Daily Mashriq

جمہوری رویہ کی ضرورت

جمہوری رویہ کی ضرورت

عمران خان کی قیادت میں جب پاکستان کی ٹیم نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تو وہ پاکستان کے ہیرو قرار پائے انہوں نے بڑی محنت کی، ایک ایسی ٹیم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا جس نے ورلڈ کپ جیتا ۔ ہر کھلاڑی نے اپنی جگہ ٹیم کی جیت کیلئے کام کیا۔ عمران خان یقیناًہیرو ہیں لیکن ورلڈ کپ پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے جیتا۔ عمران خان نے اس وقت سیاسی پارٹی بنائی جب سیاسی پنڈت اس پارٹی کو شمار ہی نہ کرتے تھے۔ عمران خان اور اس کے ساتھ جو لوگ چل رہے تھے انہوں نے22 سال لگن کے ساتھ محنت کی مستقل مزاجی سے کام کیا۔ کچھ لوگ راستے میں ساتھ چھوڑ بھی گئے لیکن ہم سفر آتے رہے اور قافلہ بنتا گیا۔ آج ان کی پاکستان تحریک انصاف ایسی سیاسی جماعت ہے جو مرکز میں اور پنجاب میں حکومت سازی کی اہلیت کی حامل قرار دی جارہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ عمران خان کی تحریک انصاف نے کرپشن کے خاتمے کو اپنی سیاسی جدوجہد کا محور بنایا۔ یقیناً کرپشن ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے پاکستان میں یہ مسئلہ نمایاں ہے لیکن دیگر ملکوں میں بھی کرپشن کے خلاف سیاسی رائے قوی ہے۔ پاناما پیپرز کے انکشافا ت کے بعد دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بڑے بڑے اور مقبول سیاسی لیڈر بدنام ہوئے اور اقتدار سے محروم ہوئے۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ نے دنیا بھر کی جمہوریتوں کیلئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ اس آگہی کے نتیجے میں آرگنائزیشن آف اکنامک ڈویلپمنٹ اینڈ کوآپریشن کے نام سے ایک بین الاقوامی تنظیم قائم ہوئی جس میں پاکستان بھی (کچھ دیر بعد) شامل ہوا اور اب چند ہفتے میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے اس تنظیم سے بھی پاکستان کو معلومات ملنا شروع ہو جائیں گی۔ برطانیہ نے پاکستان کو ان پاکستانیوں کی فہرست فراہم کر دی ہے جس کے کاروبار برطانیہ میں ہیں اور وہ ان سے منافع کما رہے ہیں۔ سوئٹرز لینڈ کے بینک جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ کبھی اپنے گاہکوں کے اثاثوں کو ظاہر نہیں کرتے انہوں نے بھی اس رازداری سے دست برداری حاصل کرلی ہے۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف عمران خان نے جدوجہداس عالمی لہر سے بہت پہلے شروع کی تھی تاہم گزشتہ چند سال سے خاص طور پر پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد اس لہر نے عمران خان کی جدوجہد کو بھی کئی حوالوں سے تقویت بخشی ہے اور تاریخ نے انہیں اس قوم کی تقدیر بدلنے کا موقع دیا ہے۔ اگرچہ منتخب اداروں میں ان کو وہ قوت حاصل نہیں ہو سکی جو ان کے لئے آسانیاں فراہم کرسکے تاہم عمران خان ایک کامیاب لیڈر ہیں ۔ عمران خان نے متوقع وزیراعظم کی حیثیت پانے کے بعد دو اہم تقریریں کی ہیں ایک میں انہوں نے خارجہ پالیسی کے مسائل پر زیادہ توجہ دی ہے اور دوسری جس میں انہوں نے خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کو مخاطب کیا ہے اور تیسرے انہوں نے بغیر پروٹوکول نیب عدالت میں پیش ہوکر عملی طور پر اپنے سیاسی رویئے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پروٹوکول لینے سے انکار کیا ہے۔ حفاظتی دستہ ساتھ لینے سے انکار کیا۔ وہ عدالت میں ایک عام آدمی کی طرح پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے شان و شوکت اورنمودونمائش پر خطیر رقم نہیں لگائی جاسکتی۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ درمیانی سطح کے مکان میں رہیں گے۔ ان کا اور ان کی پارٹی کا اصلی کام لوگوں کے مسائل حل کرنا‘ پاکستان کو مستحکم اور خوشحال پاکستان بنانے کی کوشش کرنا ہے۔ عمران خان اب فرد واحد نہیں رہے ہیں۔ اب وہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد پوری پاکستانی قوم کے وزیراعظم بننے جارہے ہیں۔ انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کو کسی خطرے میں ڈال دیں۔ وہ اپنے ساتھ مصاحبوں کی کاروں کی قطار یں نہ چلنے دیں لیکن وزیراعظم کا ضروری عملہ اور حفاظتی دستہ لینے سے انکار مناسب نہیں۔ وہ خود اپنی سیکورٹی کے ذمہ دار نہیں بلکہ ان کی سیکورٹی کے ذمہ دار متعلقہ ادارے ہیں۔ یہ انہیں طے کرنا چاہیے کہ و ہ وزیراعظم کی سیکورٹی کیلئے کب ‘ کہاں ‘ کیا انتظام کرتے ہیں۔وزیراعظم کی اس خواہش کا احترام کرنا ان اداروں کا فرض ہونا چاہیے کہ وزیراعظم کے قافلے کے ساتھ شان و شوکت اور کروفر کا عنصر نہ ہو۔ وزیراعظم کے قافلے کی وجہ سے عوام کے راستے بند نہ ہوں۔ لیکن پاکستان کے وزیراعظم کی سیکورٹی کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا ہے کہ احتساب ان کی ذات سے شروع ہوگا اور اسکے بعد وزیروں تک جائے گا۔ احتساب مخصوص اداروں اور عہدیداروں تک محدود نہیں بلکہ احتساب سسٹم کا حصہ ہونا چاہیے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ نہیں ہوں گے۔ صوابدیدی فنڈز کی حکمت عملی بنائی جانی چاہیے۔اصولی طورپرصوابدیدی فنڈ کہ حکمت یہ ہے کہبیورو کریسی کے لال فیتے کو ناکام بناتے ہوئے عوام کا پیسہ عوامی مسائل کے حل پر براہ راست خرچ ہو۔ اس مقصد کیلئے ایک طرف آڈٹ کا نظام بہتر بنایا جاسکتا ہے دوسری طرف پارٹی کے ارکان اور کارکنوں کو فعال بنایا جاسکتاہے کہ وہ ان فنڈز کے استعمال کے بارے میں اعلیٰ قیادت کو اطلاع دیں۔عمران خان اور تحریک انصاف کا ایک بہت بڑا چیلنج یہ ہے کہ حکومت سازی تک پہنچنے کے بعد پارٹی کو ہر سطح پر جمہوریت کے نفاذ کیلئے فعال کیا جائے۔ جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی میں عددی اکثریت کے بل پر دھڑے بندی کو فروغ حاصل ہو جائے بلکہ پارٹی کو ہر سطح پر نظریہ اور اہداف کے حوالے سے مکالمہکو فروغ دیا جائے۔عوام کی سطح سے مرکزی قیادت کی سطح تک اور مرکزی قیادت سے نچلی سطح تک رابطہ قائم کیا جائے‘ قوم کو جمہوری رویہ اور جمہوری پارٹیوں کی ضرورت ہے۔پاکستان میں ہیروپرستی کی بجائے جمہوری رویہ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس میں عام آدمی کی صلاحیتیں جلاپائیں اور اکابر کے نقوش قدم سے اپنی راہیں روشن کرنے والوں کی بڑی تعداد وجود میں آئے۔

متعلقہ خبریں