Daily Mashriq

بھارت کی ترقی کے ساتھ 1 کروڑ سے زائد افراد کو جبری نقل مکانی کا سامنا

بھارت کی ترقی کے ساتھ 1 کروڑ سے زائد افراد کو جبری نقل مکانی کا سامنا

بھارتی انتظامیہ کی ہائی ویز اور ایئرپورٹس کی تعمیر اور جنگلوں کو بند کرنے کی وجہ سے 1 کروڑ 10 لاکھ افراد کا اپنا گھر کھونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہاؤسنگ اینڈ لینڈ رائٹس نیٹ ورک (ایچ ایل آر این) نے بھارتی حکومت کے 2022 تک ہر شہری کے لیے گھر دینے کے وعدے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بتایا کہ ان اعداد و شمار میں 19 لاکھ خاندان ایسے ہیں جن کا جنگلات کے حقوق کے ایکٹ کے تحت کیا گیا زمینوں کا دعویٰ مسترد کیا جاچکا ہے۔

ایچ ایل آر این کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال انتظامیہ نے 114 گھر فی روز گرائے تھے جس سے ہر گھنٹے 23 افراد بے گھر ہوئے۔

ان اعدادو شمار میں سے کچی آبادیوں کو خالی کرانے اور شہروں کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے اقدامات کی وجہ سے آدھے سے زائد افراد بے گھر ہوئے جبکہ جنگلات کے تحفظ کی وجہ سے ایک چوتھائی افراد بے گھر ہوئے۔

ایچ ایل آر این کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیوانی چوہدری کا کہنا تھا کہ ’بے گھر کیا جانا اتنا عام ہوچکا ہے کہ اب ہمیں قدرتی آفات میں سامنے آنے والے جذبات ایسے موقع پر نظر نہیں آتے تاہم یہ عام بات نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر کیسز میں حکام کی جانب سے نوٹسز جاری کرنے کا طریقہ کار بھی نہیں اپنایا جاتا اور چند ہی افراد دوبارہ آباد ہوپاتے ہیں یا انہیں معاوضہ مل پاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ بھارت کےشہروں کے تیزی سے پھیلنے سے زمین کی غیر واضح ملکیت سامنے آرہی ہے جس کی وجہ سے قانونی تنازعات پیدا ہورہے ہیں اور غریب عوام کو جبری طور پر بے گھر کیا جارہا ہے۔

تحقیقاتی ادارہ لینڈ کانفلکٹ واچ کے مطابق بھارت میں زمین پر 680 تنازعات ہیں جس سے 80 لاکھ آبادی متاثر ہورہی ہے۔

ڈہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا کہنا تھا کہ ’بلڈرز اور دیگر تنظیموں کی جانب سے زمین خالی کرانے کے لیے ہم پر دباؤ ڈالا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ کام کرنا پڑتا ہے‘۔

ایچ ایل آر این کی رپورٹ کے مطابق حکام نے گزشتہ سال 41 ہزار 700 سے زائد گھروں کو گرایا جس کی وجہ سے 20 لاکھ 2 ہزار افراد متاثر ہوئے۔

واضح رہے کہ ’رہائس سب کے لیے‘ کے نام سے سرکاری منصوبے کے تحت 2 کروڑ شہری ہاؤسنگ یونٹ اور 3 کروڑ دیہی رہائش گاہیں تیار کرنا ہے تاہم اس پر عمل در آمد انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

متعلقہ خبریں