Daily Mashriq


انسداد ِ بدعنوانی

انسداد ِ بدعنوانی

اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق ہمارے ملک میں تین دسمبر سے 9دسمبر تک ہفتہ انسداد بدعنوانی منایا گیا۔ نو دسمبر کو یوم انسداد بدعنوانی قرار دیا گیا لیکن یہ ہفتہ آیا اور گزر گیا جیسے اور دن گزر جاتے ہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے ہمارے ملک کی معیشت کا جو برا حال ہے اور جس طرح ہمارا ہر شہری مقروض ہے اس صورت حال میںہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرپشن کے خلاف عوام کے شعور کو بیدار کرنے کی مہم زور شور سے چلائی جاتی اور واضح کیا جاتا کہ کرپشن کس طرح ہماری زندگیوں کو تلخ کرتی ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ چند تقریبات منعقد کی گئیں ' چند بیانات جاری کیے گئے اور ٹی وی پر چند مذاکرے ہوئے اور ہفتہ اختتام پذیر ہوگیا۔ ہمارے صوبے کے گورنر اور وزیر اعلیٰ نے تقریبات سے خطاب میں بدعنوانی کو موضوع بنایا۔ وزیر اعلیٰ نے بجا طور پر کہا کرپشن ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے ۔ چیف سیکرٹری نے ایک بیان میںکہا کہ اگر ہم گورننس کو درست کر لیں تو بہت حد تک بہتری آ سکتی ہے۔ اس میںکوئی شک نہیںکہ کرپشن معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے ۔ اصل مسئلہ ایک طرف کرپشن کے خلاف عوامی آگہی میں اضافہ کرنا ہے تاکہ معاشرے میں بدعنوانی سے حاصل کی ہوئی دولت سے نفرت کا رویہ پیدا ہو اور دوسری طرف حکومتوں کی طرف سے قانون سازی اور انتظامی اصلاحات پر کام تیز کیا جائے۔ لیکن اس طرف کماحقہ توجہ نظر نہیں آ رہی ۔ شاید اس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ بھاری کرپشن کرنے والوں کو سزائیں ہوں گی تو چھوٹے پیمانے پر کرپشن کرنے والوںکو عبرت ہو گی' یہ بہت دیر طلب امید ہے۔ اگر بعض ترقی یافتہ ممالک میں ایسی پالیسی کی کامیابی کے شواہد ملتے ہیں تو وہاں قانون کی حکمرانی کا دور دورہ ہے ۔ لوگ قانون کی پاسداری میں فخر محسوس کرتے ہیں جب کہ ہمارے ہاں انگریز کی حکمرانی کے دور سے قانون کی پاسداری کی حمایت تو کی جاتی ہے لیکن بعض عناصر قانون شکنی کو طرۂ امتیاز بھی سمجھتے ہیں۔ ایک طرف کرپشن کے خلاف مسلسل آگاہی کی مہم جاری رکھنے میں کم کوشی ہے اور دوسری طرف قومی احتساب بیورو کو طنز اور اعتراض کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ملک میں بدعنوانی کے احتساب کا اہم ترین ادارہ ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کو گزشتہ روز یہ وضاحت کرنا پڑی کہ بیورو کے سات نہیں ستر فیصد کیسز اپنے منطقی انجام تک پہنچے۔ سوال یہ ہے کہ نہایت فعال میڈیا کی موجودگی میں یہ بات کیسے عام ہوگئی کہ احتساب بیورو کے صرف سات فیصد مقدمات کے فیصلے ہوئے۔ پھر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ احتساب بیورو محض اپوزیشن کا احتساب کرتا ہے اور حکومتی ارکان کے کیسز کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قومی احتساب بیورو گویا حکومت کے ہاتھ میں اپوزیشن کے خلاف ہتھیار کے طور پر کام کر رہا ہے ۔ لیکن اس بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ احتساب بیورو کے چیئرمین کا انتخاب انہی دو پارٹیوں نے کیاتھا جو آج اپوزیشن میں ہیں۔ نیب جن قوانین کے تحت کام کرتا ہے وہی قوانین دونوں اپوزیشن پارٹیوں کے اقتدار کے دور میں تھے۔ آج جن قوانین کو نازیبا سمجھا جاتا ہے انہیں یہ دونوں پارٹیاں اپنے اپنے دور میں تبدیل کر سکتی تھیں جو انہوں نے نہیںکیا۔ اور پھر وہ سارے مقدمات جن پر احتساب بیورو کارروائی کر رہا ہے انہی دو پارٹیوںکی حکومتوں نے دائر کیے تھے جو آج اپوزیشن میںہیں۔ اس صورت حال میں موجودہ حکومت کو احتساب بیورو کی ساز باز کی بات کی کوئی بنیاد نہیںہے۔ پاکستانیوںکے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ 26ممالک کے ساتھ ناجائز دولت اور اثاثوں کی معلومات کے تبادلے کے معاہدے طے پا گئے ہیں اور اب تک گیارہ ارب روپے کے اثاثوں کی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس پر ایک معاصر نے لکھا کہ یہ معاہدے تو ن لیگ کے دور میں بین الاقوامی تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی کے زیر اہتمام طے ہو چکے تھے لہٰذا پی ٹی آئی کی حکومت کو اس کا کریڈٹ نہیں لینا چاہیے۔ایک تو یہ کہ اگر معاہدے بین الاقوامی تنظیم کے زیر ِ اہتمام طے پائے تھے تو ن لیگ کی حکومت کو بھی ان کا کریڈٹ نہیںجاتا۔ دوسرے پی ٹی آئی کی حکومت کے تین ماہ میں ان ممالک سے اثاثوں کی جو معلومات حاصل ہو ئی ہیں ' وہ اگر ن لیگ کی حکومت کی دوران حاصل ہو چکی تھیں تو چھپائی گئی تھیں۔ تیسری بات یہ کہ اب ان ممالک کی تعداد26کی بجائے 29ہو چکی ہے۔ تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی کے ارکان کی تعداد ایک سو تک پہنچ چکی ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ دیگر ملکوں سے بھی ایسے معاہدے طے پائیںگے۔ احتساب بیورو کو جانبدار کہہ کر اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی کے کریڈٹ کی بحث کے ذریعے ایشو کو خلط ملط کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بدعنوانی کی خرابیوں سے آگاہی کی مہم بھرپور طریقے سے جاری رکھی جائے اور اس میں میڈیا اور رائے عامہ کے قائدین بھی حصہ لیں تاکہ بدعنوانی کے خلاف معاشری دباؤ قائم رہے اور اس خرابی کے خاتمے کا باعث بنے۔

متعلقہ خبریں