Daily Mashriq

حماقتیں

حماقتیں

زندگی کے سفر میں انسان بہت سے نشیب و فراز دیکھتا ہے جہاں بہت سے عقلمندی کے کام کرتا ہے وہاں کچھ غلطیاں بھی کرتا ہے۔ وقت کا کیا ہے یہ تو ہمیشہ گزر جانے کے لیے ہوتا ہے لیکن یہ اپنے نقش چھوڑ دیتا ہے جو پھر بھلائے نہیں بھولتے ۔جب انسان زندگی کے اس عجیب سفر میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے اپنی غلطیوں پر بے تحاشہ پیار بھی آتا ہے اور کبھی کبھی افسوس بھی ہوتا ہے کہ کاش یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا ! آگے بڑھنے سے پہلے ماضی کے دروازے بند کرتے رہنا چاہیے جو وقت گزر جاتا ہے پھر اس نے لوٹ کر نہیں آنا ہوتا۔ یوں کہیے وہ ایک یاد ہے یادیں تلخ بھی ہوتی ہیں اور خوشگوار بھی ۔ اچھی بات یہی ہے کہ تلخ یادوں کا دروازہ بند ہی رکھا جائے تو بہتر ہے البتہ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ اپنی ان حماقتوں پر خوب ہنسا جائے۔ جی بھر کر قہقہے لگائے جائیںجو ہم سے زندگی کے سفر میں سرزد ہوتی رہتی ہیں کیونکہ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے! یہ کالم جو اس وقت آپ پڑھ رہے ہیں شاید کچھ عرصے بعد ایک خوبصورت حماقت میں تبدیل ہوجائے اور ہمیں افسوس بھی ہو کہ یہ کیا لکھ ڈالا؟پہلے جو حماقتیں ہم سے سرزد ہوئیں ان میں ہمارا ارادہ ہر گز شامل نہیں تھا لیکن یہ حماقت ہم جان بوجھ کر کر رہے ہیں اس میں ہماری اپنی مرضی شامل ہے ۔ بہت پرانی بات ہے ہماری پوسٹنگ کسی پہاڑی علاقے میں تھی اپنے پڑوسی ملک سے اچھی خبریں نہیں آرہی تھیں۔ اسی لیے کچھ پہاڑی مقامات پر ایئر فورس نے اپنے بندے تعینات کیے ہوئے تھے تاکہ دشمن کے ہوابازوں کی آمد کا بروقت علم ہوسکے اور اس کو منہ توڑ جواب بھی دیا جائے۔ خوش قسمتی سے یہ پوسٹ بالکل ہمارے پہلو میں تھی اس کے علاوہ ہم سب ایک ہی ہاسٹل میں مقیم تھے۔ پاک فضائیہ کی پوسٹ پر دس بارہ جوان تعینات تھے ان کے ساتھ شام کے وقت ہماری خوب گپ شپ لگتی جب مزاج میں ہم آہنگی ہو تو اس طرح کی محفلوں کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے ۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا سردیوں کے دن تھے ایک دن ہمارے مہمان نواز پڑوسیوں نے ہمیں افطار کی دعوت دے ڈالی ۔نیکی اور پوچھ پوچھ! ہم دوساتھی تھے۔ ہم نے اپنے میس کے باورچی کو کہہ دیا کہ آج ہماری افطار پارٹی ہے اس لیے ہمارے لیے کھانا نہ پکایا جائے ۔ اذان سے کچھ دیر پہلے ہم بصورت مہمان وہاں جا دھمکے تھوڑی دیر بعد دسترخوان بچھا یا گیا انہوں نے اچھا خاصا اہتمام کر رکھا تھا۔ چائے کے ساتھ ہر طرح کے لوازمات موجود تھے۔ ہم نے جی بھر کران کی مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔ اس کے بعد ہم ٹانگیں پسار کر آرام سے بیٹھ گئے کہ اب آرام سے کھانا کھائیں گے ۔ہمارے کلچر میں افطار پارٹی میں پہلے پر تکلف چائے اور پھر اس کے بعد کھانا ہوتا ہے۔ بچپن سے ہم یہی دیکھتے چلے آرہے ہیں اس لیے اب بڑ ی سچائی اور معصومیت سے ہم دوسری مرتبہ دسترخوان لگنے کا انتظار کرنے لگے ۔جب اچھی خاصی دیر ہوگئی اور ہمارے پیٹ میں چوہے قوالی کرنے لگے تو ہم نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے اپنے اکلوتے ساتھی کی طرف دیکھا لیکن اس کی آنکھوں میں بے بسی دیکھ کر ہم نے جلدی سے نظریں جھکا لیں۔

