Daily Mashriq

فاٹا اصلاحات اور قبائلی عوام کی ذمہ داریاں

فاٹا اصلاحات اور قبائلی عوام کی ذمہ داریاں

اگر چہ وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے اعلان کی مکمل طور پر تکمیل کا عندیہ اب بھی نہیں دیا گیا لیکن فاٹا میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن ، ایف سی آر جیسے کالے قانون کا خاتمہ قبائلی عوام کے اس دیرینہ اور متفقہ مطالبے کی منظوری ہوگی جو قبائلی اور بندوبستی علاقوں کے لوگوں کے درمیان امتیازی سلوک کی ایک بڑی نشانی تھی ۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے دائرہ کار کی فاٹا تک توسیع سے قبائلی عوام پر انصاف کے دروازے کھل جائیں گے اور ان کو پولیٹیکل انتظامیہ کے اہانت آمیز سلوک کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا ۔ گوکہ حکومت نے فاٹا انضمام کی حتمی تاریخ تو نہیں دی ہے لیکن اس امر کی یقین دہانی کافی ہے کہ اگلے انتخابات میں فاٹا میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پرانتخابات ہوںگے ۔ہمارے تئیں انضمام کے عمل میں عجلت اختیار کرنے کی بجائے فاٹا اصلاحات کا بتدریج نفاذ بہتر حکمت عملی ہوگی۔ اس وقت وفاقی حکومت کو اپنی اتحادی جماعتوں کا فاٹا انضمام بارے اعتما د حاصل نہیں تو دوسری جانب خود قبائلی علاقوں کے عمائدین کی بڑی تعداد بھی قبائلی علاقہ جات کی موجودہ ہئیت کے ایک ساتھ خاتمے کی مخالف ہے قبائلیوں کی ایک بڑی تعداد علاقائی رسوم ورواج اور قبائلی طرز معاشرت کو برقرار رکھنے کی حامی ہے جبکہ دوسری جانب جن معاملات کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے اور جس کا سب سے زیادہ اور متفقہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے وہ کالا قانون ختم کرنا تھا اور قبائلیوں کو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق دینا تھا یہ مطالبہ پورا ہونے جارہا ہے ۔ جبکہ فاٹا میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی حلقہ بندیوں اور ان پر انتخابات کے بعد عملی طور پر فیصلے کا اختیار منتخب قبائلی نمائندوں کے ہاتھ آجائے گا۔ ان کی شراکت و مشاورت سے اصلاحات کا دوسرا مرحلہ شروع کرنا زیادہ موزوں اور آسان ہوگا۔ فی الوقت فاٹا اصلاحات کے پہلے مرحلے میں دو بڑے اقدامات کو کافی جاننا چاہیئے اور بجائے اس کے کہ مکمل انضمام کیلئے جدوجہد میں وقت ضائع کیا جائے اگر سیاسی جماعتیں ، عوامی نمائندے اور سرکاری حکام مل کر محولہ اصلاحات کے مطلوب ترین حصے کی کامیابی کا راستہ ہموار کریں اور مخالفانہ طرز عملی کی بجائے اس کی کامیابی کیلئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے میں اچانک اور انقلاب کی طرح کے اقدامات کی بہ نسبت موزوں عمل یہ ہوگا کہ پیچیدہ مشکل اور تکلیف دہ معاملات کی اصلاح سے کام کا آغاز ہو جائے اور پہلے مشکل معاملات کو طے کر کے ایک فضا ہموار کی جائے اور تبدیلی کے تقاضوں اور اس کے راہ کی مشکلات کا جائزہ لیکر اس کے مطابق آگے بڑھنے کی حکمت عملی وضع اور طریقہ کار کا تعین کیا جائے تو اس میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور تجربات کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں ہوتا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایف سی آر کا خاتمہ فاٹا اصلاحات کی بنیاد اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر آئندہ انتخابات میں رائے شماری فاٹا اصلاحات کی دیواروں کی تکمیل ہوگی جس پر چھت ڈالنے کا کام باقی ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ اقدامات کے بعد فاٹا کے انضمام کا حقیقی عمل شروع ہوگا جس کے بعد جہاں وفاقی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا کی ذمہ داریاں بنتی ہیں ان کی ادائیگی سے کہیں زیادہ ذمہ داریاں قبائلی عوام پر عائد ہوںگی ۔ قبائلی علاقہ جات میں ایک اور اہم حکومتی ادارہ پاک فوج کا ہے جس کی قربانیوں اور کاوشوں کے باعث آج ان قبائلی علاقوں کو جہاں کچھ سال قبل ایک دن گزارنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا دشمن نے وہاں بارود بو دیا تھا اور قبائلی عوام ہی میں سے اٹھنے والے سادہ لوح افراد دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہورہے تھے۔ یقین نہیں آتا کہ آج ان قبائلی علاقوں میں بندوبستی علاقوں سے زیادہ امن ہے۔ جہاں پہلے کا برائے نام انفراسٹر کچر تباہ ہو چکا تھا آج وہاں پاک فوج کی زیر نگرانی بلکہ پاک فوج نے پکی سڑکوں اور معیاری تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیا ہے جہاں نو جوانوں کے پاس بندوق بازی کے علاوہ کوئی مشغلہ نہیں تھا وہاں آج پاک فوج نے بہترین اورجدید سٹیڈیم تعمیر کر کے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ پاک فوج کی فاٹا اصلاحات کی بار بار تائید و حمایت کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ ایک ایسی فضا میں جہاں اب فوج ، عوام اور ریاستی اداروں میں پوری طرح ہم آہنگی اور اعتماد کی فضاقائم ہے ایسی فضا ہی اصلاحات کے نفاذ کیلئے ممکن تھی۔ قبائلی عوام پر یہ دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کی صورتحال بر قرار رکھیں بلکہ ان کو جو سہولیات خواہ وہ پاک فوج کی جانب سے دی جارہی ہیں یا سول ادارے فراہم کر نے جارہے ہیں اس کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنائیں اور فاٹا میں اس قسم کا ماحول قائم کریں کہ فوج کو سرحدوں پر توجہ دینے کیلئے یکسوئی ملے جبکہ سول اداروں کو تعمیر نو کے کام میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ فاٹا اصلاحات کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ باقی دکھائی نہیں دیتی اب اگر خدانخواستہ کوئی رکاوٹ آئے گی تو اس کے ذمہ دار قبائلی عوام ہی گردانے جائیں گے ۔

متعلقہ خبریں