Daily Mashriq

ادبی جنگ زرگری اور خفیہ ہاتھ

ادبی جنگ زرگری اور خفیہ ہاتھ

خیالات گڈمڈ ہو رہے ہیں، سیاسی فضا کے مکدر بلکہ انتہائی معذرت کیساتھ کہے دیجئے کہ تعفن سے جو صورتحال جنم لے رہی ہے اس نے سوچوں کو مسموم کرنے کی راہ کیا ہموار کر رکھی ہے اور حالات افسوس کی ردا اوڑھ کر جس کیفیت کو مہمیز دے رہے ہیں وہ تو ایک طرف، پشاور کی ادبی فضا میں بھی طنز وتشنیع کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے، ادبی چشمک کی تاریخ دیکھی جائے تو اگرچہ یہ ہر دور اور ہر شہر میں رہی ہے اور یار لوگ مختلف انجمنوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا راستہ روکنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں، ذاتی دوستوں کی ستائش اور ان کے ادبی کارناموں کے حوالے سے زمین آسمان کے قلابے ملانے والوں کے بارے میں ایک ترکیب ''انجمن ستائش باہمی'' استعمال کی جاتی تھی جبکہ مشاعروں اور ادبی محافل میں دوسروں کا راستہ روکنے یا ان کے حوالے سے نامناسب رویہ رکھنے والوں کیلئے ایک اور ترکیب استعمال ہوتی تھی یعنی ''انجمن کہنی ماراں'' اور بظاہر دوست کہلانے والے بھی کبھی کبھی ایسا ہی کرتے نظر آتے تھے۔

پیار کی بازی ہارتے لمحے

دوست ہی کہنی مار گئے تو؟

اب گزشتہ چند سال سے لگ بھگ ایسی ہی صورتحال ہے، بدقسمتی سے اس کم بخت فیس بک نے اس مسئلے کو زیادہ گمبھیر کر دیا، جہاں کچھ لوگ ''گندے کپڑے'' بیچ چوراہے کے دھونے میں لگے ہوئے ہیں، جس سے پشاور کی ادبی صورتحال کے حوالے سے بلاضرورت ایک منفی تاثر اُبھر رہا ہے، حالانکہ اس حوالے سے سارا ''سچ'' بھی نہیں مگر جس طرح سیاسی سطح پر ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کا کلچر پروان چڑھ کر اس وقت نفرت اور حقارت کی بلند ترین سطحوں کو چھو رہا ہے تقریباً وہی کیفیت ادبی حلقوں پر بھی چھائی ہوئی ہے اور ناسمجھی کی انتہا یہ ہے کہ جو لوگ یہ حرکتیں کر رہے ہیں انہیں شاید اس سے ذہنی آسودگی حاصل ہوتی ہو، مگر وہ اس بات کا احساس قطعاً نہیں کر رہے ہیں کہ ان کی ان معصوم سی شرارتوں سے پورا ادبی نظام باہر کے ادبی حلقوںکی نظر میں بلاوجہ بدنام ہو رہا ہے۔ انہیں شاید یہ زعم ہو کہ

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

مگر میری دانست میں یہ سوچ کسی مثبت رویئے کی نشاندہی نہیں کرتی، یہ تو بالکل وہی صورتحال ہے کہ ایک گلاس پانی سے نصف بھرا ہوا ہو تو ماہرین نفسیات کے مطابق اسے آدھا بھرا ہوا قرار دینے والے مثبت جبکہ آدھا خالی کہنے والے منفی سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ بہرحال جملہ ادبی حلقوں کو کرنا ہے کہ جس طرح پشاور کی ادبی فضا کے حوالے سے تبصرے کئے جارہے ہیں اس کے پیچھے کس قسم کی سوچ کارفرما ہے۔ یہاں ایک اور رویئے پر بھی غور کرنا چاہئے اور وہ ہے اسی فیس بک کے ذریعے بعض بلکہ بہت سے افراد کی جانب سے اپنی شاعری کی پوسٹیں بار بار سامنے لانے سے یہ لوگ خود کو ادبی طور پر آگے لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان میں سے غیرمعیاری شاعری کرنے والوں کی ان حرکتوں سے بھی ملکی سطح پر کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہو رہا کیونکہ اہل علم ودانش تو شاعری کا جائزہ لیکر بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ (غیرمعیاری شاعری) کے خالق کتنے پانی میں ہیں اور ادبی سطح پر انہیں کیا مقام دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ لوگ بہ زعم خود اپنے آپ کو بڑے شاعروں میں شمار کرتے ہیں حالانکہ

