انتقال اقتدار سے قبل ہی حزب اختلاف سڑکوں پر

10 اگست 2018

میں حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف حلف اٹھانے اور حکومت سازی سے قبل ہی پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر پانچ جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے رہنمائوں اور ان جماعتوں کے کارکنوں کااسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج انتخابی نتائج اور سب سے بڑھ کر الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔مقررین نے ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے ان کے نتائج کو ماننے سے انکار کیا ہے اور پارلیمانی انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے انتخابات صاف، شفاف نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہے اور پاکستان کی تمام پارٹیاں ان انتخابات کو نہیں مانتیں اور تمام مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ یہ فری اینڈ فئیر الیکشن نہیں تھے۔ اسی احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عوام پر دھاندلی زدہ وزیراعظم مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف ان کی جماعت کی جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ سکولوں اور کچرے کے ڈھیروں سے بیلٹ پیپربرآمد ہو رہے ہیں اور وہ اپنے مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے اعادہ کیا کہ وہ پوری دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے22کروڑ عوام ان انتخابات کو مسترد کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے ووٹ کو عزت نہیں دی انہوں نے پاکستان کا نقصان کیا ہے، انہوں نے سب اداروں کا نقصان کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ قیادت کی ہدایت پر جے یو آئی کے کارکنوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کئی مقامات پر شاہراہیں بند کرکے احتجاج کیا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے پہلے احتجاجی پرو گرام میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے شرکت سے احتراز کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے جوانسال چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت نہیں کی۔ بہر حال حزب اختلاف کی جملہ سیاسی جماعتوں کی سینئر قیادت موجود تھی۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہوں نے اس احتجاج سے اتفاق کے باوجود شرکت نہ کرکے مفاہمانہ سیاست کے مواقع کے حوالے سے مثبت اشارے دئیے ہیں۔ قبل ازیں بھی محولہ قائدین کی جانب سے حتمی درجے کے احتجاج اسمبلیوں کے بائیکاٹ اور حلف نہ اٹھانے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا جو اس امر کاواضح اعلان تھا کہ محولہ سیاسی قائدین معاملات کو تحفظات کے باوجود ٹکرائو کی طرف نہیں لے جانا چاہتے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان جماعتوں کا انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے باوجود معقول تعداد میں نشستوں اور ووٹروں کے اعتماد کا حصول تو ہے ہی پی پی پی سندھ میں حکومت سازی کی آسان ترین پوزیشن میں ہے جبکہ پنجاب میں شکست کے باوجود مسلم لیگ(ن) آزاد اراکین کے پی ٹی آئی میں شمولیت کرنے یا کرانے سے قبل واحد اکثریتی جماعت تھی۔ علاوہ ازیں مرکز میں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے شہباز شریف امیدوار ہیں اور وہ متوقع قائد حزب اختلاف ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کا دھاندلی کے الزامات اور تحفظات کے باوجود ذمہ دارانہ رویہ جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے ضمن میں مثبت طرز عمل کامظاہرہ ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے طرز عمل سے اس امر کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ ان کو پنجاب میں حکومت سازی شاید مطلوب نہیں اورو ہ تحریک انصاف کو اکھاڑے میں اتار کر ناکام بنانے کی حکمت عملی اختیار کرنے جارہی ہے مگر حزب اختلاف کو یہی فارمولہ مرکز میں منظور نہیں اور وہ انتخابی دھاندلی کے اپنے الزامات کو کسی مناسب فورم پر ثابت کرنے کی سعی میں ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ حکومت سازی سے قبل ہی آئندہ کی حکومت پر سیاسی و اخلاقی دبائو بڑھانے کی راہ پر چل نکلے ہیں گو کہ دیگر قائدین کا لب و لہجہ بھی کوئی کم نہ تھا مگر بہر حال انہوں نے موضوع میں ان کرداروں کا زیادہ تذکرہ نہیں کیا جن کو مولانا فضل الرحمن نے آڑے ہاتھوں لیا۔ مولانا فضل الرحمن کا اداروں کی مداخلت اور کردار سے لب و لہجہ تشویش کی حد تک جذباتی تھا جسے محض ہر انتخابات میں کامیاب ہونے والے شکست خوردہ سیاستدان کے دل کی بھڑاس قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا جیسے مصلحت پسند اور ہر سیاسی مسئلے اور بحران کا آئین کے تناظر اور ہنسی مذاق میں حل نکالنے والی شخصیت کے بدلے ہوئے تیور ملکی فضا کے لئے نیک شگون نہیں۔ ایک اعتدال پسند سیاستدان اور سیاسی جماعت کا انتہا پسندی کی طرف رجحان تشویش کا باعث امر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ گوکہ اس موقع پر سیاسی قائدین کا انتخابات بارے خیالات شدت کے حامل تھے لیکن سیاسی قیادت کی خوبی ہی یہ ہوتی ہے کہ جب اس کے تحفظات پر مل بیٹھ کر بات چیت کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو وہ اپنے موقف میں نرمی لانے میں زیادہ رد و کد نہیں کرتی۔ اس صورتحال میں موزوں راستہ یہی نظر آتا ہے کہ ان قائدین سے مذاکرات کئے جائیں اور ان کے تحفظات دور کرنے کے ان کے اعتراضات کو سنا جائے۔ سیاسی قائدین ہی کے الیکشن کمیشن کے حوالے سے تحفظات نہیں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے کمیشن کے حوالے سے اظہار خیال کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ سیاسی معاملات کو عدالتوں میں لے جانے کے نتائج سیاسی قیادت کے سامنے ہیں۔ جس قسم کی صورتحال دکھائی دیتی ہے اس کے تناظر میں نئی حکومت کے لئے اپنے ماضی کے تجربات کو ایک طرف رکھ کر سیاسی قائدین سے مل بیٹھ کر معاملات طے کرنا ہی موزوں قدم ہوگا تاکہ اسمبلی کے اندر کی مضبوط اور گھاک حزب اختلاف اور سڑکوں پر انتخابی عمل اور حکومت کے جواز پر اٹھائے جانے والے سوالات کا تدارک ہو۔ ایسا کرکے ہی حکومت چلائی جاسکتی ہے بصورت دیگر ہر طرف سے دبائو کی کیفیت کی کمزور حکومت وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوگی جو اس کا وہ اپنے منشور میں وعدہ کرچکے ہیں۔ حزب اختلاف حکومت کو اسمبلی کے اندر اور باہر الجھا کر رکھنے کی پالیسی میں تبدیلی اور شدت کا جو عندیہ دے رہی ہے وہ ملک و قوم کے لئے کوئی اچھی صورت نہ ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت فی الوقت جاری سیاسی مصروفیات کی تکمیل اور مصلحت و انتظار کی پالیسی چھوڑ کر حزب اختلاف کی شدت سے احتجاج کی حامی جماعتوں کیہم خیال بن جائے اس بحران کا ادراک ہونا چاہئے۔ سیاسی معاملات کا سیاسی حل تلاش کرنے میں تاخیر احسن نہ ہوگا۔

مزیدخبریں