Daily Mashriq

سیاسی اختلاف کا نامناسب اظہار

سیاسی اختلاف کا نامناسب اظہار

لندن میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے گھر کے باہر احتجاج اور خاص طور پر دروازہ توڑنے کی کوشش ایک ایسی لاحاصل سعی ہے جس سے ایوین فیلڈ کے مکین برا محسوس کریں یا نہ کریں لیکن برطانیہ میں مقیم ہموطنوں کیلئے بالخصوص اور دیگر پاکستانیوں کیلئے بالعموم یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں۔ایوین فیلڈ میں مقیم ایک بیمار شخص اور ان کی جماعت کے خلاف نفرت کے اظہار کے ملک میں دستیاب مواقع کو جتنا بروئے کار لایا جائے اگرچہ اس کی بھی حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن بہرحال اس کی پوری طرح مخالفت کی بھی گنجائش نہیں شریف خاندان سیاست پاکستان میں کرتے ہیں اس لئے سیاسی مخالفت اور تنقید بھی یہیں ہونی چاہیئے دیار غیر میں پاکستانیوں کا یوںگلی میں گندے کپڑے دھونا ملک کیلئے کسی نیک نامی کا باعث نہیں اگرچہ تحریک انصاف کی قیادت نے ان مظاہرین سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن مظاہرین ماضی میں بھی اس قسم کی نعرہ بازی اور احتجاج میں حصہ لیتے رہے ہیں یہ عناصر اس وقت سے ہی تحریک انصاف سے وابستگی کا عندیہ دیتے آئے ہیں جس کی قبل ازیں تردید کی گئی بلکہ ان کی حمایت کا اظہار کیا گیا صورتحال جو بھی ہو یہ ایک نامناسب طرزعمل ہے جس کی مذمت ہونی چاہیئے مظاہرین نے اس موقع پر جو علاوہ ازیں نعرے بازی کی وہ بھی غیر ضروری اور ملک کی کوئی خدمت نہیں تھی بلکہ غلط فہمیوں اور نفرت میں اضافے کا باعث امر تھا۔سیاسی مخالفین اور سیاسی کارکنوں کے اپنے اور ملک وقوم کے حق میں بہتر امر یہ ہوگا کہ وہ ایسا بیچ نہ بوئیں جس سے نفرت کی کونپل پھوٹے اور ایسا درخت بن جائے کہ پھر اپنا بویا ہوا کاٹنا پڑ جائے۔

گیلپ سروے،خطرے کی گھنٹی

گیلپ سروے میں پچپن فیصد پاکستانیوں نے وزراء کی کارکردگی کے حوالے سے جن تاثرات کااظہار کیا ہے اسے اگر رائے عامہ کی اکثریت تسلیم نہ بھی کیا جائے تب بھی ایک بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی رائے کا بینہ اراکین کی کارکردگی کے حوالے سے مثبت نہیں۔ اس سے قطع نظر اکتالیس فیصد افراد کا حکومتی کارکردگی کے حوالے سے مثبت خیالات کا اظہار اس امر پر دال ہے کہ اگرچہ تحریک انصاف کی حکومت میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے حل کی صورتحال اطمینان بخش نہیں اور حکمران اپنے وعدوں پر پورا اترنے میں ناکام ہیں اس کے باوجود عوام ان سے مایوس نہیں ہوئے جن چار فیصد نے اپنی رائے کا اظہار مثبت و منفی میں نہیں کیا اس میںدو ڈھائی فیصد بھی تحریک انصاف کے ان حامیوں اور ہمدردوں کی ہو سکتی ہے جو حکومت کی کارکردگی کو تو بہتر نہیں سمجھتے لیکن ابھی ان کی آراء مخالفانہ نہیں ہوئی۔ہم سمجھتے ہیںکہ یہ صورتحال وزراء اور حکومت کیلئے قابل غور اور خطرے کی گھنٹی ہو یا نہ ہو عوام کی اکثریت ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اس سروے میں سیمپلنگ کا طریقہ کار واضح نہیں لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ بے ترتیبی کا فارمولہ اپنایا گیا ہے سروے کے نتائج سے کامل اتفاق ضروری نہیں لیکن سائنسی بنیادوں پر غیر جانبدارانہ ہونے والے سروے میں خلق خدا کی آواز نقارہ خدا ثابت ہورہی ہے اس سروے کو حکومتی حلقوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے اور اس کی روشنی میں اپنی کارکردگی کا احتساب کرنے اور اسے بہتر بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے ہماری محتاط رائے کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے جسے روکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے تو مخالفین کا بیانیہ غالب آئے گا۔رائے عامہ کی کافی اکثریت کی رائے حکومت کے حق میں اچھی اور مثبت ہے جسے برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو دن رات محنت کرنی ہوگی۔

سکولوں میں بچوں پر تشدد کی بڑھتی ہوئی شکایات

پشاورکے بعض نجی سکولوںجس میں شہر کے مرکزی علاقوں سمیت حیات آباد کے بڑے بڑے سکول سبھی شامل ہیں وہاں پر طالب علموں پر تشدد کے واقعات کا سکولوں کی انتظامیہ،نجی سکولز ریکولٹری اتھارٹی اور محکمہ تعلیم کے حکام کو نوٹس لینا چاہیئے سکولوں میں بچوں پر تشدد نہ کرنے کے قانون پر مکمل طور پر عملدرآمد کی توقع نہیں کی جا سکتی تھوڑی بہت مارپیٹ کی بچے بھی شکایت نہیں کرتے لیکن جہاں زیادہ تشدد سے کام لیا جائے یا پھر بلاوجہ تشدد کیا جائے تو بچوں کی والدین سے شکایت فطری امر ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض خواتین اساتذہ امتحانی ہالز میں بھی بچوں پرہاتھ اٹھانے سے دریغ نہیں کرتیں جو بالکل ہی نا قابل برداشت امر ہے۔اس قسم کی شکایات کا ذرائع ابلاغ تک آنا اس امر پر دال ہے کہ سرکاری سکولوں کی طرح نجی سکولوں میں بھی مار نہیں پیار کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔نجی سکولز اتھارٹی کو سکولوں میں اپنی ٹیمیں بھیج کر طالب علموں سے معلومات کرلینی چاہیئے اور شکایت ملنے پر بر موقع کارروائی کی جانی چاہیئے تاکہ بچوں پر غصہ اتارنے والوں کو راہ راست پر لایا جاسکے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ سکولوں میں تشدد کا سختی سے نوٹس لیا جائے گااور اس کے سدباب میں متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کریں گے ۔نجی سکولوں کی انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فیس لے کر بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری نبھائے اور اُن کو بد مزاج اساتذہ کے تشدد سے بچائے۔

متعلقہ خبریں