Daily Mashriq


کشمیر کے متنازعہ علاقے پربھارت کے ساتھ امن خطے کے وسیع ترمفاد میں ہوگا:وزیراعظم

کشمیر کے متنازعہ علاقے پربھارت کے ساتھ امن خطے کے وسیع ترمفاد میں ہوگا:وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کشمیر کے متنازعہ علاقے پربھارت کے ساتھ امن خطے کے وسیع ترمفاد میں ہوگا ۔بی بی سی کو ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ہمسایہ ممالک صرف مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات دورکرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگربھارت نے پاکستان پردوبارہ حملہ کیاتوہمارے پاس جواب دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا ۔جب ان سے پوچھاگیاکہ وہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اور ان کے ملک کوکیاپیغام دیناچاہتے ہیں تو وزیراعظم نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوناچاہیے اوراسے سلگتاہوانہیں چھوڑاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کی مرکزی توجہ غربت میں کمی لانے پرمرکوزہونی چاہیے اور ہم مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات دورکرکے غربت میں کمی لاسکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے آسیہ بی بی کے مقدمے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ وہ محفوظ ہے اور جلد ہی ملک سے روانہ ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ پیچیدگیاں ہیں جنہیں وہ ذرائع ابلاغ پر زیر بحث نہیں لاسکتے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی سزائے موت کی معطلی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ ادھر وزیراعظم نے غیرملکی صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں کل سے شروع ہونے والے انتخابات میں اگر بھارتیہ جنتا پارٹی جیت جاتی ہے تو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں کچھ پیشرفت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حزب اختلاف کی جماعت کانگریس آئندہ حکومت بناتی ہے تو وہ دائیں بازو کی شدید تنقید کے خدشے کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ کسی تنازعے کے حل کیلئے خوف کا شکار ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں مسلمان جو کئی برس پہلے بھارت میں حالات سے خوش تھے اب ہندو قوم پرستی کے باعث انتہائی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ایک سیاسی جدوجہد ہے اور اس تنازعے کا کوئی سیاسی حل نہیں ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان ، ملک میں تمام عسکریت پسند گروپوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور حکومت کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سوا کسی سابق حکومت نے دہشت گرد گروپوں کیخلاف کارروائی نہیں کی، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے مفاد میں دہشت گرد گروپوں کیخلاف کارروائی کررہاہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دس کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملکوں افغانستان، بھارت اور ایران کے ساتھ پر امن تعلقات ہوں۔

متعلقہ خبریں