تو کوئی جیئے تو کیسے جو لوگ مہنگی ادویات کی خریداری کے قابل نہ ہوں ان کی حالت کا تو سوچ کر جھر جھری سی آتی ہے جس طرح گزشتہ کالم میں ایک مریض نے دل کی ادویات کے مہنگا ہونے پر دوائی کی مقدار خود سے نصف کرنے کی بات کی تھی یاپھر ٹویٹرپر ایک شخص کا کہنا تھا کہ ادویات سستی کیجئے اس کیلئے اپنے بیٹے سے رقم مانگنے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ مجھے تو رہ رہ کر ان لوگوں کا خیال آرہا ہے جو کسی سے مانگیں تو کس سے مانگیں لوگ خود ہی مہنگائی کے ہاتھوں تہی دست بے بس ولا چارگی کا شکار ہو چکے ہیں ۔حکومت صحت کارڈ کا اجراء کر رہی ہے اور ادویات عوام کی قوت خرید سے بہت باہر ہو چکی ہیں۔ اب زندگی مشکل اور مرنا آسان لگنے لگا ہے ۔ اگلا مسئلہ ایک وائس میسج کی صورت میں ملا ہے جس میں حیات آباد کے ایک شہری نے حیات آباد میں چلنے والی سکول بسوں کی خستہ حالی اور خراب انجن اور سائیلنسر درست نہ کروانے کے باعث آلودگی اور شور کی طرف توجہ دلائی ہے۔ حیات آباد میں سب سے زیادہ سکول کالج یونیورسٹیز اور پک اینڈ ڈراپ کی گاڑیاں چلتی ہیں بجائے اس کے کہ ڈرائیوروں کی سہولت اور وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ مکینوں کو گردوغبار دھواں اور شور کی آلودگی سے بچانے کیلئے صرف بڑی سڑکوں اور سروس روڈز ہی سے بچوں کو اٹھانے اور اتارنے کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہر گلی اور ہر گھر کے دروازے پر جب مختلف سکولوں کی گاڑیاںآتی ہیں اور خاص طور پر بسیں دھواں اور دھول اڑاتی ہیں انجن کا شور اپنی جگہ پریشر ہارن پر ہاتھ رکھ کر ڈرائیور اس وقت تک بگل بجارہا ہوتا ہے جب تک بچہ گھر سے نہیں نکلتا اس ساری صورتحال سے ٹریفک پولیس ،پی ڈی اے، محکمہ ماحولیات اور سکولوں کی انتظامیہ سبھی واقف ہیں لیکن کسی بھی جانب سے اس کا حل نکالنے کی سعی نہیں کی جاتی حیات آباد کی چوڑی گلیاں مکینوں کیلئے باعث راحت ہونے کی بجائے باعث زحمت اور عذاب بن چکی ہیں۔ مسئلے کا آسان حل بڑی سڑکوں سے بچوں کو اٹھانا اور اتارنا ہے جس میں سبھی کو سہولت بھی ہے مگر کون سوچے اور عملدرآمد کون کروائے ۔ کوئی نہیں کہ یہاں سب بے حس اکٹھے ہیں۔ایک خاتون نے بڑا دلچسپ پیغام بھیجا ہے ان کا پیغام غیر ضروری ٹیکسٹ میسجز بارے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو موبائل فون رکھنا پسند تو نہیں لیکن رابطے کے اس ذریعے کے بغیر اب دل کو کھٹکا لگا رہتا ہے ۔بچوں اور گھروالوں سے رابطہ کی اس ضرورت کو مختلف کمپنیوں کے سیلز ڈپارٹمنٹس مختلف برانڈز اور کمپنیوں کے اشتہارات ، پراپرٹی کا بزنس والوں سکولوں میں داخلوں غرض قسم قسم کے پیغامات ہر تھوڑی دیر بعد ملتے ہیں۔ معلوم نہیں ہر کال سنٹر والوں کو لوگوں کے نمبر کون دیتا ہے اور پی ٹی اے سیلو لر کمپنیوں کو اس بارے متنبہ کیوں نہیں کرتی۔ میسج چیک کرنا مجبوری ہے اور جب دیکھو اشتہاری اور کال سنٹرز سے کال ملائی جاتی ہے تو کوفت ہوتی ہے۔ پہلے مسڈ کال دے کر تنگ کرنے کی مصیبت تھی اس سے جان چھوٹی تو اب تجارتی اشتہاری جان نہیں چھوڑتے ۔ یہ بھی مردوزن کو ہراسان کر رہے ہیں۔ ان کو کوئی پوچھتا کیوں نہیں۔ شیر افسر نے تحصیل رزڑ احد خان پل صوابی سے شکایت بھیجی ہے کہ ان کے گائوں میں نہ تو سکول ہے اور نہ ہی نکاسی آب کا انتظام اور بھی بڑے مسائل ہیں ہر بار ایک نئے امیدوار کو اسمبلی بھیجتے ہیں بلدیاتی انتخابات میں کامیاب کرواتے ہیں مگر ہمارے مسائل کسی نے حل نہ کئے۔اب تو تحریک انصاف کی دوسری مرتبہ حکومت ہے اور قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر صوابی وال ہیں۔ شہرام خان وزیربلدیات ہیں سکول کا قیام اور نکاسی آب نہایت بنیادی مسائل اور مطالبات ہیں۔ اس بارے زیادہ کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں سوائے اس توقع کا اظہار کرنے کے کہ محولہ اعلیٰ عہدیداران ترجیحی بنیادوں پر ان دو عوامی مطالبات کا ازالہ کریں گے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں