Daily Mashriq

علاج، معالجہ کی سہولتوں میں بہتری کی ضرورت

علاج، معالجہ کی سہولتوں میں بہتری کی ضرورت

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک بار پھر ملک میں علاج معالجہ کی سہولتوں کی کمی کی طرف توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ اس شعبہ میں بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک تو علاج معالجہ کے لیے حکومتی فنڈز بہت کم ہیں دوسرے ان کا استعمال بھی درست طریقے سے نہیںہوتا۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ انہوںنے اصلاح احوال کے لیے مسودہ قانون مرتب کر کے ایگزیکٹو کو دے دیا ہے ، دوائیوں کی قیمتیں بھی طے کی ہیں جن پر ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے نظر ثانی کی ضرورت ہو گی۔ چیف جسٹس عوام کے بنیادی حقوق کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے اختیار کو انسانی ذمہ داری کے طور پر نبھا رہے ہیں اور صحت کے شعبہ کی زبوں حالی پر اکثر حکومت کی توجہ مبذول کرواتے رہتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومتیں چیف جسٹس کے اس اظہارِ خیال کے بعد علاج معالجہ کے شعبہ کے لیے فنڈز کے اختصاص میں اضافہ کریں گی اور فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنائیں گی۔ لیکن علاج معالجے کے حوالے سے ایک اور دل خراش پہلو کی طرف انہوں نے جو توجہ مبذول کرائی ہے اس کا تعلق امانت اور دیانت سے ہے' اس شعبے میں کام کرنے والوں کے رویے سے ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں علاج صرف دولت مند اور بااثر لوگ کروا سکتے ہیں۔ ہسپتالوںمیں مریضوںکے ساتھ سلوک ان کی مالی حیثیت کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروںکا پیشہ مسیحائی کا پیشہ ہے ' اس میں امیر اور غریب کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اگر یہ فرق ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ اس پیشہ اور طب کی تعلیم کو پیسہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسے کرپشن کی بدترین شکل سمجھا جانا چاہیے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ وینٹی لیٹر اور ہسپتالوں کی دیگر مشینیں خراب رہتی ہیں اور ان کی مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ اور ڈاکٹر لوگ مریضوں سے کہتے ہیں کہ وہ پرائیویٹ لیبارٹریوں سے معائنہ کروائیں جو ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کاروبار کا حصہ ہوتی ہیں۔ ہسپتالوں کی لیبارٹریوں کا تربیت یافتہ عملہ ان پرائیویٹ اداروں میں کام کرتاہے اور ہسپتالوںمیں ٹیسٹ غیر تربیت یافتہ اور بعض اوقات درجہ چہارم کے ملازم کرتے ہیں۔ جب تشخیص غیر معیاری ہو گی تو تجویز اور علاج کے معیاری ہونے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے! ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی غفلت کو غفلت مجرمانہ سمجھاجانا چاہیے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسے قتل میں معاونت کی کارروائی سمجھا جانا چاہیے۔ امیدکی جانی چاہیے کہ چیف جسٹس صاحب نے جو مسودۂ قانون تیار کر کے ایگزیکٹو کو دیا ہے اس میں ایسی غفلت اور ایسی دولت پر ستی کو انسانی زندگی کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا ہو گا اور اس کی سزا اسی اعتبار سے تجویز کی گئی ہو گی۔ علاج معالجہ کے شعبہ میں عملہ کی غفلت یا غیر حاضری کو معمولی غیر حاضری کی بجائے غفلت مجرمانہ شمار کیاگیا ہو گا اور اس حوالے سے محکمانہ کارروائی کی بجائے ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی تجویزکی گئی ہو گی۔ طب کے شعبہ میں غفلت ' کم کوشی اور فرائض سے انکار کے معاملات سول سروس رولز کے تحت نہیں نمٹائے جانے چاہئیں کیونکہ یہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اگر ضابطہ فوجداری میں اس کی گنجائش نہیں تو اس حوالے سے قانون سازی کی جانی چاہیے اور طب کے شعبہ کے لیے مخصوص عدالتیں قائم کی جانی چاہئیں۔ ان عدالتوں میں میڈیکل تعلیم میں غفلت کو بھی قابلِ مواخذہ قرار دیا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں میڈیکل تعلیم کے جو ادارے قائم کیے گئے ہیں ان میں اساتذہ کم ہوتے ہیں۔ میڈیکل تعلیم کے لیے یا مخصوص ہسپتال اور کل وقتی ماہر اساتذہ کی مناسب تعداد کا ہونا لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ صحت بنیادی انسانی حق ہے ' علاج معالجہ کی ضرورت کسی کو بھی پیش آ سکتی ہے ' اس لیے پارلیمان کو بطور خاص اس طرف توجہ دینی چاہیے جہاں رائے عامہ کے قائدین منتخب ہو کر آتے ہیں ۔ ایک طرف قانون سازی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے جس میںمیڈیکل تعلیم کے بارے میں بھی قانون سازی شامل ہے اور حفظان صحت کے شعبہ کے لیے بھی قانون سازی شامل ہے۔ دوسری طرف صحت کے حوالے سے عوامی شعور کو بیدار کرنے کی ذمہ داری رائے عامہ کے قائدین کی بھی ہے۔ چاروں صوبوں میں فوڈ اتھارٹیز کے نام سے شعبے قائم ہیں جو ہوٹلوںپر تو چھاپے مارتے ہیں لیکن سبزی منڈیوں اور ذبح کیے جانے والے جانوروں اور مرغی خانوں پر توجہ نہیں دیتے جہاں مضر صحت اشیاء کی فروخت کا زیادہ امکان ہے۔ پانی انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے ۔ چیف جسٹس صاحب نے اس طرف توجہ دی لیکن حکومتوں کی طرف سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی طرف کوئی خاص توجہ نظر نہیں آتی۔ حفظان صحت کی تعلیم پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں ہے۔ کئی سال کی مشق کے باوجود آج تک پولیو پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ صحت کے شعبہ کے لیے محض علاج معالجہ کے علاوہ پانی اور خوراک کے معیار اور حفظان صحت کے اصولوں کی ترویج کے لیے ایک جامع پروگرام تشکیل دیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں