Daily Mashriq

قانون،سماجی اقدار اور دستور سے انحراف نہ کیجئے

قانون،سماجی اقدار اور دستور سے انحراف نہ کیجئے

جناب جہانگیر ترین نے اگلے روز ارشاد فرمایا ''سارے چوروں کے لئے میرا مشورہ ہے وہ لندن اور امریکہ بھاگ جائیں عمران خان نے انہیں نہیں چھوڑنا''۔فقیرراحموں کے ایک دوست نے کہا ''تحریک انصاف والوںکو ہر وہ شخص کرپٹ دکھائی دیتا ہے جو لشکر بنی گالہ شریف میں شامل نہ ہو''۔ جناب جہانگیر ترین بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔اس فیصلے کے باوجود وہ اہم اجلاس میں شریک ہوتے ہیں فیصلہ سازی میں شریک ہیں۔زرعی شعبہ کے لئے قائم ٹاسک فورس کے سربراہ بھی ہیں۔ان کے بیان چھپتے ہیں الیکڑانک میڈیا پر سرگرمیوں کی کوریج ہوتی ہے۔یوں ہمیں ایک نہیں دو پاکستان دکھائی دیتے ہیں۔ آصف علی زرداری کے خلاف ابھی صرف الزامات ہیں مگر ان کا ایک انٹرویو نشر ہونے سے روک دیا گیا روکنے والوں نے کہا'' نیب کے قیدی کاانٹرویو درست عمل نہیں''۔سپریم کورٹ کے سزا یافتہ جہانگیر ترین کے لئے سارے قاعدے قوانین اکٹھے ہیں۔ احتساب ہونا چاہیئے کراس دابورڈ مگر جو لوگ لشکر بنی گالہ شریف میںبھرتی ہوگئی ان کا احتساب ''پر بھی جلتے ہیں نیب کے اورزبانیں بھی بند ہیں''۔آپا فردوس عاشق اعوان پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک منصوبے''سستا سفر'' کی درجن بھربسیں برسوں کمرشل مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا الزام تھا یہ بسیں سیالکوٹ میں ان کے قائم کردہ نجی بس ڈپو سے برآمد بھی ہوئی تھیں انہیں کرپشن سے یہ کیس نیب کو بھجوایا گیا پھر ایک دن وہ ایک محکمے کے ضلعی انچارج کے فون پر تحریک انصاف میں شامل ہوگئیں۔تحریک انصاف کو اقتدار ملا آپا ایک دن مشیر اطلاعات کے منصب پر فائز ہوگئیں نیب نے انکوائری بند کر دی۔ہمارے سرائیکی بھائی لیکن وہ خود کو جنوبی پنجابی کہلانے پر فخر کرتے ہیں مخدوم خسروبختیار کے خلاف نیب انکوائری ٹھپ پڑی ہے کیونکہ مخدوم صاحب وفاقی وزیر ہیں اوران کے چھوٹے بھائی پنجاب کے وزیر خزانہ،تحریک انصاف کے دوست جیالہ ہونے کی پھبتی کسنے لگتے ہیں جب یہ عرض کرتا ہوں کہ''احتساب وانقلاب کے فلسفے کو نالہ لئی میں پھینک کر تحریک انصاف مروجہ سیاست کا حصہ بن گئی۔آپ دیکھ لیجئے وفاقی کابینہ میں کتنے لوگ تحریک انصاف کے ہیں اور کتنے سیاسی مسافر اور ان سیاسی مسافروں پر قبل ازیں کیسے کیسے الزامات تھے۔ سوال یہ ہے کہ ان الزامات بارے سچ یا جھوٹ کافیصلہ ہونے سے قبل ان لوگوں کو پارٹی میںکیوں شامل کیا گیا؟ جواب ملتا ہے فرشتے کہاں سے لائیں،مارکیٹ میں یہی مال دستیاب ہے۔اتوار کو لندن میں شریف فیملی کے فلیٹس کے باہر تحریک انصاف کے حامیوں نے مظاہرہ کیا مظاہرین مرکزی گیٹ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے کہ پریس پہنچ گئی۔جو زبان ان مظاہرین نے استعمال کی اور جن کے حق میں نعرے لگائے ان دونوں کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ یہ کیا ہورہا ہے اور اگرجوابی طور پر کوئی جماعت وزیراعظم کے بچوں کی رہائش گاہ پر ایسا ہی مظاہرہ کرنے کے ساتھ طوفان بد تمیزی برپا کرے تو بات کہاں تک پہنچے گی یہ رویہ درست ہے نا طرز عمل ۔غالباً جوابی ردعمل سے بچنے کے لئے تحریک انصاف لندن کی انتظامیہ نے تردیدی بیان میں کہا ہے کہ شریف فیملی کے گھر پر حملہ نما مظاہرہ کرنے والوں کا ان کی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔البتہ ایک بات طے ہے کہ پاکستانی دوست برسوں بلکہ عشروں سے مہذب معاشروں میں قیام پذیر ہونے کے باوجود مہذب نہیں ہو پائے فرقہ واریت اور دوسری خرابیوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی نفرت بھری سیاست لندن اور دوسرے مقامات پر بھی پاکستانیوںکا اوڑھنا بچھونا ہے۔کسی سیاسی مخالف کے گھر پر حملہ درست اقدام ہر گز نہیں۔اس مظاہرے میں لگے چند نعروںکی وجہ سے ایک پاکستانی محکمے پر بھی انگلیاں اُٹھ رہی ہیں ویڈیوز موجود ہیں نعروں اور ویڈیوز نے ہی سوری کو جنم دیا ہے۔اس محکمے کے بڑوں کی خدمت میں دست بدستہ درخواست ہے کہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اگر حکمران جماعت کے حامی ملک سے باہر مخالفین کے گھروں پر مظاہروں اور حملے کے وقت اس محکمے کے حق میں نعرے لگائیں گے تو منفی تاثر ابھرے گا۔ریاست کے ادارے ہوں یا محکمے سب کے اخراجات عوام برداشت کرتی ہے اس لئے غیر جانبداری سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دستور کی طے شدہ حدود کی پابندی کی جائے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور مدت کے تعین کے لئے آنے والے دنوں میں ممکنہ قانون سازوں کے حوالے سے دو آراء ہیں اولاً یہ کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم سادہ اکثریت سے کرلی جائے گی اور وہ حکومت کے پاس موجود ہے دوسری رائے یہ ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم کو دستوری تحفظ حاصل نہ ہو ا تو معاملہ پر عدالت میں جانے کے خطرات موجود ہوں گے۔آئینی ترمیم کی ضرورت کو بھانپتے ہوئے تحریک انصاف کا ایک گروپ اپوزیشن سے رابطوں اور مفاہمت کے حق میں ہے جبکہ دوسرا گروپ اسے غیر ضروری قرار دیتا ہے اس دوسرے گروپ میں اکثریت سیاسی مسافروں کی ہے مراد سعید اور فیصل واڈا اسی گروپ کا حصہ ہیں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پچھلے ایک ہفتہ کے دوران چند مشترکہ دوستوں کے ذریعے پیپلزپارٹی اور نون لیگ سے ابتدائی غیر رسمی رابطے کیئے نون لیگ کی طرف سے جواب ملا ہم مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔پیپلزپارٹی کا موقف قمر زمان کائرہ کے اس بیان کی صورت میں سامنے آیا ہے ''مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہونی چاہیئے''اس جواب کے بعد پیپلزپارٹی کے سندھ میں خون کے پیاسوں پر مشتمل جی ڈی اے نامی اتحاد کے شکست خوردہ قائدین فعال ہوگئے ہیں، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں