Daily Mashriq

مریم نواز گرفتاری' کچھ پس پردہ حقائق

مریم نواز گرفتاری' کچھ پس پردہ حقائق

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو جمعرات کے روز کوٹ لکھپت جیل سے اس وقت گرفتار کرلیاگیا جب وہ اپنے والد سے ہفتہ وار ملاقات کر رہی تھیں۔ چودھری شوگر مل کیس میں نیب نے پچھلے ماہ انہیں طلب کرکے سوالنامہ دیا اور پھر ایک سوال نامہ ان کی قیام گاہ پر رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوایا گیا۔ دوبار بھیجے گئے سوال نامہ کا انہوں نے جواب نہیں دیا۔ نیب نے انہیں 8اگست کو تین بجے سپہر لاہور میں پیش ہونے کا سمن بھجوا دیا۔ ایسا ہی سمن ان کے مرحوم چچا عباس شریف کے صاحبزادے یوسف عباس کو بھی بھجوایاگیا۔ مریم نواز نے نیب لاہور کو تحریری طور پر اور اپنی ترجمان مریم اورنگزیب کے ذریعے ٹیلی فون پر آگاہ کیا کہ جمعرات 8اگست کو ایک سے تین بجے تک انہیں اپنے والد سے ہفتہ وار ملاقات کرنا ہے جو کوٹ لکھپت جیل میں بند ہیں اس لئے وہ 9اگست بروز جمعہ کو نیب آفس آئیں گی تاکہ سوالات کاجواب دے سکیں۔ مریم نواز کے اس جواب کے بعد آناً فاناً ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے پھر نیب کے مرکزی دفتر اسلام آباد سے ایک ٹیم وارنٹ لے کر لاہور پہنچی جہاں سے ایک مقامی ٹیم اور لیڈی پولیس اہلکاروں کے ساتھ نیب کاعملہ کوٹ لکھپت جیل پہنچا جہاں مریم نواز اپنے والد سے ملاقات کر رہی تھیں۔ نیب سے انہیں گرفتار کرکے لاہور آفس منتقل کردیا۔ کسی ملزم کی گرفتاری یقینا نیب کا اپنے قوانین کے تحت بجاہے لیکن ابھی تو نیب کو اپنے سوالنامے کاجواب درکار تھا۔ پھر نیب کو تحریری اور ٹیلی فونک ذریعے سے یہ اطلاع تھی کہ 8اگست کو مریم نواز نے جیل میں اپنے والد سے ملاقات کرنا ہے اس لئے وہ 9اگست کو پیش ہوں گی۔ ابتدائی تفتیش سے قبل گرفتاری کا فیصلہ کیوں ہوا؟ تین باتیں سامنے آرہی ہیں' اولاً یہ کہ اس گرفتاری کے لئے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے نیب حکام سے بات کی۔ ثانیاً یہ کہ حکومت مریم نواز کی سیاسی سرگرمیوں سے پریشان تھی۔ ثالثاً یہ کہ پاک بھارت کشمیر تنازعہ میں پیدا شدہ صورتحال کے بعد بعض اداروں نے اپنی رپورٹ میں حکومت کو آگاہ کیا '' چونکہ لاہور سے راولپنڈی کی درمیانی پٹی (علاقے) میں کشمیری مہاجرین کی اکثریت مقیم ہے' جی ٹی روڈ کے انتخابی حلقوں سے زیادہ نون لیگ کے امیدوار جیتے ہوئے ہیں اس لئے امکان ہے کہ نواز لیگ مسئلہ کشمیر کے معاملہ پر حکومت سے مختلف رائے اپناتے ہوئے جی ٹی روڈ پر سیاسی سرگرمیوں میں تحرک پیدا کرے اور ان سرگرمیوں کی قیادت مریم نواز نے کی تو جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف کے بڑے چھوٹے شہروں اور سیالکوٹ وغیرہ میں حکومت مخالف تحریک منظم ہوسکتی ہے جس سے مسائل پیدا ہوں گے۔