عشق وحسن سب فانی، پھر غرور کیا معنی

کس شمار میں ہم ہیں، کس قطار میں تم ہو

والی کیفیت سے دوچار ان لوگوں کو احساس ہی نہیں کہ اور کچھ شغل کیجئے، شاعری چھوکروں کا کھیل نہیں، اس کے باوجود اگر ایسے خودساختہ شاعر ادیب اس بات پر مصر ہیں کہ ان کا ادب میں کوئی ثانی نہیں تو سمجھنے دیجئے اور سوشل میڈیا کو دعا دیجئے کہ ''ہم کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا'' مگر دکھ ان لوگوں کے رویئے پر ضرور ہوتا ہے جو ادب کی شاہراہ پر غلاظت بکھیرنے میں مگن یہ نہیں سوچتے کہ ان کی ان حرکتوں سے باہر کے ادبی حلقے ہمارے بارے میں کیا کہیں گے۔ چند ماہ پہلے فیس بک پر اسی ادبی جنگ زرگری کے خاتمے کیلئے ڈاکٹر نذیر تبسم اور میرا تذکرہ کرتے ہوئے صورتحال کو معمول پر لانے کی درخواست کی گئی تھی، میں نے کئی دوستوں سے اس انا کی لڑائی کو ختم کرنے پر تبادلہ خیال کیا، ڈاکٹر نذیر تبسم بھی مجھ سے متفق تھے اور ہماری خواہش تھی کہ یہ یلغار تھم جائے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو اندر ہی اندر کچھ خفیہ ہاتھ معاملات کو سلجھنے نہیں دے رہے بلکہ اُلٹا اسے مزید اُلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ ظاہری طور پر جس سے بھی بات کی جائے وہ اس بات سے اتفاق کرتا دکھائی دیتا ہے کہ یہ مسئلہ ختم ہو جائے لیکن پھر بھی ایسی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں کہ بہتری کے اندر ہی سے خرابی جنم لیتی دکھائی دیتی ہے اور اب تو صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ ڈاکٹر نذیر تبسم جیسا صلح کل شخص بھی حالات کے آگے سپر ڈالنے اور خود کو لاتعلق کر کے بھی دکھ کا اظہار کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ خدا جانے اناؤں کی یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور جس طرح ملکی سیاست میں نفرت نے گہرائی میں جا کر اپنی جڑیں مضبوط کر دی ہیں کہ ادبی فضا بھی نفرتوں، کدورتوں، بغض وعناد کے چولے اوڑھ کر باہم متصادم شخصیات کی کردارکشی کا باعث بنے گی یا پھر عقل وخرد کے جذبے منفی سوچوں پر فتح پانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ اس پر جملہ ادبی شخصیات کو ٹھنڈے دل سے ضرور سوچ لینا چاہئے۔ جو اس بات کا تقاضا بھی کرتے ہیں کہ بڑے دل بڑا کر کے چھوٹوں کو گلے لگانے میں اپنی سبکی نہ سمجھیں جبکہ چھوٹے (جونیئر) بڑوں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دل کشادہ کرلیں اور سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک آملنے کو عظمت آدمیت سمجھ لیں۔

متعلقہ خبریں