Daily Mashriq

پوچھو کھیت کی سنو کھلیان کی

پوچھو کھیت کی سنو کھلیان کی

؎ ان دنو ں میڈیا پر یہ چرچا ہے کہ متو قع وزیر اعظم عمر ان خان کو بہت سار یچیلنجز کا سامنا ہے ، اس میں شک نہیں ہے کہ ہر نئی بننے والی حکومت کو چیلنجز کا سامنا ہوا کرتا ہے ، انتخابات میں جو سیاسی جماعتیں حصّہ لیا کر تی ہیں وہ پہلے سے ان مشکلا ت اور تکا لیف کا ادرا ک لیے ہوتی ہیں چنا نچہ کوئی پا رٹی ایںوے انتخابات میں نہیں کو دا کرتی وہ ان تما م چیلنجزکا سامنا اپنی صلا حیتو ں سے کرنے کا عزم لے کر معرکہ انتخابات میں کودا کرتی ہے ، یہ انو کھی بات نہیں ہے کہ یہ راگ الا پا جا رہا ہے کہ آئندہ حکومت کو بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا ، انہی چیلنجز کوشکست دینے کے لیے سیا سی جماعتیں پہلے سے تیا ریا ں کیا کرتی ہیںجس کا وہ اظہار اپنے منشور کے ذریعے کرتی ہیں مثلا ًپا کستان میں ایک بڑا مسئلہ غربت کا ہے جس کی بنیا دی وجہ بے روزگا ری ہے ، متوقع وزیر اعظم عمر ان خان نے غربت کے خاتمے کے لیے ایک سہانا پر وگرام اپنے منشورمیں پہلے ہی دید یا ہے۔ ان کا قوم سے وعدہ ہے کہ وہ برسر اقتدار آکر ایک کروڑ ملا زمتیں فراہم کر یں گے ، جب وہ اپنے اس پر وگرام پر عمل کر یں گے تویقینا پاکستان خوشحالی کی صف میںشامل ہو جا ئے گا اب صرف عمل کی بات رہ گئی ہے، جو عناصر مشکلا ت ، چیلنجز یا دشواریو ں کا رٹا لگا رہے ہیں یا تو وہ عوام کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان مشکلا ت کی مو جو دگی میں عمر ان خا ن نے جو وعدے کر رکھے ہیں ان کو پورا کر نا پوری طرح ممکن نہیں ہوگا یا پھر یہ آگاہی پھیلا رہے ہیں کہ عمران خا ن میں چیلنجزسے نمٹنے کی صلا حیت نہیں ہے ۔ عمران خان ماضی میں کرکٹ ٹیم کے محض کھلا ڑی نہیں تھے بلکہ وہ ایک کا میا ب کپتان بھی ثابت ہو ئے ہیں۔ ان کی قیا دت میں پا کستان کی کر کٹ ٹیم نے ورلڈ کپ کا میدا ن ما را ۔ اگر 1992ء کے ورلڈ کپ کا تجزیہ کیا جا ئے تو شروع شروع میں پاکستانی کر کٹ ٹیم کی کا رکر دگی مایوس کن تھی ایسا نظر آتا تھا کہ پا کستانی ٹیم ٹورنا منٹ سے یکسر باہر ہو جا ئے گی مگر سیمی فائنل ، پھر فائنل میں جو کھیل ہوا اس سے ثابت ہو ا کہ خوش قسمتی بھی ساتھ دیتی ہے ۔ اب بھی ان کے سامنے مختلف اشکا ل میں ہیبت ناک عفریت قدم قد م پر کھڑے نظر آجا تے ہیں لیکن ہر بار یہ رکا وٹیں خوش قسمتی سے دور ہو جا تی ہیں ، مثلاًلا ہو ر کے حلقہ 131سے سعد رفیق کے مقابلے میں تقریباً 858 ووٹوں سے کا میا ب ہو ئے تھے مگر سعد رفیق کی جانب سے حلقہ کھلوانے کی درخواست پر چند تھیلو ں کی گنتی ہوئی تو اس میں عمر ان خان کے ووٹ کم ہو کر 680کی برتری رہ گئی ، جس پر سعد رفیق نے لا ہو ر ہائی کورٹ سے رجو ع کر کے اس کے حکم پر اپنے حلقے میں دوبارہ گنتی شروع کر ائی۔ ابھی گنتی ہو رہی تھی کہ اپنی زبان کا ایک مرتبہ پھر یو ٹرن لیا اور وہ سپریم کورٹ گنتی رکوانے چلے گئے اور سپریم کو رٹ نے ان کی درخواست پر لا ہو ر ہائی کو رٹ کا فیصلہ معطل کر دیا جس سے دوبارہ گنتی کا عمل رک گیا ، خیر اب خان صاحب کے یوٹر ن کی پالیسی کے عوام عادی ہو گئے ہیں، تاہم مفکر قلقلا خان کہتے ہیں کہ عوام کو اب یہ دعا کر نی چاہیے کہ خان اپنے منشور اور قوم کی قسمت سنوارنے کے دعوؤں وعدوں سے یو ٹرن نہ لیں ، لیکن ان کی حالیہ بعض تقاریر سے اندا زہ ہو تا ہے کہ وہ یو ٹرن کی پا لیسی کے مضمر ات ونقصانات کا ادراک رکھتے ہیں کیو ں کہ پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کی باقاعدہ نا مزدگی کے مو قع پر انہو ں نے جو خطا ب فرمایا تھا اس میں کہا تھا کہ روایتی حکمر انی نہیں ہو گی بصورت دیگر عوام اس کورد کردیں گے مثالی کا رکردگی دکھا نا ہو گی ۔ عمر ان خان نے اپنے انتخابی منشور کے اعلا ن کے وقت خارجہ پالیسی کا بھی اعلا ن کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ دباؤ سے پاک ، آزاد خارجہ پا لیسی پر عمل کر یں گے ساتھ ہی انہو ں نے عرب ممالک ، ایران ، اور بھارت کے ساتھ بہترین تعلقات کے قیا م بارے اپنے ارادوں کا ذکر کیا تھا بعد ازاںایک اور موقع پر انہو ں نے کہا کہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اپنا مصلحتی کردار ادا کر سکتے ہیں ، بہر حال یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کر تو توں کا بھی سامنا ہے ، پاکستان کا قرضے کے سلسلے میںآئی ایم ایف کے پاس جا نے سے پہلے امریکا نے یہ ڈگڈگی بجا دی ہے کہ جو قر ضہ پاکستان کو دیا جا ئے وہ چین کا قرضہ اتارنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔ امریکا نے یہ جو ڈونڈی پیٹی ہے وہ بظاہر یہ لگ رہی ہے کہ وہ یہ سمجھتاہے کہ پاکستان نے سی پیک کے منصوبہ کیلئے چین سے قرضہ لیا ہے، ایسا ہر گز نہیں ہے ، عمر ان خان جانتے ہیںکہ امر یکا اچھی طرح جا نتا ہے کہ اس رقم کا چین کے قر ضے سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کو اصل بیر سی پیک کے منصو بے سے ہے جس کی مروڑ میں اس طر ح کا ن دبانے کی سعی بد کی گئی ہے ، سی پیک کی مروڑ کچھ دوسری طاقتوں کوبھی ہے، جن سے عمر ان خان نے بہترین تعلقات کے قیام کی توقع کی ہے ، انہو ں نے اپنی جس خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کیے ہیں ، اس میں محسو س ہو رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ ان کا دور اقتدار سپھل رہے گا ، عمر ان خان کو نو از شریف سے زیادہ بھا رت میں مقبولیت حاصل ہے ، وہا ں کرکٹ کے شید ائی بھی بہت ہیں،علا وہ ازیں ، عمر ان خان نے بہتر تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ بھارت میں ان کے کافی دوست ہیں اس لیے توقع ہے کہ وہ مستحکم قدمو ں کے ساتھ بھارت کی طر ف سے دوستی کے ایک ہا تھ کے جواب میں دونو ں ہاتھ احتیا ط سے بڑھائیں گے نو از شریف کی طرح لڑکھڑا تے نہیں بڑھیںگے ورنہ مو دی کے یا ر کا طعنہ پھیل سکتا ہے ۔

اداریہ