Daily Mashriq

وزیراعظم عمران خان نے اینٹی کرپشن ایپ کا افتتاح کر دیا

وزیراعظم عمران خان نے اینٹی کرپشن ایپ کا افتتاح کر دیا

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں کرپشن کے خلاف کارکردگی کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے کہا ہے کہ ان اقدامات کی تشہیر کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں 'اینٹی کرپشن ایپ' کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایپ لانچ کرکے مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کیونکہ پاکستان کو ماڈرن سوسائٹی بنانے میں یہ ایک بڑا قدم ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے جو کارکردگی دکھائی اور پیسے برآمد کیے یہ انتہائی متاثر کن ہے اور میں وزیر اعلیٰ سے درخواست کروں گا کہ آپ اس کی تشہیر کریں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ اینٹی کرپشن کے اقدامات سے عوام کا کیا فائدہ ہے’۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘تقریباً 130 ارب روپے کی عوام کی زمین واپس لایا اور 5 ارب روپے کیش برآمد کیا یہ سب عوام پر خرچ ہوگا لیکن پاکستان میں مشکل یہ ہے کہ عوام کو سمجھ ہی نہیں ہے کہ کرپشن اور ان کی زندگی کا کیا تعلق ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘لوگ سمجھتے ہیں کہ کرپشن ہوئی تو حکومت کا پیسہ چلا گیا اس سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے اور میں نے دیکھا کہ کئی کرپٹ لوگوں پر پھول برساتے ہیں اور ان کو زندہ باد بھی کہتے ہیں لیکن یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی آپ کا گھر لوٹ لے اور آپ اس پر پھول پھینکنا شروع کردیں’۔

'عوام کو کرپشن کی سمجھ نہیں'

عمران خان نے کہا کہ ‘لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب ایک ملک کا پیسہ چوری ہوتا ہے تو اصل میں ساری قوم کو اس کا نقصان ہوتا ہے اور اس کا تعلق اس وقت واضح ہوگا جب آپ اپنی کارکردگی لوگوں کو باقاعدہ بتائیں گے’۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ نے جو ایپ بنائی ہے اس پر آپ کی ہر مہینے جو کارکردگی ہو اس سے لوگوں کو آگاہ کریں بلکہ اشتہار دیں اور بتائیں کہ عوام کا کتنا فائدہ ہوا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج دنیا کو دیکھ لیں جو سب سے تیز معشیت آگے بڑھ رہی ہے وہ چین کی ہے، ان کے صدر شی جن پنگ کی مقبولیت کا بڑا راز یہی ہے کہ انہوں نے پچھلے 5 سے 6 برسوں میں 400 سے زیادہ وزیر کی سطح کے لوگوں کو کرپشن پر جیل میں ڈالا ہے، یعنی سب سے بڑا احتساب کیا جس کی وجہ سے وہ چین میں مقبول ہیں’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘وزیراعظم، وزرا یا اس سے اوپر کی سطح کے لوگ پیسے کھاتے ہیں تو وہ قوم غریب ہوجاتی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آج بیروت میں عوام حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف سڑکوں پر ہے، اسی طرح چلی اور عراق میں عوام سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں کیونکہ اب یہ نیا زمانہ ہے، سوشل میڈیا اور موبائل فون کا زمانہ ہے جس سے لوگوں کو پتہ چل رہا ہے، پہلے چھپ جاتا تھا اب چھپتا نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘دنیا میں لوگوں کو احساس ہوگیا کہ کرپشن ہوگی تو ہمارا ملک آگے بڑھ نہیں سکتا، دنیا میں جو کرپٹ قومیں ہیں وہ سب سے غریب ہیں، جن کو شفاف حکومتیں کہتے ہیں وہ امیر ہیں، وسائل کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے’۔

'سوئٹزرلینڈ کے پاس وسائل نہیں مگر دنیا کا امیر ترین ملک ہے'

وزیراعظم نے کہا کہ ‘جو غریب ترین قومیں ہیں ان کے پاس سب سے زیادہ وسائل ہیں، کانگو میں کون سے ہیرے، جواہرات نہیں ہیں لیکن غریب ترین ملک ہے، نائیجیریا تیل پر بیٹھا ہوا ہے مگر غربت ہمارے سے بھی زیادہ ہے اور سوئٹزرلینڈ کو دیکھیں وسائل نہیں ہیں اور دنیا کا امیر ترین ملک ہے’۔

