Daily Mashriq


القدس کی پکار اور امت مسلمہ کا فریضہ

القدس کی پکار اور امت مسلمہ کا فریضہ

القدس الشریف کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، کے اقدام کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں اوربالخصوص پاکستان کے مسلمانوں کا سر اپااحتجاج ہونا فطری امر ہے ۔ ڈائمنشیاء کے شکار امریکی صدر کی زبان الفاظ کی درست ادائیگی میں ان کا ساتھ تو نہیں دیتی لیکن ان کے دستخطوں سے جاری فیصلے نے عالم اسلام میں آگ ضرور لگا دی ہے۔ اسے امت مسلمہ کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیئے کہ وسائل سے مالا مال کروڑ وں مسلمان اور درجنوں اسلامی ممالک افرادی اور فوجی طاقت رکھنے کے باوجود انحطاط وپستی کا اس طرح شکار ہیں کہ امریکہ و اسرائیل ان کے حوالے سے قہر درویش برجان درویش کا مقولہ ہی درست سمجھنے لگے ہیں۔ ان کو بخوبی معلوم ہے کہ مسلمانان عالم جلسے جلوس نکال سکتے ہیں اور ٹائر جلا کر احتجاج ہی کر سکتے ہیں اس سے زیادہ کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ہمارے تئیں صورتحال اتنی بھی سادہ اورسہل نہیں کیا فلسطینی انتفاضہ میں ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کی قربانیاں اور جدوجہد کوئی کہانی تھی اس وقت جو کچھ وہ کر رہے ہیں کیا یہ قوت وطاقت کا جواب اسی زبان میں دینے کی سعی نہیں فلسطینی مسلمانوں کی غیرت و حمیت اور جدوجہد اپنی جگہ افسوسناک امر یہ ہے اسلامی ممالک کی تنظیم اور اہم اسلامی ممالک کی جانب سے وہ سفارتی سخت گیری اور اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں جو امت مسلمہ کے ممالک ہونے کے ناتے ان کا فرض اور حالات کا تقاضا ہے۔ افسوس کسی مسلمان ملک نے امریکہ سے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان نہیںکیا ۔ کیا ترکی ، ایران ، پاکستان ، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک مل کر کوئی ایسا اقدام نہیں کر سکتے کہ امریکہ کے ذہنی معذوری کا شکار صدر کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑے ۔ کیا یہ صورتحال خلافت اسلامیہ کے احیاء کا بہترین موقع نہیں۔بطور مسلمان اور خاص طو ر پر بطور مسلمان ممالک اور جملہ امت مسلمہ کی کیا یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ بھی اپنے حصے کی جدوجہد اور اپنے حصے کی قربانی کی ہمت کرے ۔ اس امر کا خدشہ ہے کہ انفرادی طور پر کچھ مساعی سامنے آئیں لیکن قدرت کو تو صرف اور صرف اجتماعی قوت کا مظاہرہ مطلوب ہے جہاد کا اعلان مسلم ریاستوں کی ذمہ داری ہے ۔

متعلقہ خبریں