اداروں کی ان رپورٹس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے سات اور آٹھ اگست کی درمیانی شب نیب حکام سے رابطہ کیا اور مشاورت کے بعد مریم نواز کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا' با اعتماد ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ نیب حکام مریم نواز کی جانب سے تحریری اور ٹیلی فونک اطلاع دئیے جانے کے بعد اس امر پر آمادہ تھے کہ 9اگست کو جب وہ نیب آفس میں پیش ہونے کے لئے آئیں تو انہیں گرفتار کرلیا جائے۔ لیکن وزارت داخلہ کا موقف تھا کہ مریم نواز 9اگست کو بھی پیش نہیں ہوں گی بلکہ وہ لاہور اور گوجرانوالہ میں جمعہ کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہونے والے احتجاج میں شرکت کرکے حکومت کے لئے مسائل پیدا کریں گی اس لئے انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ وزارت داخلہ کے حکام مصر تھے کہ گرفتاری 8اگست کی صبح سویرے ہی کرلی جائے۔ بہر طور نیب حکام نے مریم نواز کی گرفتاری کے لئے 8 اگست کی صبح ساڑھے 9بجے فیصلہ کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے جس کے بعد نیب اسلام آباد کے مرکزی دفتر سے ایک ٹیم لاہور روانہ ہوگئی۔ باقی ماندہ تفصیلات بالائی سطور میں عرض کرچکا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ کو مریم نواز کی گرفتاری سے اتنی دلچسپی کیوں تھی؟ بظاہر اس کی ایک وجہ ہے وہ یہ کہ جناب اعجاز شاہ کو وفاقی وزیر داخلہ بنوانے والی قوتیں اپنے پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنوانے کی خواہش مند ہیں۔ ثانیاً یہ کہ خود پنجاب اور وفاق کی حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وسطی پنجاب کے اہم شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی غالب اکثریت نون لیگ کی ہمنوا ہے اور یہ اکثریت کشمیر پر بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارٹی پالیسی کے مطابق اس احتجاج کو مودی عمران گٹھ جوڑ کارنگ دے کر معاملات کو خراب کرسکتی ہے اس لئے اگر مریم نواز کو گرفتار کرلیا جائے تو احتجاج صرف مسئلہ کشمیر تک ہی محدود رہے گا۔

یہ بھی اطلاع ہے کہ مریم نواز کو بظاہر تو چودھری شوگر مل کے معاملات کے حوالے سے گرفتار کیا گیاہے مگر ان کی گرفتاری ان کے اکائونٹ میں قطر' دبئی اور سعودی عرب سے تین مختلف شخصیات کی طرف سے بھیجی گئی رقوم کی بنیاد پر ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طور پر یہ رقم 32 کروڑ روپے کے قریب ہے۔ پچھلی بار جب مریم نواز نیب میں پیش ہوئی تھیں تو ان سے تین مختلف ملکوں سے بھیجی گئی اس رقم بارے سوال کیاگیا جس کا انہوں نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ نیب کا سوال تھا کہ ان کے اکائونٹ میں رقم بھجوانے والے تین افراد اگر کاروباری پاٹنر نہیں ہیں اس کے دستاویزاتی شواہد فراہم کئے جائیں۔ نیب کا دعویٰ ہے کہ اس رقم میں سے ہی مریم نواز نے 1500کینال اراضی خریدی تھی۔ وہ جو اثاثے ظاہر کرتی ہیں وہ ان کی آمدنی کے ذرائع سے زیادہ ہیں۔ نیب کا موقف کہانیوں پر مبنی ہے یا ثبوت کی بنا پر ہر دو صورتوں میں وضاحت بہر طور مریم نواز کو ہی دینا ہے۔ یہاں اعتراض صرف یہ ہے کہ ان کی گرفتاری کے لئے جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ درست نہیں یہ گرفتاری 9اگست کو یا پھر 8اگست کی شام میں بھی ہوسکتی تھی۔ ان کے انڈر گراونڈ ہونے کا بھی خطرہ نہیں تھا کیونکہ کم از کم تین خفیہ اداروں کے اہلکاران قدم قدم پر ان کی سرگرمیوں کی رپورٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں