Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

قاضی تنوخیؒ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو جس پر سزا واجب ہوچکی تھی‘ قید کیا گیا۔ پھر عدالت نے اس کی گردن اڑانے کا حکم دے دیا۔

ایک شخص نے کہا: ’’ میں جیل میں اپنے ایک دوست سے ملنے گیا تھا تاکہ اس کا حال چال معلوم کرسکوں۔ تو میں نے اس آدمی کو شطرنج کھیلتے ہوئے دیکھا‘ جس کی گردن اڑانے کا حکم دیاگیا تھا۔‘‘

میں نے جیل میں اپنے دوست سے یہ بات کہی اور مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ اس شطرنج کھیلنے والے کی گردن اڑانے کا حکم دیاگیا ہے کہ:

’’ یہ انسان کتنا لا پروا ہے‘ قیدی ہونے کے باوجود شطرنج کھیل رہا ہے‘‘۔

میرے دوست نے کہا: وہ یہی تو ہے جس کی گردن اڑانے کا حکم دیاگیا ہے‘‘۔

مجھے بہت زیادہ تعجب ہوا۔ ہم جو باتیں کر رہے تھے وہ آدمی اسے سن رہا تھا تو اس نے شطرنج کی گوٹیوں میں سے ایک گوٹ کو اٹھایا اور کہنے لگا: ’’ یہ زمین میں کہاں گرے گی‘ سو اس کے لئے ہزار راستے ہیں اور اپنے ہاتھ سے گوٹ کو پھینک دیا۔‘‘

میں جیل سے باہر نکلا اور اس کی بات پر سوچتا رہا تو اس دن شام کو فوج نے فتنہ و فساد برپا کرکے بغاوت کی‘ قید خانے کھول دئیے گئے اور اس آدمی سمیت سارے قیدی رہا کردئیے گئے اور حق تعالیٰ نے اس کو قتل ہونے سے بچا لیاکیونکہ اس نے اللہ پر توکل کیا تھا۔ (الفرج بعد الشدۃ التنوخی 4/126:)

حضرت شفیق بلخیؒ سے ایک شخص نے عرض کی کہ حضرت! میں آپ کو کچھ ہدیہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ اس سے اپنی ضروریات خرید سکیں۔

آپ نے فرمایا: اگر تم میں پانچ عیوب نہ ہوتے تو میں آپ کا ہدیہ قبول کرلیتا‘ ایک یہ کہ ایسا کرنے سے تمہارا مال کم ہو جائے گا‘ دوسرے اس بات کا امکان ہے کہ چور میرے پاس تمہارا ہدیہ چوری کرلیں گے‘ تیسرے یہ کہ ہوسکتا ہے کہ تم پشیمان ہو جائو‘ چوتھے اس بات کا امکان ہے کہ شاید تم مجھ میں کوئی عیب دیکھو تو کہو کہ میرا مال واپس دے دو‘ پانچویں یہ کہ کیا عجب ہے جب تمہاری موت آجائے اور میں بے سر و سامان ہو جائوں لیکن میرا ایک خدا ہے جو ان تمام عیوب سے پاک ہے‘ اس لئے میں اپنے رب سے مانگتا ہوں۔ (مخزن اخلاق)

حضرت ابو یزید بسطامیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: (یا الٰہی) میں آپ کو کیسے پاسکوں گا؟ رب تعالیٰ نے فرمایا:نفس کی اتباع چھوڑ کر میری طرف آئو۔ (یعنی پھر مجھے پالو گے)

اتباع نفس و خواہشات نفس کے اتباع نے مسلمانوں کو برباد کردیا ہے۔ ابو یزیدؒ کے اس خواب میں یہ اہم بات بتلائی گئی ہے کہ اتباع نفس چھوڑنے سے اور اصلاح نفس سے رب تعالیٰ کا قرب حاصل ہوسکتا ہے‘ اسی طرح اتباع نفس کے ترک سے رب تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور جنت حاصل ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں