Daily Mashriq

پاکستان میں کرپشن کی بنیادی وجہ

پاکستان میں کرپشن کی بنیادی وجہ

انبیائ' صلحاء اور اولیاء کے علاوہ تقریباً ہر انسان میں مال جمع کرنے کی فطری عادت موجود ہے اور جائز وحلال ہونے کی حد تک یہ پسندیدہ بھی ہے۔ اگرچہ عہد نبویۖ کے مثالی دور میں رزق کمانے اور خرچ کرنے کے معاملات بھی مثالی تھے۔ اس زمانے میں اسلامی معیشت کی بنیاد حلال پر رکھی گئی تھی اور قیامت تک اہل اسلام کیلئے اسے فرض قرار دیا گیا ہے لیکن وقت گزرنے کیساتھ اگرچہ دولت کمانے اور جمع کرنے کیلئے اصول تو حلال ہی کا رہا لیکن اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت یا ان تعلیمات کی شدت وسنجیدگی کے متعلق وہ حساسیت امت میں نہ رہی جو کبھی تھی۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسان کی فطری وطبعی حرص ومیلان مال کے پیش نظر کیا خوب فرمان اُمت کو دیا ہے ''اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری کا خواہشمند ہوگا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس شخص کا توبہ قبول کرتا ہے جو دل سے سچی توبہ کرتا ہے۔''

عالم اسلام میں اس وقت ہوس مال وزر نے اسلامی ملکوں کے اندر جو صورتحال پیدا کی ہے وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ پچھلے دنوں عالم اسلام کے امیر ترین ملک سعودی عرب کے کھرب پتیوں کو جس طرح ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں رکھا گیا اور ان سے کافی مال ریاست کیلئے حاصل کیا گیا۔ مغرب اور امریکہ وجاپان اور چین وغیرہ میں کرپشن کے حوالے سے جو قوانین موجود ہیں ان کی وجہ سے وہاں کرپشن کی شرح بہت کم ہے۔ چین میں تو کرپشن پر سزائے موت تک مل سکتی ہے۔ مغرب میں ایسے لوگوں کو پبلک عہدوں کیلئے ہمیشہ کیلئے نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔

برطانیہ کا حالیہ گولڈن ویزوں کے ختم کرنے کا فیصلہ اس کے باوجود کیا گیا کہ دنیا کے امیر ترین لوگ گولڈن ویزا کیلئے لاکھوں میں ادائیگی کرتے تھے اور برطانیہ کی ذرائع آمدنی میں اس کا اچھا بھلا حصہ تھا لیکن منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اس کو ختم کرکے اپنے ملک کو مالی بدعنوانیوں سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کو ترجیح دی گئی۔

قرآن وحدیث میں رزق حلال پر زور وتائید اور حرام سے بچنے کی وعید کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسلامی ملکوں میں کم سے کم کرپشن ہوتی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسلامی تعلیمات سے نابلد یا ان تعلیمات کو خاص توجہ نہ دینے کے سبب عالم اسلام کے حکمران طبقات (الاماشاء اللہ) اور طبقہ اشرافیہ کی ہوس زر اور عیش پرستانہ زندگی گزارنے کی تڑپ اور حرص نے تمام حدیں پھلانگ ڈالی ہیں۔ گزشتہ پانچ عشروں سے وطن عزیز کے وسائل کو جس بیدردی کیساتھ نوچا اور لوٹا گیا ایسا تو شاید ڈاکو بھی نہ کرتے ہوں گے۔

ستم بالائے ستم دیکھئے کہ وطن عزیز کے وسائل تو چلو اپنا مال تھا ان ظالموں نے تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بھاری سود پر لئے گئے قرضے بھی اس انداز سے ہڑپ کرلئے کہ قرضے بمعہ سود اپنی جگہ قائم ہیں لیکن جس مقصد کیلئے یہ قرضے پاکستانی عوام کے نام پر لئے گئے اس کا پچیس فیصد فائدہ بھی عوام کو نہ مل سکا۔

ہمارے اس طبقہ اشرافیہ پر اس وقت مندرجہ بالا سطور میں بیان کی گئی حدیث من وعن منطبق ہوتی ہے کہ ان کے پاس ناجائز ذرائع سے کمائی گئی مال ودولت کی کئی وادیاں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ''ہل من مزید '' کی صدا لگاتے ہوئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے دن رات لگے ہوئے ہیں۔ اگرچہ آج کل تھوڑی بریک سی لگ گئی ہے

لیکن ان معاشی دہشتگردوں کے پرانے کارناموں کو عوام اگر بھولنا بھی چاہیں تو کیسے؟ کہ ان کے نئے کارنامے روزانہ منظرعام پر آرہے ہیں۔ ایسا شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ہو۔ بس وہ جو کہتے ہیں کہ سنتا جا شرماتا جا۔۔ لیکن شرمانا کہاں۔ حدیث کے مطابق جب حیا (شرم) فوت ہو جائے تو آدمی کے دل میں جو آئے وہ کرے۔''

بے نامی اکاؤنٹس میں اربوں کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں کہ نان جویں کیلئے ترستے اور صاف پانی کیلئے بلکتے عوام ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے ہیں۔ اس حوالے سے جو جے آئی ٹی بنی ہے اس کی ابتدائی کارروائی سے جن بڑے بڑے پردہ نشینوں کے ''اسمائے گرامی'' سامنے آئے ہیں شاید یہ سلسلہ بہت طویل ہو جائے۔

وطن عزیز پر اس وقت پچانوے ارب ڈالرز کے لگ بھگ بیرونی قرضہ چڑھا ہوا ہے۔ اس نے جہاں عوام کو کالانعام بنا دیا ہے وہاں ملکی سلامتی کو خطرات لاحق کئے ہیں جس کی طرف ڈی جی آئی ایس پی آر نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا شروع کیا تو ملک بہت جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور اگر خدانخواستہ یہی صورتحال رہی تو ملک کے حالات اس سے بھی خراب ہوسکتے ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ پاکستانی قوم کا کرپشن کے خاتمے اور معاشی دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ کاش ان ہوس زر میں مبتلا طبقہ اشرافیہ کے چنیدہ لوگوں کو رزق حلال کا ذائقہ محسوس ہو اور اس دنیا کی ناپائیداری اور آخرت میں کمائی اور خرچ کرنے کے بارے میں سوال وجواب کا یقین دل میں سما جائے۔ علامہ کا یہ شعر ایسے ہی لوگوں کیلئے ہے۔

یہ مال ودولت دنیا یہ رشتہ وپیوند

بتان وہم وگمان لا الہ الا اللہ

متعلقہ خبریں