دوستو! اب پورا ایک گھنٹہ گزر گیا اور کھانے کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمیں ان کا شکریہ ادا کر کے چپکے سے رخصت لے لینی چاہیے تھی۔ شاید ان کا افطارکا یہی دستور ہو لیکن زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق ہم بھی اپنے مورچے پر ڈٹے رہے۔ یقین کیجیے اتنے بہت سارے برس گزر جانے کے بعد آج بھی ہم یہی کہتے ہیں کہ اس وقت ہمیں پورا یقین تھا کہ اب تھوڑی دیر میں کھانا ضرور لگے گا۔ میزبان مجبور ہوگیا انہوں نے اشاروں کنایوں میں بات چیت کی اور آخر کار ہمارے سامنے دسترخوان بچھا دیا گیا ۔ ہمارے سامنے کھانا چن دیا گیا یہ سالن ان مرغیوں کی باقیات تھا جنہیں ہم تھوڑی دیر پہلے چائے کے ساتھ نوش جان کر چکے تھے ۔ یہی وہ وقت تھا جب ہمیں یہ جانکاری ہوئی کہ ہماری افطار پارٹی صرف چائے تک محدود تھی لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ کمان تیر سے نکل چکا تھا ہم نے چند نوالے زہر مار کیے میزبانوں کا شکریہ ادا کیااورخاموشی سے لوٹ کے بدھو گھر کو آئے!دوسری حماقت کے ہم چشم دید گواہ ہیں ایم اے انگلش کا زبانی امتحان تھا ہم بھی قطار میں لگے اپنا رول نمبر پکارے جانے کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم سے پہلے ایک خوش پوش سوٹڈ بوٹڈ نوجوان کی باری تھی۔ اس نے ایک آدھ مرتبہ اپنی گھبراہٹ کا اظہار کیا تو ہم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اللہ بہتر کرے گا۔تھوڑی دیر بعد جب اس کا رول نمبر پکارا گیا تو وہ کہیں بھی نظر نہیں آیا۔وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا بس گزرتا چلا جاتا ہے ہم نے بڑے اطمینان سے ایم اے انگلش کیا اور زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد اتنے مصروف ہوگئے کہ پھر سرکھجانے کی فرصت بھی نہ رہی البتہ اس نوجوان کا خیال کبھی کبھی ضرور آجاتا کہ یہ کیا حماقت ہے۔ انٹرویو لینے والے اپنے ہاتھ میں تلوار لیے طالب علم کی گردن تو نہیں اتارتے ! فیل یا پاس ؟ یہ تو زندگی کا حصہ ہے اس سے ہر گز نہیں گھبرانا چاہیے۔اور پھر پورے بیس برس بعد آخر ایک دن ہمیں انٹرویو سے بھاگا ہوا نوجوان نظر آہی گیا ۔ اس وقت وہ ایک سادہ سے لباس میں ملبوس ایک پرانی سی سائیکل پر سوار تھا اور پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے سائیکل ایک چھوٹے سے پرائمری سکول کے سامنے روکی سائیکل سے اترا اور سکول میں داخل ہوگیا ہمیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ وہاں پرائمری سکول ٹیچر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