Daily Mashriq


ترجیحات

ترجیحات

سانسوں کی ڈور کے چلنے کیساتھ ساتھ کاموں کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے۔ کاموں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ سانسوں کی یہ ڈور ختم ہوتے ہی سارے کام بھی ختم ہو جاتے ہیں یا پھر یوں کہئے کہ یہ کام کسی اور کے ذمے پڑ جاتے ہیں۔ پھر وہی کام کوئی اور کرنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ زندگی نام ہی کام کرنے کا ہے۔ شاپر بھربھر کر گھر کا سودا سلف لاتے جاؤ لاتے جاؤ، آپ یہ سمجھیں گے کہ بس اب کے کچھ دنوں کا آرام مل جائے گا لیکن اگلے ہی دن کوئی دوسری چٹ مل جائے گی کہ فلاں فلاں چیزیں لیتے آئیے گا۔ لوجی پھر بازار جائیں اور شاپر بھر کر گھر لائیں۔ کبھی بجلی کا بل زیادہ آگیا تو جائیں دفتروں کے چکر لگائیں اور دوچار پھیروں میں وہ کام نبٹا لیں۔ کبھی گیس کا بل زیادہ آیا تو تشویش ہوگی کہ کہیں پائپوں میں سے گیس تو لیک نہیں کر رہی، سو مکینک بلائیں اور اس کیساتھ گھر کے پائپوں کا معائنہ کیجئے۔ سردی کے موسم میں ہیٹروں کی مرمت اور گیزر کی طبیعت باربار پوچھئے۔ گرمی ہو تو یو پی ایس اور جنریٹر کے غم میں ہلکان ہوئیے۔ گویا کوئی دن ایسا نہیں کہ کام نہ ہو لیکن کوئی دن ایسا آبھی جائے کہ جس دن کام نہ ہو تو گھر میں بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے لگتا ہے کہ آج کچھ کھو دیا ہے۔ زندگی میں کچھ کمی سی لگتی ہے، کچھ ادھورا پن سا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے میں شریف لوگ کوئی پینڈنگ قسم کی چیز نکال کر اسے ٹھیک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ معاملہ اتنا گمبھیر نہیں ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں انسان اسی طرح جیتے ہیں۔ بعض علاقوں میں زندگی کی رفتار تیز ہوتی ہے اور بعض میں قدرے کم۔ اسی رفتار کے مطابق انسانی زندگی اور اس سے متعلق کام بھی ہوتے ہیں۔ 1986 میں کالج کے ٹور پر کراچی گئے تھے۔ ان دنوں پشاور کی زندگی اتنی تیزرفتار نہ تھی اور نہ ہی شہر اتنا پُرہجوم تھا۔ کراچی شہر کی رفتار اور رش اس زمانے میں بھی پشاور سے کئی گنا زیادہ تھی۔ دن کب ڈھلتا اور کب شام ہوتی سمجھ ہی نہ پڑتی۔ کسی دوست نے واپسی پر پوچھا کہ کراچی کیسا تھا؟ تو ہم نے کہہ دیا کہ بھائی سارا شہر دوڑ رہا تھا ہم بھی ان کیساتھ دوڑتے رہے۔ کیا خبر تھی کہ یہی ہجوم اور یہی زندگی کی رفتار ہمارے شہر کو بھی کھا جائے گی اور ہم بھی اپنے شہر میں یونہی ایک کام سے دوسرے کام کی جانب بھاگتے ہوئے بڑھیں گے۔ کاموں سے بھری اس زندگی نے ہمارے بعض رویوں کو عجیب رُخ دیا ہے۔ ہمارا ذہن جب کاموں کے حوالے سے ترجیحات بناتا ہے تو ان ترجیحات میں ظاہر سی بات ہے کہ ان کاموں کو زیادہ مقدم رکھا جاتا ہے کہ جن کی نوعیت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ جیسے آپ نے ایک ہی دن میں ہانڈی کا مصالحہ بھی لانا ہے، بجلی کا بل بھی جمع کروانا ہے، ایک سسرالی عزیز کی عیادت بھی کرنی ہے۔ بچوں کی کتابیں خریدنی ہیں۔ تو ظاہر ہے اس میں بجلی کا بل پہلی ترجیح ہونی چاہئے کہ ایک خاص وقت تک ہی اسے جمع کروایا جاسکتا ہے۔ دوسری ترجیح بچوں کی کتابوں اور گھر کی اہم اشیاء کی خرید وفرخت وغیرہ کی ہونی چاہئے۔ سب سے آخر میں عزیز کی عیا دت۔ لیکن جب آپ بنک گئے تو وہاں ایک لمبی قطار کھڑی ہے۔ آپ بل ایزی پیسہ والوں کے پاس بھی جمع نہیں کروا سکتے کہ یہ بل تصحیح شدہ بل ہے اور مخصوص برانچوں میں ہی جمع ہوں گے۔ اب آپ نے لائن میں لگنا ہی ہے۔ سوال اتنا سا ہے کہ آخری تاریخ تک آخر بات ہی کیوں پہنچی۔ آخر اس آخری تاریخ سے پہلے بھی کچھ تاریخیں ہوں گی کہ جن میں ہم اپنے بل وغیرہ جمع کروا سکتے تھے۔ آخر وہ کیا نفسیاتی حوالہ ہے کہ ہم اپنے انتہائی اہم کام آخری تاریخوں تک ٹالتے رہتے ہیں۔ ''ہو جائے گا یار ابھی بڑا وقت باقی ہے'' یہ جملہ ہمارے قومی مزاج کی علامت سا بن چکا ہے، یہ لاپرواہی کی ایک ارفع مثال ہے۔ بھئی جو کل کرنا ہے تو آج کیوں نہیں کرتے۔ میں نے اکثر لوگوں کو آخری تاریخیں گزر جانے کے بعد افسروں کی منتیں کرتے ہوئے دیکھا۔ ان میں سے اکثر بلاوجہ اس کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں، چلو اگر کسی کا کوئی مسئلہ ہے تو کوئی بات بھی ہے۔ تنخواہ نہیں ملی، کسی بل کی ادائیگی کیلئے پیسوں کا بندوبست بروقت نہ ہو سکا، بیماری کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے، یہ سب عذر یقینی طور پر قابل قبول ہیں لیکن ایک بات تو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ایک عجیب سی غیریقینی کی صورتحال رہتی ہے۔ آپ نے آخری تاریخ کو کوئی کام کرنا ہے اور اسی دن راستے بند ہوگئے۔ کسی وی آئی پی موومنٹ یا کسی کی ہڑتال کی وجہ سے یا کسی دوسری ہنگامی صورت کی وجہ سے آپ کیلئے مسائل بن سکتے ہیں۔ سو ان مسائل سے بچنے کیلئے کم ازکم ہمیں اپنی ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنا چاہئے۔ دوبارہ اپنی زندگی کو دیکھنا ہے کہ ہم نے کون سی چیز کو کہاں رکھنا ہے تاکہ آخری تاریخوں میں اپنی جان جوکھم نہ ڈال پائیں۔ زندگی جتنی تیزرفتار ہوئی ہے اس کیساتھ ساتھ سمارٹ بھی ہوئی ہے۔ اب تو بہت سے کام سمارٹ فون اور لیپ ٹاپ سے باآسانی ہو سکتے ہیں اور کچھ نہیں تو ہم اپنی ناگزیر ترجیحات کو بروقت سرانجام دینے کیلئے کم ازکم اپنے فونز پر الرٹ یا ریمائنڈر تو لگا ہی سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں