Daily Mashriq

گالیوں میں اثر دیکھا ہے

گالیوں میں اثر دیکھا ہے

بی بی کو گرفتار کرلیا گیا۔ افسوس ہوا کاش وہ قانون کی پاسداری کرتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پنگا لینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور نہ لگاتیں۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ درد اسی پیٹ میں اٹھتا ہے جس نے گاجریں کھانے میں احتیاط نہ برتی ہو۔ مریم بی بی کی تکلیف کا اندازہ ان کی ان چیخ و پکار سن کر بخوبی ہوجاتا تھا جو وہ ابو بچاؤ تحریک برپا کرکے گلی گلی اور قریہ قریہ پھر کر عوام کے جم غفیر کے سامنے زندہ مظاہرہ یا لائیو شو منعقد کر تی تھیں ۔ چادر اور چاردیواری کا ذرہ بھر خیال نہ رکھتیں۔ ستر اور پردے کو اپنے غصہ اور نفرتوں کی بھاڑ میں جھونک دیتیں۔ قانون ساز اسمبلیوں کے بنائے ہوئے قوانین تو قوانین اسلامی اقدار اور دینی قوانین اور ضابطوں کو بھی خاطر میں لائے بغیر ہر وہ حرکت کر بیٹھتیں جسے دیکھ کر ان کے عالم وارفتگی پر مر کر مٹ جانے کو دل کرنے لگتا۔ وہ اگر میری بیٹی کی عمر کی نہیں تو اس کی باجی کہلانے کی حقدار ٹھہرتی ہونگی ، لیکن یہ کیا، عوامی جلسوں میں ان کے دل ربا ناز نخروں اور ادائوں کو دیکھ کر زبان پر اس مقبول عام لوک گیت کے بول آنے لگتے جو پنجاب کی کسی الہڑ حسینہ کی شان میں لکھ کر کمپوز کئے گئے تھے 

جتی کھل دی، مروڑا نی جھل دی، ٹور پنجابن دی

بلے بلے بھئی ٹور پنجابن دی

ٹھیٹھ پنجابی زبان کے اس لوک گیت میں دیس پنجاب کی اس حسینہ کی چال ڈھال کا مرقع پیش کیا گیا ہے جس کو برداشت کرنا چمڑے کی کھال کی بنی ہوئی جوتی کے بس کی بھی بات نہیں۔سابقہ وزیر اعظم پاکستان کے خانوادہ اشرافیہ کی بیٹی باپ کی محبت میں اندھی ہوکر اپنی موروثی شرم وحیاء کو طاق پر رکھے بر سر عام ہر محرم یا نا محرم کی جانب دیکھ کر اپنی باربی گڑیا جیسی شکل وصورت کی مسکراہٹیں بانٹتی اور اپنی مخروطی انگلیوں کو ماتھے سے چپکا کر یوں سلام پیش کرتی ہیں کہ کہنے والے بے اختیار ہوکر کہہ اٹھتے

اس ادا سے مجھے سلام کیا

ایک ہی آن میں غلام کیا

بہت پیاری بچی ہیں انہوں نے اداروں سے پنگا لیکر ثابت کردیا کہ وہ بیٹی کس کی ہیں۔ بہت سے ہیں ان کی اک ادا پر جان نچھاور کرنے والے جبھی تو نیب والے ان کو ان کے گھر سے گرفتار کرنے نہیں گئے۔ وہ عدالت کے بلاوے کو خاطر میں نہ لاکر جب اپنے پپا کی آشیر باد لینے جیل پہنچیں تو انہیں نیب والوں کی زنانہ پولیس نے آن دبوچا، تاکہ انہیں اس عدالت میں پیش کیا جاسکے جہاں پہنچنا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہیں ۔ مجھے ہی نہیں مجھ جیسے بہتوں کو ان سے گہری ہمدردی جتانے کے علاوہ کچھ بھی لینا دینا نہیں۔ کیونکہ ایک آدھ دن کے فاصلے پر ہے عید قربان، جب میں نے مریم بی بی کی گرفتاری کی چونکا دینے والی خبر اپنی گھر والی کو سنائی تو وہ کہنے لگی کہ قربانی کا جانور دیکھ بھال کر خریدنا۔ قربانی کے جانوروں کی منڈی میں بھی یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل کر پہنچی ہوگی ، لیکن وہاں بھی کسی قسم کا بھونچال آیا ہوگا نہ طوفان اٹھا ہوگا۔ ہاتھ کر گئی مودی سرکار کشمیریوں سے، دھول جھونک گئے وہ عالمی امن کے ٹھیکیداروں کی آنکھوں میں۔ سانپ بن کر کاٹ کھایا اس نے ہماری آدرشوں کی جنت کو اور ہم جو کشمیر کی آزادی کے نغمے گایا کرتے ہیں، اس لکیر کو پیٹتے رہ گئے جو ڈسنے والا سانپ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ خبریں آخر خبریں ہوتی ہیں۔ جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے دور میں نہایت برق رفتاری سے دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں تک پہنچتی ہیں۔ چنگاریاں بن کر پھوٹتی اور بجھ جاتی ہیں۔ کوشش کی جاتی ہے کہ یہ شعلوں کا روپ دھار لیں۔ لیکن اس عالم نفسا نفسی میں ایسا ہونہیں سکتا۔ نریندر مودی کے بت بنا کر انہیں گاؤ ماتا کے دودھ سے نہلایا گیا جبکہ ہم عیدالاضحی کے موقع پر ان کی گاؤماتا اور اس کے بھائی بندوں کے گلے پر چھریاں پھیرنے کی تیاریاں کرتے رہ گئے

دکانیں بڑھاؤ اور فروغ قیمتوں کو دو

کاٹو گلے حلال کرو عید کا دن ہے

14اگست 2019 ء کو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں سبز ہلالی جھنڈیاں تھما کر'' جیوے جیوے جیوے پاکستان'' کے نغموں کے ساتھ کشمیر کے نہتے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔ ادھر عید کے پکوان کھا کھا کر ہم بدہضمی کا شکار ہو جائیں گے ادھر کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے جو سوچ رہے ہوں گے کہ ہمارے پاس تو فریج ہی نہیں گوشت کس ہمسائے کے گھر میں رکھوایا جائے ۔ ہوسکتا ہے مریم نواز کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کردیا جائے اور یہ بھی ممکن ہے ان کی عید اندر ہی گزرے ، مگر ان لوگوں کا کیا کیا بنے گا جو ان کی گرفتاری کا سن کر ایٹم بم کی طرح پھٹنے لگے۔ پیپلز پارٹی کے جواں کار چئیر مین بلاول بھٹو مریم کی گرفتاری کا سن کر آپے سے باہر ہوکر پارلیمنٹ کو گالیاں دینے لگے، بلاول کے چاہنے وا لوں کو ان کی گالیوں کے جواب میں شیم شیم کر نا پڑا۔ اگر چہ ان گالیوں کو معزز ایوان کی کارروائی سے حذف کردیا گیا مگر یہ سمجھ نہ آئی کہ شیم شیم کے گسترانہ کلمات کس کی شان میں ارشاد ہورہے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے مچھلی منڈی بن گئی پارلیمنٹ ہاؤس، اور ہم کہتے رہ گئے

نالیوں میں حیات دیکھی ہے

گالیوں میں بڑا اثر دیکھا ہے

متعلقہ خبریں