کرپشن کو غربت کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اگر آپ کو خوش حالی دیکھنا ہے تو جس قوم میں کرپشن نہیں ہے، شفاف ہے وہ اوپر ہے جبکہ جس قوم میں وسائل ہونے کے باوجود کرپشن ہے وہ نیچے ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘جدید، ایڈوانس اور خوش حال ملک یا معاشرے کی سب سے زیادہ توجہ کرپشن پر ہے، امریکا میں 30،30 سال بعد کرپشن پر پکڑ لیتے ہیں، وہ کرپشن کو چھوڑتے نہیں ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے جب کرپشن ایک معاشرے میں عام ہوجائے تو سب سے پہلے جو پیسہ عوام پر خرچ ہونا ہوتا ہے وہ لوگوں کے جیبوں میں چلا جاتا ہے’۔

'نوجوان کرپٹ لوگوں کے پیچھے جائیں گے تو نیا پاکستان بن جائے گا'

تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ‘جو لوگ حکومت میں آکر کرپشن کرتے ہیں تو انہیں ڈر ہوتا ہے کہ پیسہ بینک میں رکھیں گے تو سب کو پتہ چل جائے گا وہ پیسہ ٹی ٹی وغیرہ کے ذریعے ملک سے باہر بھجوا دیتے ہیں، ملک میں رہے گا تو نظر آجائے گا اس طرح وہ دگنا نقصان کرتے ہیں’۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘جب انہیں پیسہ باہر بھجوانا ہوتا ہے تو ان کو ڈالر خریدنے ہوتے ہیں، جب ڈالر خریدتے ہیں اور منی لانڈرنگ کرتے ہیں تو اس سے روپے پر دباؤ بڑھتا ہے، جب روپیہ گرتا ہے تو قوم کی دولت بھی کم ہوتی ہے، جو چیزیں درآمد کرتے ہیں وہ مہنگی ہوتی ہیں اور ملک میں مہنگائی آتی ہےجو منی لانڈرنگ کا دوسرا نقصان ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا ‘تیسرا نقصان کرپٹ معاشروں میں سرمایہ کاری نہیں ہوتی، اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ بیرون ملک پاکستانی ہیں’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘اگر ہم اپنا نظام ٹھیک کرلیں جو کہ یہ اس طرف اچھا قدم ہے، اگر کرپشن پر قابو پاجائیں تو جتنا پیسہ ہمارے بیرون ملک پاکستانیوں کے پاس ہے اگر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا شروع کردیں جس طرح چین میں پہلے اوورسیز چینیوں نے کیا، جس طرح بھارت کے بیرون ملک شہریوں کی سرمایہ کاری کی تھی تو ان کی معیشت اوپر اٹھی تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سمندر پار پاکستانی کہتے ہیں ان سے لوگ رشوت مانگتے ہیں اور کرپشن بڑی ہے اس لیے سرمایہ کاری نہیں کرتے، کرپشن سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی جس سے ایسے منصوبے بن جاتے ہیں جس کی ملک میں ضروت ہی نہیں ہوتی، منصوبے صرف کک بیکس اور پیسے بنانے کے لیے بن جاتے ہیں’۔

'ملتان کے لوگوں کو میٹرو نہیں چاہیے'

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘ملتان میٹرو ہے، ملتان کے لوگ کہتے ہیں ہمیں میٹرو نہیں چاہیے، تو مان یا نہ مان میں تیرا مہمان، ان کو زبردستی میٹرو پکڑا دی جو خالی چل رہی ہے اور اربوں روپے کا نقصان کررہی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یاد رکھیں کہ جب تک ہمارے عوام یہ نہ سمجھیں گے کہ جو کرپٹ آدمی ہے وہ عوام کا دشمن ہے، عجیب باتیں سنتے ہیں کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے، اس طرح کی بات صرف بے وقوف کرسکتے ہیں جن کو سمجھ نہیں اور جنہوں نے دنیا نہیں دیکھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری قوم کو عظیم بننے کے لیے کرپشن کے خلاف ہمارے جہاد میں شرکت کرنا پڑے گی اور موبائل ایپ پر جو زبردست کام کیا ہے اس پر میں حکومت پنجاب کی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو داد دیتا ہوں’۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘موبائل فون میں ایپ سے ان کو پیغام دے کر ہر کوئی شرکت کرسکتا ہے، جب نوجوان خود شرکت کریں گے اور کرپٹ لوگوں کے پیچھے جائیں گے تو نیا پاکستان بنے گا’۔

اینٹی کرپشن ایپ کی افتتاحی تقریب سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ خبریں