Daily Mashriq

یہودی کمپنیوں کی مصنو عات کا بائیکاٹ

یہودی کمپنیوں کی مصنو عات کا بائیکاٹ

یہو د اور با لخصوص امریکہ آج کل پو ری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف بر سرپیکارہیں ۔ انکی پو ری پو ری کو شش ہے کہ مسلمانوں کو رسوا کیا اور دیوار سے لگایاجائے ۔ مسلمانوں کی یہ بد قسمتی ہے کہ دنیا کے ستر فی صد وسائل کے با وجود بھی وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ کرا مریکہ ا ور یہود کی یلغار کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور دنیا کے مختلف خطوں میں ان پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ تا زہ ترین واردات امریکہ کا یرو شلم کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنا ہے۔جس سے اسلامی ممالک کے عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے اب تمام اسلامی ممالک اور پاکستان میں ہڑتالوں اور مظاہروں میں مسلمان اپنی املاک کو نذر آتش کرکے خود کو ہی نُقصان پہنچائیں گے۔ جس سے یہود و ہنود کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ایک مہذب، سنجیدہ ، متین اور دین سے لگائو رکھنے والے مسلمان کے طور پر ہمیں ایسے حا لات میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہئے اور ایسا قدم اُٹھا نا نہیں چاہئے جس سے اپنے گھر اورملک کا نُقصان ہو۔یہو و ہنود کی ایک عرصہ سے یہ کوشش ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف سا ز شیں کرکے انکے جذبات اور احساسات کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ قُر آن مجید میں بار بار یہودیوں کی سازشوں سے مسلمانوں کوبا خبر کیا گیا ہے۔ہٹلر نے کیا خوب کہا تھاI could have killed all the jews but i left some of them to let you know why Iwas killing them میں تمام یہو دیوں کو ما ر سکتا تھا مگر میں نے چند کو اسلئے زندہ چھوڑا تاکہ آپکو ان کی اصلیت کا پتہ چلے کہ میں انکو کیوں ما ر رہا تھا۔یہو دی ایک سازشی قوم ہے انکو شکست دینے اور اُنکو کمزور کر نے کے لئے کہ انکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بائیکاٹ ضروری ہے۔دنیا میں اس وقت تقریباً 600 ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں اور ان کا بائیکاٹ کیا جائے تو اس سے فلسطین کازیادہ فا ئدہ ہو سکتا ہے۔آج کل جتنی بھی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں وہ یہو دیوں اور امریکیوںکی ہیں۔سافٹ ڈرنکس کی بڑی کمپنیوں سے لے کر صابن ،شیمپو ، بچوں کے ڈائپر ز مختلف شیونگ کریموں ، واشنگ پائوڈرزکی کمپنیاں، برتن مانجھنے کا صابن بنانے کی کمپنیاں اشیائے خوردونوش کی کمپنیوں تک یہودیوں کی ملکیت ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے براہ راست اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ان کی مصنوعات کا کاروبار مسلمان ممالک میں بھی بہت کامیابی سے ہورہا ہے ۔ اس طرح مسلمانوں کا سرمایہ بھی یہودیوں کے ہاتھ میں پہنچ رہاہے جس کو وہ اپنے سائنس و ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبے پر خرچ کررہے ہیں اسرائیل اس سے حاصل ہونے والے آمدنی سے اسلحہ کا انبار لگا رہے اس وقت اسرائیل پورے عرب خطے میں ایک چھوٹاسا ملک لیکن اپنی دفاعی صلاحیت اور مسلمانوں کی کمزوری کے باعث پورے خطے پر حاوی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہودیوں کا سارا انحصار ان کمپنیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ہے ۔ مسلمانوں کی زبانی جمع خرچ سے یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہم امریکہ اسرائیل اور یہو دیوں کی کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور اپنی املاک کو نُقصان پہنچانے کے بجائے اصل دشمنوں کا نُقصان کریں جو مسلمانوں کی تباہی اور بر بادی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔اسی طر ح اس سے نہ صرف یہو دیوں کو جو اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے شکست ہوگی بلکہ اس سے فلسطین اور غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں اس سے اُن حریت پسندوں کو تقویت پہنچے گی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو واقعی مسلمان بننا پڑے گا ۔ کیو نکہ موجودہ دور میں میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان برائے نام اور موروثی مسلمان ہیں انکو اپنے دین کا کوئی پتہ نہیں۔ایک تو ہمیں یہو دیوں کے مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور دوسری جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی ، تعلیم اور دفاع کے شعبوں کو مضبوط کرنا چاہئے ۔ کیونکہ کمزوری ہمیشہ جا رحیت کو دعوت دیتی ہے۔ مسلمان ممالک کو اپنی پیداواری صلاحیت اور اسکی کوالٹی کی طرف توجہ دینی چاہئے تاکہ مسلمان یہودیوں اور اسرائیلیوں کی مصنوعات نہ خریدیں اور یہ تب ہوگا جب یہودیوں کی مصنو عات کا مسلم ممالک مقابلہ کرسکیں۔ مسلمان ممالک کے حکمرانوں میں تو کوئی غیرت نہیں مگر مسلم دنیا کے عوام کو چاہیئے کہ کم ازکم وہ یہود اور امریکہ کی مصنوعات کا بائیکاٹ تو کر سکتے ہیں۔علاوہ ازیں مسلمان ممالک کو اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا ہوگا، ورنہ لیبیائ، شام، عراق اور افغانستان کی طرح امریکہ اور یہودی بچے کھچے مسلمانوںکو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ موجودہ صورت حال میں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ مسلمان ممالک نے جو بین الا اقوامی اسلامی فوج بنائی ہے اُسکا کردار کیا ہوگا۔

متعلقہ خبریں