Daily Mashriq

صابر وشاکرقوم ،گھبراہٹ کیسی؟

صابر وشاکرقوم ،گھبراہٹ کیسی؟

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بارپھرقوم سے کہا ہے کہ میں کہتا ہوں گھبرانا نہیںاس بار انہوںنے ازراہ ِ تفنن کہا ہے مگر ساتھ ہی یہ مژدہ بھی سنایا ہے کہ وہ اگلے چار سال بھی قوم کو یہ نصیحت کرتے رہیں گے۔پاکستانی بہت صابر وشاکر قوم ہے ۔یہ ایک ایسی کشتی کے سوار ہیں جو پانی میں اترتے دن سے ہی گردابوں میں گھری رہی ہے ۔ایک طوفان سے نکلی تو دوسرے نے آن گھیرا ایک بھنور سے جان چھوٹی تو دوسرا سامنے کھڑا ہوا۔ایک بحران سے خلاصی ہوئی تو ایک اور امتحان درپیش ہوا۔گویا کہ اب اس قوم کو بحرانوں کا انتظار رہنے لگا ہے ۔کان ہمہ وقت بحران کی آہٹ کی جانب لگے رہتے ہیں۔ لوگ اب طوفانوں اور بحرانوں کے عادی ہوگئے ہیں۔ بحران در بحران کے اس دائروی سفر نے پاکستانی قوم کو اس شعر کی تصویر بنا ڈالا ہے کہ

ہم نے بنالیا ہے نیا پھر سے آشیاں

جائو یہ بات پھر کسی طوفان سے کہو

منیر نیازی کا مشہورزمانہ شعر تو اس ملک کی سیاسی نفسیات کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے کہ

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

سال بھر سے ہر طوفان اوربھنور میں عین اس وقت جب قوم کی سماجی زندگی کی نائو مہنگائی اور مسائل کے باعث پوری قوت سے ہچکولے کھا رہی ہوتی ہے وزیر اعظم کی آواز گونجتی ہے کہ گھبرانا نہیں ۔واقعی کشتی اس بھنور سے جیسے تیسے نکل آتی ہے مگر ایک اور بھنور کا سامنا کرنے کو ۔اب تو یہ جملہ اس قدر ازبر ہوگیا ہے کہ اس کی ریکارڈنگ چلائی جاتی رہے تو بھی کافی ہے۔قوم اور ملک کو گردابو ں کا یہ عذاب یکایک اور آن واحد میں نہیں چمٹا بلکہ یہ حالات اوریہ دن سائے کی طرح اس کے ساتھ چلتے چلے آئے ہیں۔ جس ایوب خان کے عہد اقتدار اور پالیسیوں سے بہت سوں کی طرح وزیر اعظم بھی متاثر ہیں انہی کے دور میں ایک انقلابی شاعر حبیب جالب نے کہا تھا ''سات روپے من ہے آٹا اس پر بھی سناٹا''گویا آٹا سات روپے من ہوجانے پر شاعر عوام کی بے حسی پر کڑھ رہا تھا ۔سات روپے من ہوجانا شاعر کے نزدیک اس قدر مشکل مقام تھا جہاں عوام کو احتجاج اور انقلاب کے لئے اُٹھ کھڑا ہونا چاہئے تھا ۔بعد میں عوام ایوب خان کے خلاف اُٹھ تو گئے مگر اس کی وجہ آٹے کی قیمت سات روپے فی من ہوجانا نہیں تھی بلکہ کچھ اندرونی اور بیرونی قوتوں کے پوشیدہ مقاصد تھے ۔اس سے یہ بھی انداز ہ ہورہا ہے کہ مشکل دن بھی قوم کے ساتھ چلتے رہے ہیں اور عوام کا صبر وشکر بھی اس کے متوازی اسی دور سے چلتا آیا ہے ۔اس ملک کے عوام کا یہ تاریخی صبر وشکر ہے کہ آج تک کوئی حکومت مہنگائی کی وجہ سے ختم نہیں ہوئی ۔کوئی حکومتی آٹے دال کی قیمت میں اضافے کی نذرنہیں ہوئی اور نہ اس بنا پر کوئی ایسی تحریک چلی ہے جسے حکومت کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہو۔اس بار مولانا صاحب دھوم دھام سے پلان اے کے ساتھ اسلام آباد میں بابری لشکر کی طرح داخل ہوئے تھے ۔ان کے لبوں پر سب سے مسحور کن نعرہ مہنگائی ہی تھا مگر وہ اپنے پیروکاروں اور خوشہ چینوں کے سوا کسی کو متاثر نہ کر سکے ۔خود ان کے کارکن سٹالوں سے مہنگی چاٹ چنے اور دیگر اشیاء خریدکر صابر وشاکر ہونے کا ثبوت دیتے رہے ۔یوں جب انہوںنے اپنے کارکنوں کو بھی صبر وشکر کے اس اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے دیکھا تو انہوںنے پلان اے کے ساتھ بی سی اور ڈی وغیرہ کا اضافہ کرکے اسلام آباد کی پتلی گلی سے بھاگ نکلنے میں عافیت جان لی ۔پاکستان میں پلان اے سے زیڈ انسانوں کے ہوتے ہیں لیکن ایک ماسٹر پلان ان کے سوا اور اوپر بھی ہوتا ہے جسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے ''وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے''۔ مولانا کے سارے پلان بھی اسی'' ماسٹر پلان'' کا شکار ہوگئے۔ یہ قوم بڑے بڑے بحرانوں اور طوفانوں میں گھبرائی ہے کیا جو اب مہنگائی کے جن سے گھبراجائے ۔ماضی میں تو اس کو یہ کہنے والا بھی کوئی نہیں تھا کہ میری قوم گھبرانا نہیں بلکہ قوم کو گھبرانے کے اقدامات بھی اُٹھائے جاتے تھے تو پھوٹے منہ سے اتنا بھی نہیں کہتے تھے کہ اے قوم گھبرانا نہیں ۔ماضی میں تو کوئی یہ بات ماننے کو بھی تیار نہیں تھا کہ قوم گھبرانے کی سی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ایک مقبول حکمران سے یہ جملہ منسوب تھا کیا ہوا روٹی مہنگی ہورہی ہے لوگ ڈبل روٹی کھائیں۔ایک اور حکمران قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ آج ہر شخص کی جیب میں موبائل فون ہے اور خوش حالی کس چڑیا کا نام ہے؟۔قصہ مختصر وزیر اعظم صاحب بالکل فکرنہ کریں اس قوم نے گھبرانا سیکھا ہی نہیں ۔پاکستانی قوم دنیا بھر میںاور اپنے گردپیش میں صبر وشکر ایوارڈ کی سب سے جائز مستحق قوم ہے۔قوم گھبراتی تو ہرگز نہیں مگر دل میں یہ سوال دبائے ضرور بیٹھی ہے کہ ملک میں معیشت کی بہتری ،موڈیز کی خوش خبریوں اور باہر والوں کی طرف سے استحکام کے اشاروں اور اچھے موسموں کی آمد کی نوید کے اثرات عام آدمی تک کب پہنچیں گے ؟اثرات عوام تک پہنچے تو بھی سب کا بھلا خدانخواستہ نہیں بھی پہنچتے تب بھی سب کی خیر۔اس کے سواصابر وشاکر قوم اور کر بھی کیا کرسکتی ہے۔مزہ تو جب ہے کہ کسی روز لوگ بے ساختہ پکار اُٹھیں

دم لبوں پر تھادلِ زار کے گھبرانے سے

آگئی جان میں جان آپ کے آجانے سے

متعلقہ خبریں