Daily Mashriq


ایف سی آر کے خاتمہ کا اعلان

ایف سی آر کے خاتمہ کا اعلان

فاٹا انضمام کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز اور سیفران کے وزیر عبدالقادر بلوچ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے ایف سی آر کا کالا قانون ختم کر دیا جائے ایف سی آر یعنی فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کچھ ضابطوں کا مجموعہ ہے جو انگریز نے فاٹا کے عوام کے لیے نافذ کیا تھا۔ اس کالے قانون میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ترامیم کی جا چکی ہیں لیکن ابھی تک یہ قانون ترمیم شدہ حالت میں سہی نافذ العمل ہے۔ تاہم فاٹا کے عوام کو پاکستان کے دیگر علاقوں کے شہریوں کی طرح برابر کے شہری قرار دیے جانے میں محض ایف سی آر حائل نہیں ہے۔ فاٹا کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس علاقے کے شہریوں کو پاکستان کا برابر کا شہری سمجھا جائے یعنی فاٹا میں بھی وہی قوانین نافذ کیے جائیں جو پاکستان کے دوسرے علاقوں میں رائج ہیں۔ فاٹا کے شہریوں اور ملک کے دوسرے حصوں کے عوام کا یہی مطالبہ ہے۔ اس پر ایک طویل مشق کئی ماہ پر محیط سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے کی۔ جس کے بعد یہ طے پایا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جائے گا۔ یعنی فاٹا کے عوام کو بھی وہی شہری حقوق مل جائیں گے جو خیبر پختونخوا یعنی ملک کے دیگر علاقوں کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ لیکن یہ کام پانچ سال کے عرصے میں کیا جائے گا ۔ اس دوران فاٹا میں سرکاری ادارے قائم کیے جائیں گے ، لیویز پولیس فورس بنائی جائے گی اور وہاں ترقیاتی کام کیے جائیں گے۔ اس پانچ سال کی مدت کے بعد فاٹا میں ریفرنڈ م کرایا جائے گا کہ آیا فاٹا کے شہری خیبر پختونخوا میں انضمام چاہتے ہیں یا اپنی الگ شناخت چاہتے ہیں۔ اس دوران جمعیت العلمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا اصرار تھا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے جس کی فاٹا اور سارے ملک میں مخالفت ہوئی۔ لیکن سرتاج عزیز رپورٹ نے ریفرنڈم کی شرط بھی برقرار رکھی اور انضمام کو پانچ سال کے لیے مؤخر کر دیا۔ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر مبنی بل قومی اسمبلی میں پیش بھی کیا گیا لیکن فوری طور پر حکمران مسلم لیگ ن نے یہ بل واپس بھی لے لیا۔ اس واقعہ کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اب سرتاج عزیز اور ان کے ساتھ وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ کہہ رہے ہیں کہ فاٹا کے انضمام کے معاملے پر کام رُکا نہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جب سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر مبنی بل قومی اسمبلی میں پیش کرکے واپس لیا گیا تھا اس کے بعد اب تک اس پر کیا کام ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ بل قومی اسمبلی میں گزشتہ روز اس لیے نہیں پیش کیا جا سکا کہ ایوان میں کورم پورا نہیں تھا۔ حکمران مسلم لیگ کی قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت ہے ، اس کے باوجود اس بل کے پیش کیے جانے کے دن کورم پورا نہ ہونا ہی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حکمران مسلم لیگ کس حد تک فاٹا کے انضمام میں دلچسپی رکھتی ہے۔ لیکن وزیر سیفران اور مشیر وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے پر کام ہو رہا ہے۔ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز نہایت سخت گیر قوانین کا مجموعہ تھا جن میں جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے صدر جنرل مشرف اور پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ترامیم کی گئیں۔ اب جب عام انتخابات نزدیک آرہے ہیں ن لیگ کی حکومت نے یہ خوشگوار اعلان کردیا ہے کہ اگلے ہفتہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کا خاتمہ کر دیے جانے کا بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔اس کے بعد گورنر خیبر پختونخوا صدر مملکت کو سمری بھیجیں گے جو منظور کر لی جائے گی۔ لیکن ان ریگولیشنز کے خاتمے سے پہلے بھی کچھ کام کرنے کے ضروری ہیں۔ پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ ٔ اختیار فاٹا تک وسیع کر دیا جائے گا ۔ اس سے پہلے یہ ضروری ہے کہ فاٹا میں ماتحت عدالتیں ہوں جن کی اپیل ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کی جائے گی۔ لیکن وزیر سیفران نے یہ نہیں بتایا کہ آیا فاٹا میں عدالتی نظام قائم کیا جا چکا ہے یا نہیں۔ اگر فاٹا میں عدالتی نظام قائم نہیں ہوا تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرۂ کار کو فاٹا تک وسیع کیے جانے سے کس کو فائدہ ہو گا، یہ بات ناقابلِ فہم ہے۔ پریس کانفرنس میں ایف سی آر کے خاتمے کا تو اعلان کردیا گیا تاہم کہا گیا ہے فاٹا کو قانونی' معاشی اور انتظامی طور پر قومی دھارے میں لانے کے بعد اس کا انضمام خیبر پختونخوا میں کیا جائے گا۔ اگر فاٹا انتظامی قانونی طو ر قومی دھارے میں نہیں ہے تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ عدالتی نظام قائم کرنے سے پہلے محض ایف سی آر کے خاتمے کے اعلان کے ذریعے فاٹا کے شہریوں کی حیثیت ملک کے دوسرے علاقوں کے شہریوں کے برابر ہو گئی ہے۔ پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ فاٹا میں تعمیر و ترقی پر خطیر رقم خرچ کی جائے گی ۔ اس قسم کے منصوبے ظاہر ہے وفاقی حکومت بنائے گی ۔ فاٹا کے عوام جب تک کسی منتخب ادارے میں نمائندگی کے حامل نہیں ہوں گے تو ان منصوبوں میں ان کی رائے شامل نہیں ہو گی۔ تعمیروترقی کے منصوبوں میں اگر فاٹا کے عوام کی رائے اور ترجیحات شامل نہ ہو گی تو فاٹا کے عوام کیسے اپنے آپ کو ان منصوبوں کا مالک سمجھیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انضمام کا انتظار کیے بغیر فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کروا دیے جائیں گے۔ نشستوں کا تعین الیکشن کمیشن کرے گا۔ فرض کیجئے صوبائی اسمبلی کے ارکان کے انتخابات ہو جاتے ہیں اور وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں تو جب تک خیبر پختونخوا حکومت کا فاٹا پر کوئی اختیار ہی نہیں ہو گا ، اس وقت تک یہ ارکان صوبائی اسمبلی اپنے منتخب کرنے والوں کے کس کام آئیں گے؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انضمام کی تاریخ نہیں دی جاسکتی اور حقیقت یہی ہے کہ ایف سی آر کے خاتمے کی تو تاریخ دے دی گئی ہے ، فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی تاریخ نہیں دی گئی جس کے بغیر فاٹا کے شہری پاکستان کے دوسرے علاقوں کے شہریوں کے برابر کے حقوق کے حامل نہیں ہوجائیں گے۔

متعلقہ خبریں