Daily Mashriq

طلبہ کی خودکشیاں بے سبب نہیں

طلبہ کی خودکشیاں بے سبب نہیں

گزشتہ روز چترال میں تین طلبہ کا میڑک میںکم نمبر آنے پر خودکشی اور نوشہرہ میں کالج میں داخلہ نہ ملنے پر طالب علم کی نوشہرہ مردان پل کے عین وسط میں سرعام خودکشی کے واقعات جہاں کمزورا عصاب اور کسی حد تک دماغی عارضے کا سبب گردانے جا سکتے ہیں وہاں ان واقعات کا بنیادی سبب میرٹ میںآنے ہی کو زندگی اور موت کا سوال بنانا بھی ہے ۔ اس صورتحال کے ذمہ دارصرف والدین ہی نہیں بلکہ نظام امتحان کے ساتھ ساتھ اساتذہ ، نجی سکولز کی انتظامیہ اور تجارتی بنیادوں پر ٹیوشن پڑھانے کے مراکز بھی اس طرح کی صورتحال پیدا کرنے کے ذمہ دارہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صحت مند مقابلہ کی فضا پیدا کرنا معیوب نہیں لیکن جس طرح اشتہاربازی کے ذریعے کم نمبر لینے والے طلبہ کونفسیاتی طور پر احساس کمتری کا شکار بنایا جارہا ہے اس سے طلبہ کا ذہنی طور پر دبائو کا شکار ہونا فطری امر ہے۔ ہر ماں باپ اپنے بچوں کا داخلہ ان مہنگے سکولوں میں نہیں کر سکتے جہاں داخلہ لینا ہی اچھے نمبروں کی ضمانت گردانا جاتا ہے جن طلبہ کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی ان پر نفسیاتی اثرات بیزاری اور بغاوت کی کیفیت کا شکار ہونا فطری امر ہے جس کی ذمہ داری متذکرہ عناصر پر عائد ہوتی ہے اسے بد قسمتی ہی گردانا جائے گا کہ حکومت تمام تر دعوئوں کے باوجود طالب علموں کو یکساں مواقع تعلیم اور مطلوبہ سہولیات دینے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہیں نظام امتحانات کی شفافیت اور نا انصافی اپنی جگہ اداس کن ہے ماں باپ کا دبائو معاشرے کے سوالات نے طلبہ کو ریس کے گھوڑوں کی سی حیثیت دی ہے جس میں پیچھے رہنے والا شکست خوردہ اور ناکام ٹھہرتا ہے ۔ نوشہرہ کے نوجوان طالب علم کے طرز خودکشی کا نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو مصروف سڑک پر پل پر کھڑے خود کو گولی مار دینے کا اقدام سوائے اس کے اور کس اظہار کا باعث ہے کہ وہ اس معاشرے کی ناانصافیوں اور ناکامیوں کے ردعمل میں سرعام خود کو گولی مار کر ہلاک کر رہے ہیں ۔ صورتحال ایسی نازک ہوگئی ہے کہ اب والدین بچوں کی معمولی سرزنش سے بھی خوف کھانے لگے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرتی بگاڑ میں اضافہ اور تعلیمی معیار متاثر ہورہا ہے ۔ سرکاری طور پر مختلف درجے میں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کی استعداد کے مطابق تعلیم وروزگار کی فراہمی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ ناکامیوں کے خوف سے زندگی کا خاتمہ کرنے جیسے انتہائی اقدام پر مجبور نہ ہوں ۔

قبائلی ڈاکٹروں کو ان کے اضلاع میں تعینات کرنے کا فیصلہ

قبائلی علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے نئے اضلاع میں قبائلی ڈو میسائل رکھنے والے ڈاکٹروں کی تقرری کا فیصلہ احسن ہے۔ جن ڈاکٹروں نے قبائلی کوٹہ پر نشستیں حاصل کیں اور جن اضلاع سے ان کا تعلق ہے ان اضلاع میں جا کر وہاں کے عوام کی خدمت اور مریضوں کا علاج کرنا بھی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہمارے تئیں صرف قبائلی ڈاکٹروں ہی کو نہیں بلکہ صوبے کے دور دراز اور دشوار اضلاع اور علاقوں میں پہلی ترجیح کے طور پر مقامی ڈاکٹروں کا تقرر کیا جائے اور جب تک ان کا متبادل نہ ملے ان کا تبادلہ نہ کیاجائے۔

متعلقہ خبریں