Daily Mashriq

شیریں مزاری کی دفتر خارجہ پر شدید تنقید

شیریں مزاری کی دفتر خارجہ پر شدید تنقید

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی ان کی کوششوں کو نہ سراہنے پر دفتر خارجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہیومن رائٹس ڈپلومیسی نام سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی احکامات معاہدوں اور قراردادوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ذریعے چلائے جارہے ہیں جس پر پاکستان سمیت زیادہ تر ممالک راضی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ دفتر خارجہ نے تبدیلوں کے ساتھ اپنی رفتار تیز نہیں کی اور سفارت کاری کی نوعیت میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے سے انکاری رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی 7 بین الاقوامی قراردادیں ایس ہیں جس میں پاکستان فریق ہے، ان میں انٹرنیشنل کنوینشن برائے سول اینڈ پولیٹکل رائٹس، انٹرنیشنل کنوینینٹ آن اکنامکس، سوشل اینڈ کلچرل رائٹس، کنوینشن اگینسٹ ٹارچر، کنوینشن آن ایلمنیشن آف آر فورمز آف ڈسکریمنشین اگینسٹ ویمن، کنوینشن آن رائٹس آف پرسنز ود ڈس ایبلینیٹز، کنوینشن آن رائٹس آف دی چائلڈ اینڈ دی انٹرنیشنل کنوینشن آن دا ایلمنیشن آف آل فارم آف ریشل ڈسکریمنیشن شامل ہیں۔

شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ان کنویشنز کے تحت عائد ذمہ داریوں پر عمل کر کے فوائد حاصل کیے ہیں لیکن دفتر خارجہ بین الممالک تعلقات میں انسانی حقوق سفارت کاری کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتا۔

شیریں مزاری کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے انسانی حقوق کی اہمیت نہ دینے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیاں مکمل طور پر بے نقاب ہونے سے محروم رہیں۔

وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے اقدام کے بعد لائن آف کنٹرول کے اطراف میں بھارت کے کلسٹر بموں کے استعمال کے بارے میں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق، 18 ایچ آر اسپیشل پروسیجر مینڈیٹ ہولڈرز اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے کووآرڈنیشن آف ہیومنیٹرین افیئرز کو خط لکھا۔

جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مقبوضۃ وادی میں رہنے والے افراد کو بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی راہداری مہیا کی جائے، اسی طرح انہوں نے بھارت کی جانب سے ریپ کوبطور ہتھیار استعمال کرنے پر یو این ایس سی کی قرارداد نمبر 1325 کی خلاف ورزی پر بھی روشنی ڈالی۔

متعلقہ خبریں