Daily Mashriq


انسان کا شخصی اظہار

انسان کا شخصی اظہار

یہ دنیا عارضی ہے ۔ایک نہ ایک دن اس نے فنا ہوکر ہی رہنا ہے ۔ کسی زمانے میں سائنس مادہ کے قدیم ہونے کا دعویدار تھا لیکن اب تو اُس نے بھی مان لیا ہے کہ سورج کی حدت وگرمی بتدریج کم ہوتے ہوتے ایک دن فنا ہوجائیگی۔ سائنسدان اگرچہ اس کی اپنی توجیہہ پیش کرتے ہیں لیکن ہمارے عقیدے کے مطابق یہ اللہ کے حکم سے ہوگا۔

یہ دنیا عارضی ہونے کے باوجود ہے بہت دلچسپ اور دلکش۔ اس کی دلچسپی ودلکشی کی ایک اہم وجہ اس کا تنوع ہے ۔ نباتات ، حیوانات اوررجمادات کی اپنی اپنی دنیا میں بے انتہا تنوع ہے جس میں بعض انسان کے علم میں آچکی ہیں اور بعض ہنوز اس نا تمام کائنات میں کن فیکون کی منتظر ہے۔ خود انسان کی اس چھوٹی سی جسمانی کائنات( کائنات اصغر) میں اللہ تعالیٰ نے اخلاقیات،جمالیات اور سب سے بڑھ کر عقل کے لحاظ سے انسانوں میں جو تنوع (Diversity) رکھی ہے اس کا یہاں اس عارضی دنیا میں اظہار جو انسان کا شخصی اظہار ہوتا ہے ممکن ہی نہیں۔

یہ دنیا چونکہ عارضی ہے لہٰذا اس کی ہر شے محدود ہے ۔ جبکہ انسان کی عقل بے کرانی کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی طرح انسان کی جمالیاتی حس بھی بے حدوبے کنار حسن وجمال کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔ اس سب پر مستزاد انسان کے اندر دو اور فطری تقاضے پیٹ اور نفس بھی ہیں۔ انسان کے ان تمام تقاضوں کی اس عارضی دنیا میں تکمیل کا عارضی بنیادوں پر اہتمام ہوا ہے ۔ ستر اسی سال کی زیادہ سے زیادہ زندگی میں وہ چاہتا ہے اور بعض اوقات شدید خواہشات کا اسیر ہوجاتا ہے کہ ان ساری دی گئی حسیات کی بھر پور تکمیل ہو لیکن پھر موت کا خوف اُسے گھیر لیتا ہے اور ایک دن اُسے اس دنیا کو چھوڑ کر ابدی زندگی کے سفر پر روانہ ہونا ہوتا ہے ۔ انسان کا شخصی اظہار اس دنیا میں بھی ہوتا ہے اور آخرت میں بھی ہوگا۔ اس دنیا میں اپنے شخصی اظہار کے لئے مختلف انسان اپنی جدوجہد کے ذریعے مختلف ذرائع وصورتیں اختیار کرتے ہیں ۔ لیکن اس کا سب سے موثر اور زوردار ذریعہ ووسیلہ اس کے اخلاقیات کا وجود ہے ۔ اخلاقیات ہی وہ صفت ہے جو انسان کو اچھے اور برے کی کیٹگری میں تقسیم کرتا ہے ۔ اچھے اخلاق کے لوگ پیٹ اور نفس کے بنیادی تقاضوں وضروریات کی تکمیل کے لئے وہ حلال اور جائز ذرائع استعمال کرتے ہیں جس کی ہدایت ورہنمائی اللہ تعالیٰ کے پیغمبرخاتم النبیینؐ کے ذریعے قیامت تک آنے والے انسانوں کو ملی ہے لیکن دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیںجو پیٹ اور نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے اپنی عقل کو کام میں لا کر حسن جمالیات اور اخلاقیات کا شخصی اظہار کرے اور جولوگ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ صحیح معنوں میں اس کائنات کی بہ حیثیت انسان(خلیفہ ونائب) شاہکار مخلوق کہلانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔انسانی عقل کی تخلیق انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ لیکن یہ دنیا اُس کی جو لانیوں کے لئے بہت تنگ ہے ۔ لہٰذا عقل کو اخلاقیات کا پابندبنانے والے انسانوں کے لئے یہ دنیا ایک قید خانے کی مانند بن جاتی ہے علامہ محمد اقبالؒ نے شاید اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیانہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

لیکن اُس دنیا میں جینے کی پابندی کے ساتھ انسانی عقل کی جو لاینوں(غوروفکر) کی اتنی آزادی ہوگی کہ وہ جو خواہش کرے وہ پوری ہو اس لئے اس عارضی دنیا میں خواہشات انسانی کی تکمیل نہ ممکن ہے اور نہ ضروری کیونکہ انسان کے لئے اصل اور حقیقی دنیا تو آخرت ہے ۔ اس دنیا میں انسان کا بااختیار ہونے کے باوجود اختیار اور وسائل محدود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کا پیٹ اور نفس جو حیوانی وجود کا شدید تقاضا ہے اس بات پر مجبور کرلیتا ہے کہ اخلاقیات کی حدود پھلانگ لے جو یقیناً اخلاق سوء میں شمار ہوتا ہے ۔ بطن ونفس اس دنیا میں عیش وعشرت کا تقاضا کرتا ہے اور اسی تقاضے کی وجہ سے سرخ لائن عبور کرلیتا ہے ۔ لیکن جو لوگ اپنی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی حدود کے اندر گزار لیتے ہیں اور ان عارضی عیش وعشرت کے پیچھے اندھے، بہرے ہو کر نہیں گرتے۔ اُن کے لئے ان ساری خواہشات کی تکمیل بدرجہ اتم واحسن جنت رکھی گئی ہے۔ جہاں اُن پر ’’نہ اُن کو کوئی خوف(موت وغیرہ کا) ہوگا اور نہ ہی وہ (کبھی) غمگین ہونگے)

اور انسان کے عقلی ،اخلاقی اور شخصی اظہار کے لئے کماحقہ ، وہ سامان ہوگا جس کا ذکر کلام پاک میں یوں آیا ہے’’تمہارے(خبث میں) میں (وہ سب) کچھ ہوگا جو تم چاہو گے‘‘۔لہٰذا اس دنیا میں بہترین انفرادی واجتماعی زندگی عقل او راخلاقیات کی حدودمیں رہتے ہوئے گزارنے سے نہ صرف بہترین ومثالی معاشرہ وریاست وجود میں آتی ہے بلکہ اُس دنیا میں وہ مقام ملتا ہے جہاں عقل ، جمالیات اور بطن و نفس کی جو لاینوں کے لئے ہر انسان کے ذوق وخواہش کے مطابق سب کچھ دستیاب ہوگا۔

یہی انسان کے اس دنیا میں آنے کا غرض ومقصد ہے اور اسی سبب اس دنیا کو دارالامتحان کہا جاتا ہے اور مومنین ہی اس امتحان میں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو اس امتحان میں کامیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

متعلقہ خبریں