Daily Mashriq


چہرے بدلتے ہیں یہاں نظام نہیں

چہرے بدلتے ہیں یہاں نظام نہیں

انتخابی سیاست کی ہر بات نرالی ہوتی ہے دوست دشمن‘ حریف حلیف اور حلیف حریف بنتے ہیں تو دشمن بھی دوستوں کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں۔ کیا وقت آن پڑا ہے۔ تحریک انصاف زندہ لاشوں کی چھ قومی نشستوں کی اسیر ہے اور پیپلز پارٹی اے آر ڈی و میثاق جمہوریت کے کریا کرم کے بعد پھر سے نون لیگ کی سیاسی رفیق‘ تحریک انصاف ہو کہ پیپلز پارٹی کامل آزاد ہیں اپنے سیاسی فیصلوں‘ اتحادیوں کے چنائو اور آگے بڑھنے میں۔ ہم اور آپ کاہے کو اعتراض کریں۔ پیپلز پارٹی کے دوست سوشل میڈیا پر اس طالب علم کی تنقید کا جواب تحمل سے دیتے ہیں انصافی عزیز کلہاڑے تھامے خان کے گستاخ کی ایک سزا سر تن سے جدا کے نعرے مارتے ہیں۔ میرے ایک عزیز سید زادے کی ہر تان بھٹوز کے حقارت بھرے تذکرے پر ٹوٹتی ہے۔ ناراض ہوتے ہیں جب یہ کہتا لکھتا ہوں کہ نیا مذہب‘ فرقہ اور جماعت‘ بندے کے اندر آتش بھر دیتا ہے۔ وفاداری کی نئی شناخت کو آسمانی تقدس عطا کرتے ہوئے ماضی کا ذکر حقارت سے کرنے والوں کے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ یہ سیاسی میدانوں کا المیہ نہیں بر صغیر کی مجموعی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجئے تشفی ہو جائے گی۔ جس سر زمین پر لوگ مذہب تبدیل کرکے اپنے اصل یعنی وطن‘ تاریخ‘ تہذیب و تمدن اور سماجی روایات سے کٹ جانے کے مرض میں مبتلا ہوں وہاں نئی سیاسی وفاداریوں کے بطن سے انتہا پسندی کے سوا کیا جنم لے گا؟ تحریک انصاف کے نوجوان لشکر کے زیادہ تر لشکریوں کا تعلق ان خاندانوں سے ہے جو عشروں تک پیپلز پارٹی یا پھر نون لیگ میں رہے اسی لئے انصافی نوجوانوں کی زبان دانی پر حیرانی نہیں ہوتی۔ البتہ بھٹو کا کفن اتارنے کے شوق میں مبتلا نئی نسل کی خدمت میں عرض ہے پہلے تاریخ پڑھ لیجئے۔ بھٹو صاحب سکندر مرزا کے دور میں عملی سیاست میں آئے تھے۔ جناح صاحب بھی پہلے کانگریس کے رکن ہوا کرتے تھے۔ سو سوال بھٹو کے سکندر مرزا کے دور میں سیاست میں آنے یا جناح صاحب کے سابق کانگریسی بلکہ کئی برسوں تک کانگریس و مسلم لیگ کا ایک وقت میں رکن رہنے کا نہیں بلکہ ان کے عملی سیاسی کردار کا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر عہد کی اپنی کڑواہٹ اور حقائق ہوتے ہیں انہیں جوتے نہیں مارے جا سکتے۔ عمران خان ماضی میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے اتحادی رہے۔ 2002ء والی اسمبلی میں انہوں نے ایم ایم اے سے تعاون بھی کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے جعلی ریفرنڈم کے پر جوش حامی بھی تھے۔ طالب علم ان کے اس ماضی کو نہیں حال کے عمل کو دیکھتا ہے اور ماضی کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ تحریک انصاف کے ایک کھلے ناقد اس کی سیاسی اٹھان اور زبان دانی پر معترض ہونے کے باوجود رائے یہی ہے کہ ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں نے انہیں ووٹ دئیے ہیں۔( انتخابی شکایات الگ موضوع ہے) ان دوستوں سے اتفاق نہیں کرتا جو یہ کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر انہیں 33فیصد ووٹ ملے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو 1970ء‘ 1988ء ‘1993ء اور2008ء میں ہمیں سمجھاتے تھے پیپلز پارٹی کو 33یا 34 فیصد ووٹ ملے ہیں مخالفوں کے ووٹ 66 یا 67 فیصد ہیں۔ فیصد کا یہ بھاشن پرانا ہوا۔ سچ یہ ہے کہ نون لیگ اسٹیبلشمنٹ کی پرانی محبوب جماعت ہے۔ پیپلز پارٹی نے 1988ء اور 1993ء والا اقتدار سمجھوتوں کے ساتھ قبول کیا‘ 2008ء میں اسے اقتدار دینا مجبوری بن گیا تھا۔ جنرل حمید گل نے جب اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا تھا تو وہ نارووال میں کسی مسجد کے پیش نماز نہیں ملتان میں کور کمانڈر تھے۔ اقتدار کے ایوان کا راستہ اسٹیبلشمنٹ کے کوچے سے نکلتا ہے۔ یہی تلخ حقیقت ہے اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں طبقاتی جمہوریت کی جگہ عوامی جمہوریت کیوں نہیں لے پائی۔ افسوس ہم اس پر غور نہیں کرتے۔ ہوتا یہ ہے کہ ہمارے دوست محفوظ جان جیسا سکہ بند سیاسی کارکن بھی جذباتی ہو کر زرداری پر ڈیل کی پھبتی کس دیتا ہے۔یہ جو ہمارے دیس کی سیاست ہے اس کی ہر ادا نرالی ہے سیاسی مسافروں کے خاندان تحریک انصاف میں گئے اور تقدس مآب ٹھہرے مخالف اگر اتحاد بنائیں تو زمانے کی ہر گالی ان کا مقدر۔ عمران خان کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ سیاسی عمل میں برداشت اور شائستگی لائیں۔ باقی مسائل بھی ہیں۔ حکومت سازی کے بعد انہیں ان پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ 2008ء سے 2013ء کے درمیان نون لیگ نے کیانی پاشا چودھری کے سہارے اپوزیشن کی اب ایسے سر پرست دستیاب نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ متحدہ حزب اختلاف سے اے آر ڈی والا کام لیتی ہے یا واقعتا سنجیدہ ہے حزب اختلاف کی سیاست کے لئے؟ آسان جواب یہ ہے کہ تحفظات کے باوجود اس کے عمل کو دیکھنا پڑے گا رہی پیپلز پارٹی تو اس کی قیادت کے پاس سندھ میں حکمرانی ہوگی‘ وفاق ‘ پنجاب اور پختونخوا میں اپوزیشن کی شناخت توازن قائم رکھنا اس کے لئے بھی ضروری ہوگا۔ مکرر عرض ہے دوست و دشمن اور حریف و حلیف تبدیل ہوتے ہیں یہی مروجہ سیاست ہے۔ اپنے گریبان میں دیکھے بغیر دوسروں پر پبھتیوں کی بھرمار درست نہیں۔ وقت روکے نہیں رکتا۔ معاملات چلنے دیجئے۔ طبقاتی نظام میں چہرے تبدیل ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں طبقاتی نظام کا لشکر وہی ہوتا ہے قائد تبدیل ہوتا ہے۔ تبدیلی یہی ہے اس سے آگے کیا تبدیلی ہوگی انتظار کیجئے۔

متعلقہ خبریں