Daily Mashriq

فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے

فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے

صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی کمی کو پوراکرنے کے لئے اساتذہ کی بھرتی کے لئے تعلیمی قابلیت کی شرط بی اے سے کم کرکے میٹرک کردی ہے جس کے بعد اب قبائلی بچوں کو میٹرک اور ایف اے پاس اساتذہ جدید نصاب پڑھائیں گے۔ صوبائی مشیر تعلیم کے مطابق قبائلی اضلاع میں پسماندگی کے پیش نظر اساتذہ کی بھرتی کے لئے تعلیمی قابلیت میں کمی کردی گئی ہے اور ان اضلاع میں پانچ ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے۔ ادھر ایک اور فیصلے کے مطابق سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو بھاری بستوں کے بوجھ سے چھٹکارا دلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے نویں' دسویں' گیارہویں اور باہویں جماعتوں کے طلباء اور طالبات کے لئے آن لائن کورسز شروع کئے جائیں گے۔ محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدام سے بچوں کے بستوں کاوزن کم ہو جائے گا جبکہ تجرباتی بنیادوں پر مذکورہ منصوبے کا آغاز پشاور سے کیا جائے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں اساتذہ کے لئے تعلیم کی شرط بی اے کی ڈگری سے کم کرکے بہت نیچے میٹرک تک لانے کے مضمرات پر اگر غور کیاجائے تو بہتر ہوگا' ایک تو خود محکمہ تعلیم کے ماہر اساتذہ ملک میں تعلیم کے معیار کو ذہن میں رکھ کر اگر ملک و قوم کے بہترین مفاد میں سوچیں تو یقینا انہیں ( یا جن لوگوں نے یہ مشورہ دیا ہے) اپنے مشورے پر عمل درآمد کے نقصانات واضح ہو کر دکھائی دینے لگیں گے۔ ہمارے ہاں تعلیم کا معیار پہلے ہی اس قدر پست ہے کہ عام میٹرک کا طالب علم تو ایک طرف ایف اے اور بی اے پاس لوگ ایک درخواست بھی مشکل سے لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں چہ جائیکہ ایک میٹریکولیٹ' ان کااپنا تعلیمی معیار اس قابل نہیں ہوتا کہ پوری نئی نسل کو ان کے حوالے کرکے زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی سوچ اپنالی جائے جو بچے ( یہ استثنائے چند) خود گھوٹا لگا کر میٹرک کی سند حاصل کرچکے ہوں ان سے یہ توقع کیوں کی جاسکتی ہے کہ وہ بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری پوری کرسکیں گے۔ دوسرے یہ کہ ابھی سے میٹرک پاس نوجوانوں کو سکولوں کالجوں سے بے دخل کرکے مزید تعلیم کے حصول کے لئے ان کو پیسے کے چکر میں ڈال دیا جائے تو کیا ہم اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو خود سوالیہ نشان بنانے کی کوشش نہیں کررہے ہیں؟ خدارا انہیں مزید پڑھنے دیجئے اور ملک کو آگے لے جانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی جانب مائل کریں۔ علاوہ ازیں بچوں کے بستوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے آن لائن تعلیم کا آغاز ایک اچھا اقدام تو ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کے علاوہ چھوٹی کلاسوں کے بچوں پر بھی کتابوں کابوجھ کم کرنے پر توجہ دینی چاہئے اور ان کے بستوں میں کتابوں کے ساتھ کاپیوں کی بھرمار پر نظر ثانی کرتے ہوئے آج سے بیس تیس سال پہلے کے تعلیمی نظام کے تحت تختی اور سلیٹ کو دوبارہ رائج کرنے پر غور کیاجائے۔ اس سے جہاں بستے کا بوجھ کم ہوگا بچوں کی تحریر خوبصورت ہوگی جبکہ غریب والدین کو اضافی کاپیاں خریدنے سے بھی چھٹکارہ ملے گا۔ ہمارے ہاں تعلیمی اخراجات میں روز بروز اضافے کی وجہ سے نہ صرف چھوٹے بچے کتابوں کاپیوں کا اضافی بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں بلکہ والدین کے اخراجات میں بھی معتدبہ اضافہ ہو رہا ہے' تختی اور سلیٹ کے استعمال سے بچوں کو خوشخطی کی مشق میں بھی آسانی ہوگی اور تعلیمی ماحول میں بھی ایک مثبت بدلائو آئے گا۔ امید ہے کہ مشیر تعلیم خیبر پختونخوا' ماہر اساتذہ کے ساتھ مشاورت کرکے ہماری گزارشات پرعمل درآمد کرنے کے لئے ضروری اقدام اٹھائیں گے' خصوصاً میٹرک پا س اساتذہ کو بھرتی کرنے کی پالیسی پرنظر ثانی کرکے ملک و قوم کے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے اور چھوٹے بچوں کے لئے بھی بستوں کے بھاری پن کو ختم کرنے کے لئے اقدام اٹھائیں گے۔

متعلقہ خبریں