Daily Mashriq


کاش یہ امید باقی رہے

کاش یہ امید باقی رہے

130BCکے ایک فلاسفر پولی بیئس (Poly bius)نے جمہوریت اور بڑے لیڈروں کے حوالے سے لکھتے ہوئے کہا تھا ’’وہ لوگ جنہیں دوسروں کے حال پر زندگی گزارنے کی عادت ہو جاتی ہے ۔ وہ معاشرتی تنزلی کایوں شکار ہوتے ہیں کہ غیر مہذب اور وحشی ہو جاتے ہیں اور ایک بار پھر اپنے لیے کوئی مالک یا بادشاہ تلاش کرنے لگتے ہیں‘‘۔

ان انتخابات سے پہلے اس ملک کے عوام اور اس کے حکمرانوں کو دیکھئے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے لیے مالک یا بادشاہ تلاش کرلئے تھے ۔ ان بادشاہوں کو برس ہا برس ہم نے اپنے کاندھوں پر اٹھا کر رکھا ہے ۔ انہوں نے ہمیں بار بار ہر بار لوٹا ہے ۔ کئی تجزیہ نگاروں نے سالہاسال اس اچنبھے کا اظہار بھی کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ اپنے لئے کوئی اچھا حکمران نہیں چُن سکتے ۔ کئی بار اس حیرانی میں، میں خود بھی شامل رہی کہ اس قدر سیاسی سمجھ بوجھ اور آگہی جو بظاہر دکھائی دیتی ہے ، کے باوجود ہمارے فیصلے ہمیشہ ہی غلط رہے ۔ وہی جو ہمیں لوٹتے تھے ہم نہایت خوشی سے انہیں ہی ووٹ دیا کرتے تھے ۔ اگر چہ میری تو یہ بساط نہیں کہ وقت کے معاشرت دان جب اس ساری صورتحال کا تجزیہ کرینگے تو یقینا کئی نتیجے اخذ کرینگے ۔ شاید کہیں اس بات کا بھی ذکر آئے کہ اپنی ہی وحشت کے سدباب کے لیے ہم شاہ پرست بن گئے تھے جس نے ہمیں اور بھی بگاڑ کا شکار کردیا تھا ۔ اب جو انتخابی نتائج ہمارے سامنے آئے ہیں ان میں بھی کوئی اچنبھے اور حیرت کی بات محسوس نہیں ہوتی کیونکہ گزشتہ پانچ سالوں میں عمران خان کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انہوں نے اس ملک کے لوگوں کو آگہی بخشی ہے ۔ اس بات کی آگہی کہ وہ جس وحشت اور کسمپرسی کا شکار ہیں ، وہ جس پریشانی سے ہر لمحہ گزررہے ہیں اس کی وجہ یہ حکمران ہیں جنہیں دوسروں کے مال پر زندگی گزارنے کی عادت ہو چکی ہے ۔ اور بات صرف حکمرانوں تک ہی محدود نہیں ہے ۔ اس ملک کا ہر آدمی مقدور بھر اسی عادت میں مبتلا ہے ۔ ہر ایک کی خواہش ہے کہ وہ دوسرے کا حق مارے ، اسے کوئی بھی لبادہ پہنایا جائے ، الفاظ کے کیئے بھی پھیراسکے گرد پھیر دیئے جائیں ہم اسے معاشرے میں عدم برداشت کے رجحانات کہیں یا بد عنوانی میں شامل ہوجانے کی خواہش بات گھوم پھر کر وہیں آنکلتی ہے لوگ خود محنت نہیں کرنا چاہتے ۔ لوگوں کے مال میں اپناحصہ چاہتے ہیں ۔ اور ایک عجب گھن چکر ہے جو معاشرہ بن کر رہ گیا ہے ۔ ناانصافی ہے کیونکہ ہر ایک کا ہاتھ دوسرے کی جیب میں ہے اور ناانصافی کے ہی باعث یہ ممکن ہے ۔ اسی ناانصافی سے غربت ہے اور غربت کسمپرسی کو جنم دیتی ہے ۔ کسمپرسی سے پھر یہ رویہ جنم لیتا ہے کہ کسی طور دوسرے کے مال سے ذاتی فائدہ حاصل کیا جائے اور نا انصافی ہے جو ان سب باتوں کو اور بھی مہمیز کرتی ہے ۔ ہم پر اللہ کا احسان ہوا ہے کہ ہماری آنکھیں کھل گئیں ہیں ۔ ہمیں دکھائی دینے لگاہے ۔ اپنے ستم اگر دکھائی دینے لگ جائیں تو ان میں تبدیلی اور بہتری دونوں ہی ممکن ہو جاتی ہیں ۔ میں نہیں جانتی کہ عمران خان اگلے پانچ سالوں میں کیا کریں گے ؟ میں نہیں جانتی کہ اس ملک کے ساتھ بھلائی ہو بھی پائے گی یا ہم امید گنوابیٹھیں گے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ عوام اور حکمرانوں کا رشتہ لازم وملزوم ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے ناراض ہوجائے تو اس پر برے حکمران مسلط کر دیتا ہے اور عوام اپنے حکمرانوں کے مذہب پر ہوتے ہیں ۔ میں اتنا بھی نہیں سمجھ سکتی کہ اب ہم کس دور میں داخل ہونے والے ہیں، میں بس اتنا جانتی ہوںکہ میں اپنے ارد گرد لوگوں کے چہروں پر امید دیکھ سکتی ہوں ۔ وہی پیشانیاں جنہیں دھویں میں اٹے بدحال دیکھا ہے ،میں انہی پیشانیوں کو صاف دیکھ رہی ہوں ۔ وہ لوگ جنہیں میں نے درختوں کی شاخوں کو یونہی گزرتے ہوئے کھینچ کر توڑتے دیکھا ہے وہ درخت لگانے کی بات کرتے ہیں ۔ وہ لوگ جنہیں میں نے اپنے کانوں سے نظام کو گالیاں دیتے سنا ہے ، وہ اب نہایت فراخدلی سے کہتے ہیں کہ نظام تو ہم ہی ہیں ہم بدلیں گے تو سب بدل جائے گا ۔ یہ امید کمال ہے ، یہ تبدیلی کمال ہے ۔ یہ بہتری کی خواہش کمال ہے ۔ یہ جملے کمال ہیں جو مجھے اپنے ارد گرد بکھرے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں ان پر خوش ہوں اور یہ مسلسل دُعا کرتی ہوں کہ یہ جملے قائم رہیں ، یہ لہجے ایسے ہی مسکراتے رہیں ، یہ امید باقی رہے یہ جذبے ایسے ہی زندہ ومتحرک رہیں ۔ ہم اب حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔ اور اپنے حصے کا کام کریں ۔ اب دوسروں کے حال کو دانت نکوس کر دیکھنے کے بجائے ، اس پر حملہ کرنے کی خواہش رکھنے کے بجائے اورپھر وحشت ودرندگی کے اس مقام تک تنزیل کے بجائے جہاں ہمیں مالکوں کی ضرورت پڑے ، ہم خود انسان بن سکیں ۔ اگر عمران خان کی محبت میں ، یا ان کی سادگی سے متاثر ہو کر یا پھر ان کی قیادت میں ہم اتنا ہی کرسکیں تو شاید اس سے بہتر کوئی اور بات نہیں ۔ اگر عمران خان کچھ بھی نہ کر پائیں بس ہمارے اندر خودی کا احساس جاگ جائے تو اتنا ہی کافی ہے ۔ گداگر اپنی پسند کی بھیک نہیں مانگتے اور ہمیں تو عادت ڈالی گئی ہے ۔ کچھ ہم خود راضی بہ رضا تھے ۔ بس یہ رویئے ہی بدل جائیں تو سب ٹھیک ہوجائے ۔ امید ہے اس امید میں خوشی ہے ۔ کاش یہ امید باقی رہے ۔

متعلقہ خبریں