Daily Mashriq

پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

کچھ متفرق خبروں میں بھی اتنی جان ہوتی ہے کہ انہیں کالم میں سمیٹ لیا جائے کہ بہرحال ان کے اندر معاشرے کی تصویر پنہاں ہوتی ہے ، قومی کرکٹ ٹیم کے آل رائونڈر محمد حفیظ کے بارے میں خبر آئی ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے رویئے سے ناخوش ہیں اور انہوں نے اے سے بی کیٹیگری میں منتقل کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سنٹرل کنٹریکٹ پر دستخط نہ کرنے کے ساتھ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز یہ خبر آ ئی تھی کہ پی سی بی نے نہ صرف انہیں اے سے بی کیٹیگری میں ڈال دیا ہے بلکہ انہیں سنٹرکانٹریکٹ بھی نہیں دیا گیا ۔ جس پرانہیں شدید تحفظات ہیں ، ان کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد حفیظ اس صورتحال سے خاصے دلبرداشتہ ہیں اور کرکٹ سے کنارہ کشی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں ۔
پیدا کئے تھے چرخ نے جو خاک چھان کے
وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیئے
بد قسمتی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات پر اکثر وبیشتر اس قسم کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں ۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب کسی سینئر کھلاڑی کے ساتھ اس قسم کا سلوک روا رکھا گیا ہو کہ وہ دل برداشتہ ہو کر کھیل ہی سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو یا کردیا گیا ہو۔ اس ضمن میں لاتعداد مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ تاہم گزشتہ دوتین برسوں کے دوران شاید آفریدی اور یونس خان کے ساتھ بار بار ٹیم سے باہر کرنے اور مجبوراً واپس بلانے کا جو کھیل رچایا گیا اس نے ان دونوں عظیم کھلاڑیوں کو بھی دل برداشتہ کرکے کبھی ریٹائرمنٹ کا اعلان اور پھر ان کی منتیں کرنے پر ریٹائرمنٹ کا اعلان واپس لے کر پھر قوم و ملک کی خدمت کیلئے کمر بستہ ہونے پر آمادہ کرنے پر مجبور کیا کیونکہ ان کا مطمح نظر بھی اپنی ذات سے زیادہ قومی خدمت کا جذبہ اور ملک کا نام روشن کرنا تھا ۔ جبکہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد شاہد آفریدی نے پریمئر لیگ کے نام سے کرکٹ میلے کو خوب رونق بخشی اور پہلے سیزن میں پشاور زلمے جبکہ اگلے سیزن میں کراچی کنگز کا حصہ بن کرپی سی بی کو جواب دیدیا۔
گل سے کوئی کہے کہ شگفتن سے بازآ
اس کو تو پھولنا ہے نہ پھولے تو کیا کرے
اب پی سی بی کا تازہ شکار آل رائونڈر محمد حفیظ ہیں جنہیں دنیائے کرکٹ میں پروفیسر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، ان کے ساتھ جس طرح کی واردات کی گئی ہے اس میں بھی دیکھا جائے تو تضحیک کا پہلو نمایا ں ہے ، یعنی ان سے صاف صاف تو نہیں کہا جا سکتا کہ اب ہمیں بخش دو ، آپ کے بغیر بھی ہم کرکٹ چلا ہی لیں گے ، تو آسان نسخہ یہ دریافت کرلیا گیا کہ ان کی درجہ بندی کو اوپر سے نیچے لایا گیا تاکہ اسے وہ اپنی بے عزتی سمجھتے ہوئے خود ہی سنٹرل کنٹریکٹ پر دستخط سے انکار کردیں او ریوں چند لوگوں کی مراد پوری ہو اور وہ ان کے فیصلے پر ’’خس کم جہاں پاک ‘‘کہہ کر ان پر ہی معاہدہ نہ کرنے کا الزام عاید کر کے جان چھڑائیں ۔ اس طریق واردات پر ہمیں اپنا ریڈیو کا دور یاد آگیا ۔ ریڈیو پاکستان پشاور کا ایک بہت ہی معقول پروگرام جو ابتداء میں 55منٹ کے نام سے شروع ہواتھا اور دن تین بج کر پانچ منٹ پر خبروں کے بعد شروع ہوتا تھا اور چار بجے تک یعنی 55منٹ تک نشر کیا جاتا تھا ، بعد میں اس کا نام بدل کر سب رنگ کر دیا گیا ۔ 1982ء میں جب ہمارا تبادلہ کوئٹہ سے ایک بار پھر پشاور کردیا گیا تو یہ پروگرام ہمارے حوالے کر دیا گیا ۔ اس کا سکرپٹ ایک پروفیسر صاحب طویل عرصے سے لکھتے تھے ، ان کا بھی اپنا طریق واردات تھا کہ ایک دفعہ سال بھر کے مسودے لکھ کرجو موسموں کے حوالے سے ، سماجی مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور کچھ طنز ومزاح کی چاشنی سے مزین ہوتے تھے ، انہوں نے سنبھال کر رکھے تھے ، وہ مسودہ لکھنے کیلئے کاغذ اور کاربن پیپر بھی ریڈیو سے حاصل کر کے گھر سے ہی اگلی صبح مسودہ بھیج دیتے تھے ، پھر بعد میں کئی برس سے وہ وہی مسودے بار بار کاپی کر کے بھیج دیتے تھے ، جس سے پروڈیوسر اور کمپیئر بھی واقف تھے مگر کوئی اعتراض کر کے مسئلہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا ، شروع شروع میں وہ پورے مہینے (اتوار کو پروگرام نشر نہیں ہوتا تھا ) یعنی 26دن سکرپٹ لکھتے تھے بعد میں ریڈیو کے قوانین میں تبدیلیوں کی وجہ سے ان کی خدمات صرف 21دن کیلئے حاصل کی جاتی تھیں اور باقی کے دن اس دور کے چند نوجوان لکھاریوں ڈاکٹر نذیر تبسم ، ناصر علی سید ، یوسف عزیززاہد اور طاہر پرواز میں تقسیم کئے جاتے ، مزید یہ کہ پروفیسر موصوف کو جتنی فیس ادا کی جاتی وہ بھی مروجہ فیس سٹرکچر میں درج رقم سے زیادہ تھی ، سٹیشن ڈائریکٹر نے ہمیں بلا کر کہا کہ ایسا کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ پروفیسر کی فیس بھی قانون کے دائرے میں لائی جائے اور وہ برا بھی نہ مانیں ، ہم نے انہیں کہا کہ اگر موصوف کے دن کم کردیئے جائیں تو وہ پروگرام خود بخود چھوڑ دیں گے ، بڑی سوچ بچار کے بعد اسی نسخے کو آزمانے کا فیصلہ کیا گیا اور جب اگلے مہینے انہیں 21دن کی بجائے 16دن کا کنٹریکٹ بھیج دیا گیا تو نتیجہ مثبت آگیا اور انہوں نے مزید لکھنے سے معذرت کرلی ۔ اب جو محمدحفیظ کی درجہ بندی میں کمی کا فیصلہ سامنے آیا ہے تو لگتا یہی ہے کہ پی سی بی کے متعلقہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے اور محمد حفیظ شاید مزید کھیلنے سے انکار کردے
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

اداریہ