Daily Mashriq

شکریہ چیف جسٹس

شکریہ چیف جسٹس

جناب چیف جسٹس اس معاشرے کی دُکھتی رگوں پر بات کرتے ہیں۔ وہ درست کہتے ہیں کہ صرف مالدار اور بااثر ہی علاج کرا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے اس حوالے سے ایک کالم بھی لکھا تھا۔ کالم میں چونکہ کینسر کے مریضوں کے حوالے سے بات ہو رہی تھی اس لئے انہی کی مشکلات کی بات ہوتی رہی۔ شاید اس لئے بھی میں کینسر کے مریضوں کے بارے میں بات کرتی رہی کیونکہ ان کا علاج بہت مہنگا ہے اور مشکل بھی۔ ان لوگوں کے مسائل بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان کیلئے تکلیف بھی برداشت کرنا روزبروز مشکل ہوتا جاتا ہے۔ کچھ کیموتھراپی انہیں کمزور کر رہی ہوتی ہے، کچھ کیموتھراپی کے بداثرات ان کی بھوک اور قوت ارادی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ طاقت کم ہوتی ہے تو تکلیف برداشت کرنے کی اہلیت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں ان لوگوں کے مسائل اس لئے زیادہ ہیں کیونکہ کئی دوائیں ملک میں درآمد ہی نہیں کی جاتیں۔ ہمارے ملک میں تو عام بیماریوں کی دوائیاں لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں کجا کینسر جیسی اور جان بچانے والی قیمتی دوائیں جو یہاں پر دستیاب بھی نہیںانہیں خریدنا تو عام آدمی کیلئے محال ہے ۔ ان لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے طریقے اور دوائیں امیروں کیلئے بھی ملک میں موجود ہی نہیں۔ دنیا میںتکلیف کا مداوا کرنے کے کئی طریقے ایجاد ہوچکے ہیں۔ کئی دوائیں ایسی ہیں جو استعمال کی جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر سے میری بات ہورہی تھی۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کینیڈا میں کام کرتے رہے ہیں۔ وہاں اورامریکہ میں درد کے مقامات کو علیحدہ علیحدہ سُن کرنے کا طریقہ بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور پاکستان میں یہ طریقہ کہیں بھی موجود نہیں۔ صرف شوکت خانم میں کچھ ڈاکٹر اسے جانتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں بہت اچھے اور مؤثر درد دور کرنے والی دوائیں بھی دستیاب نہیں۔ پاکستان کا ڈرگ ایکٹ ان کی درآمد کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ میں جانتی ہوں کہ پوری دنیا میں درد کے علاج کیلئے مار فین پیچ (Morphine Patches)استعمال کئے جاتے ہیں۔ انہیں مریض کے جسم پر کسی بھی جگہ لگا دیا جاتا ہے۔ کیمو تھراپی کے بعد مریض جو مختلف قسم کی دردیں محسوس کرتا ہے جو کئی بار ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ وہ انہیں اس Patches کی وجہ سے تین دن تک محسوس ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث حکومت یہ اقدامات تو کر رہی ہے لیکن اس سے ضرورت مندوں کی امداد مشکل سے مشکل ترین ہوتی جاتی ہے جبکہ منشیات کے معاملے کا تو سدباب ہوتا نظر ہی نظر نہیں آرہا۔ ایفی ڈرین کیس میں نہ حنیف عباسی کو سزا ہوئی اور نہ ہی موسیٰ گیلانی کو۔ ملک میں بدعنوانی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مجرموں کیخلاف ثبوت تلاش کرنا ہی ناممکن ہو جاتا ہے۔ موہوم اشارے تو مل جاتے ہیں لیکن کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا جو ملزم کو مجرم ثابت کرتے اور انہیں سزا دلوانے کا موجب بھی ہو۔یہ تو اتنے شاطر ہیں کہ اپنے پیچھے کوئی ثبوت نہیں چھوڑتے کچھ ان کے معاونین بھی ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں جو ان کیلئے راستہ صاف کرتے ہیں کیونکہ یہ اکیلے ایک یا دو افراد کا کام نہیں اس طرح کے کاموں میں بہت سے لوگ نیٹ ورک کی طرح ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرتے رہتے ہیں۔ مگر اب لگتا ہے کہ ان کے برے دن شروع ہونے والے ہیں کیونکہ کچھ موہوم سی اُمیدپیدا ہوچکی ہے معاملات کی سمت کا تعین ہوچکا ہے صرف اس سمت میں قدم اُٹھانا ہے۔ جناب چیف جسٹس بہت نیک کام کر رہے ہیں۔ اس ملک میں صرف ایمانداری کا ہی فقدان نہیں بلکہ لیڈرشپ کا بھی فقدان ہے۔ عمران خان اکیلے ہی اس ملک ونظام کی تصحیح کا کام نہیں کرسکتے کیونکہ بگاڑ بے شمار ہے اور ہر جگہ ہے، آوے کا آوا بگڑاہے۔ جس طرف بھی دیکھو مسائل کے انبار کھڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ چیزیں درست کرنا کہاں سے شروع کیا جائے۔ ہر محکمہ ہر ادارہ میں انگنت مسائل ہیں۔ اس وقت سرجُھکا کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ملک میں لیڈران اپنا کام درست طور پر کرتے رہیں تو کوئی بعید نہیں کہ آہستہ آہستہ یہ ملک اور اس کا نظام بھی درست ہونے لگے۔ لوگ کاہل ہیں اور اپنی سُستی پر مصر رہنے کی کوشش تو ضرور کریںگے لیکن دھیرے دھیرے تبدیلی ضرور آئے گی۔ یہ لوگ ضرور سُدھر جائیںگے کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا۔ اب بھی اگر لوگ نہ سدھریں تو پھر ہاتھ ملتے رہ جائیں گے کیونکہ اب وہ وقت نہیں کہ کام کل پر چھوڑ دیا جائے۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ اگر اب بھی سُستی دکھائی تو صرف پچھتاوا ہاتھ آئے گا۔خرابیاں اور مسائل کہاں نہیں۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کوئی مسئلہ نہ ہو مگران کو درست کرنے کا عزم ہوتا ہے ان ملکوںمیں۔ ہماری بد قسمتی یہ تھی اب تک ان کو درست کرنے کی نیت نہیں تھی۔ اب یہی امید پیدا ہوئی ہے کہ کچھ مثبت سمت قدم اُٹھ رہے ہیں۔ چیف جسٹس درست کہتے ہیں کہ طبی سہولتیں نہ ملنا ریاست کی ناکامی ہے لیکن گزشتہ حکومت نے ہیلتھ کارڈ کے نام سے ایک اچھی کوشش کی تھی۔ خرابی اس وقت ہوئی جب وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان دونوں ہی کی جانب سے فنڈز صرف چند مخصوص ڈویژن کو دیئے گئے۔ اس میں بھی حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ ان ڈویژن کا تعلق صرف پنجاب سے تھا۔ اس زمانے میں بھی بیوروکریسی اچھے کام کرنے کی مددگار ثابت ہونے کی کوشش کرتی تھی اور سیاستدانوں میں بھی اچھے لوگ موجود تھے لیکن ان کی تعداد آج بھی کم ہے، تب بھی کم تھی۔ اب صرف اتنا ہی فرق ہے کہ لیڈرشپ بنیادی طور پر ایماندار ہے اور باقی عمران خان کے خوف سے ایمانداری پر مجبور ہیں۔ اس وقت اس فضا سے فائدہ اُٹھا کر ملک وقوم کی بہتری کا سامان کیا جاسکتا ہے۔ یہ وقت ہے جب چیف جسٹس کی جانب سے معاملات کی جانب اشارہ کیا جانا، مسائل کے حل کا باعث بنے گا۔ اس وقت یہ ایک بہت احسن اقدام ہے۔ حکومت اور قوم ان کی شکر گزار ہے۔

متعلقہ خبریں