Daily Mashriq

اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اسداللہ غالب کو کبھی بھی ایسی بات کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی کہ

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب

شرم تم کو مگر نہیں آتی

اگر وہ مولانا روم کی اس نصیحت پر کماحقہ عمل کر لیتے جس میں انہوں زندگی کا مقصد بتاتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھاکہ

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

جو فرد یا قوم بندگی کو زندگی کا مقصد نہیں بناتی اس کی زندگی شرمندگی بن جاتی ہے۔ مولانا روم کے اس نصیحت آموز شعر میں چھپے پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے شاعر مشرق نے بندگی کا مفہوم سمجھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اے حضرت انسان اگر تم نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بندگی کر کے اس کی خوشنودی حاصل کرنی ہے تو تم اس کی مخلوق سے پیار کر۔ مخلوق خداوندی کا درد اپنے دل میں پال، ایک دوسرے کے دکھ درد اور رنج وآلام میں کام آ۔ اپنے فرائض نبھا اور اس کے حقوق ادا کر کہ یہی مقصد حیات ہے، اسی کو زندگی کہتے ہیں اور اسی کو بندگی سے تعبیر کیا گیا ہے

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

آج دسمبر کے مہینے کی دس تاریخ ہے اور ہر سال آج کے دن پاکستان سمیت ساری دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ دنیا والوں کو بتایا جا سکے کہ ہر وہ انسان جو اس دنیا میں آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ جیو اور جینے دو کے حقوق لیکر آتا ہے، ماں کی گود میں آنکھ کھولنے والے بچے کو جب بھوک ستاتی ہے تو وہ چیخ چیخ کر رونے لگتا ہے اور یوں دنیا والے کہہ اُٹھتے ہیں کہ اگر بچہ روئے نہ تو ماں اس کو دودھ نہیں دیتی۔ گویا ہم اپنے حقوق کیلئے آواز اُٹھانے کا مظاہرہ ماں کی گود ہی میں شروع کردیتے ہیں اور ماں جیسی عظیم ہستی اس حق کو پورا کرنے میں دیر نہیں کرتی ماں ہوتی ہے نا، اس لئے وہ بچے کے حقوق کو فی الفور پورا کردیتی ہے لیکن یہ دنیا والے تو ماں جیسے نہیں ہوتے، بڑے سنگدل ہیں ہمارے آس پاس بسنے والے لوگ، حسد، بغض، ایک دوسرے کو کچل کر آگے بڑھ جانے کی دوڑ، ناجائز منافع خوری، بے انصافی، خوف خدا کی کمی اور اس قسم کی کتنی قباحتیں ہیں کتنے عارضے ہیں جو بڑی بیدردی سے ایک دوسرے کے انسانی حقوق کی پامالی کا باعث بن رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے چالاک اور زورآور لوگوں کی دنیا ہو، بندوق کی گولیوں سے قانون کی دھجیاں اُڑا دینے والے لوگوں کی ہو یہ دنیا، انفرادی طور پر تو ہم اپنے حقوق پامال ہوتے دیکھتے ہی رہتے ہیں مگر اجتماعی سطح پر اقتدار پر قابض ہونے والے ہمارے حقوق کو پامال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے قبلہ اول کو یہودیوں اور نصرانیوں کے قبضہ میں دیکھ کر دل ہی دل میں لہو کے آنسو رونے لگتے ہیں، آہ فلسطینیوں سے ان کی آزادی کا حق چھیننے والے، اف کشمیر کے چناروں کو غلامی کی آگ میں بھسم کر دینے والے، افغانستان، شام اور عراق میں آگ اور خون کی ہولی کھیل کر آج دس دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منانے کا ڈھونگ رچا کر مگرمچھ کے آنسو بہاتے نظر آرہے ہیں، تاکہ ان کی جانب سے انسان، انسانیت اور انسانی حقوق کی پے در پے خلاف ورزیوں کے جرائم پر پردہ پڑا رہے، بڑا مکار شکاری ہے مگرمچھ جب شکار کو اپنے جبڑوں میں دبوچتا ہے آنسو ضرور بہاتا ہے، کہتے ہیں اس وقت اس کو وہ بندر یاد آجاتا ہے جس کا شکار کرتے وقت اس نے کہا تھا میں تیرا کلیجہ کھانا چاہتا ہوں، بندر نے مگرمچھ کی زبان سے یہ بات سنی تو اس نے کہا وہ تو میں درخت کی ٹہنی پہ بھول آیا ہوں، بندر کی زبانی یہ بات سن کر سست رو مگرمچھ نے کہا کہ جاؤ اور فوراً لیکر آؤ اپنا کلیجہ، بندر نے مگرمچھ کی گرفت کو ڈھیلا پاکر قلابازی لگائی اور اپنا کلیجہ لانے کے بہانے اس کے چنگل سے آزاد ہوکر یہ جا وہ جا دور جنگل میں بھاگ کر ٹہنی ٹہنی اچھلنے لگا۔ ادھر مگرمچھ اس کا کلیجہ کھانے کے شوق میں 'ڈومور ڈومور' کا راگ الاپتا رہا اور دوسری طرف بندر ٹہنی ٹہنی اچھل کر آزادی کے نغمے الاپتا رہ گیا

ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں

ہم سب کا ہے ارمان پاکستان پاکستان

1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کی پاسداری کا قانون ترتیب دیکر اس کا خوب خوب چرچا کیا گیا اور پھر تاریخ پر نظر رکھنے والوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ تب سے اب تک انسانی حقوق کا بھرم رکھنے کے دعویدار نمرودوں نے انسانی حقوق کو غصب کرنے کی ایسی ایسی خلاف ورزیاں کیں کہ ہر زبان مظلوموں کی زبان بن کر پکار اُٹھی کہ

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

مولانا روم نے نہایت مختصر الفاظ میں زندگی آمد برائے بندگی کہہ کر بات ختم کردی لیکن شاعر مشرق نے پیر رومی کی اس بات کی تشریح کرتے ہوئے بتا دیا کہ بندگی سے مراد نوع انسان کے حقوق کی پاسداری ہے جبکہ سارے جہانوں کیلئے رحمت بن کر تشریف لانے والے محسن انسانیت کے وجود بے سائے کے زیرسایہ میرے دین کی تعلیمات نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے کی ریاست مدینہ قائم کرکے دنیا والوں کو بتا دیا تھا کہ انسانی حقوق کی پاسداری کیسے کی جاتی ہے

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

متعلقہ خبریں