Daily Mashriq

اورنج ٹرین پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

اورنج ٹرین پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

عدالت عالیہ لاہور کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ پاکستان نے اورنج ٹرین پر کام جاری رکھنے کا حکم دیاہے جبکہ پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے ریپڈ بس منصوبے کے معاملات کو قانونی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ایک عہدیدار نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اورنج ٹرین منصوبے میں بائیس ماہ کی تاخیر کو چھپے دشمن کا وار قرار دیا ہے اور خیبر پختونخوا میں بر سر اقتدار جماعت کی قیادت پر سخت تنقید کی ہے۔ عدالتی فیصلوں اور معاملات سے قطع نظر اور سیاسی رہنمائوں کے عدالت سے رجوع کے حق کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو سیاسی عناصر کے کردار و عمل میں عوام کی فلاح کی بجائے کینہ اور بغض واضح نظر آئے گا۔ عوام کی سہولت اور فلاح کا منصوبہ اورنج ٹرین کی صورت میں لاہور میں ہو یا ریپڈ بس منصوبے کی طرح پشاور میں ہو یا پاکستان کے کسی بھی علاقے میں عوام کو سہولیات کا باعث بننے والا کوئی اقدام ہو اس کی مخالفت خواہ پی ٹی آئی کی طرف سے ہو یا جمعیت علمائے اسلام (ف) یا کسی دیگر سیاسی جماعت کی طرف سے ہمارے تئیں یہ عوام دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔ اورنج ٹرین منصوبے کی راہ کی آخری رکاوٹ تو عدالت عظمیٰ نے گرادی ہے مگر ریپڈ بس منصوبے کا مقدمہ اگر سپریم کورٹ لے جایا گیا تو اس کے متاثر ہونے کا امکان ہو نہ ہو اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لئے تشویش کا باعث ضرور ہوگا جبکہ اس طرح کی کسی بلا وجہ مقدمہ بازی کو عوام بھی تحسین کی نظروں سے نہیں دیکھیں گے۔ جے یو آئی(ف) مرکزی حکومت کی اتحادی جماعت ہے اگر اورنج ٹرین کے خلاف مقدمہ بازی پر وہ تحریک انصاف کی قیادت کو مطعون کرتی ہے تو اسی فارمولے کا اطلاق اس کو اپنی اتحادی جماعت جے یو آئی پر بھی کرکے ریپڈ بس منصوبے کے خلاف سپریم کورٹ جانے سے روکے۔ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع قانونی طور پر بھی ایک کمزور پوزیشن کے ساتھ اور کم تر اخلاقی جواز کے ساتھ ہوگا اور اس مقدمے کے انجام کو اگر اورنج ٹرین منصوبے کے فیصلے کی نظیر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کا متوقع انجام بھی مختلف نہیں ہوگا۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ سود وز یاں کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لے کر جے یو آئی کے عہدیدار عدالت عظمیٰ سے رجوع کرکے عدالت کا وقت ضائع کرنے اور عوام کی ناراضگی مول لینے کی بجائے چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی پر غور کرے اور اپنے ارادے سے باز آئے۔

متعلقہ خبریں