Daily Mashriq

دوغلے پن کی ایک مثال ہیں ہم

دوغلے پن کی ایک مثال ہیں ہم

دسمبر کے مہینے کی 10 تاریخ ہے اور ہر سال آج کے دن پاکستان سمیت ساری دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ تاکہ دنیا والوں کو بتایا جاسکے کہ ہر وہ انسان جو اس دنیا میں آتا ہے تو اپنے ساتھ جیو اور جینے دو کے حقوق بھی لیکر آتا ہے ، ماں کی گود میں آنکھ کھولنے والے بچے کو جب بھوک ستاتی ہے تو وہ چیخ چیخ کر رونے لگتا ہے اور یوں دنیا والے کہہ اٹھتے ہیں کہ'' اگر بچہ روئے نہ تو ماں دودھ نہیں دیتی'' گویا ہم اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کا مظاہرہ ماں کی گود ہی میں شروع کردیتے ہیں اور ماں جیسی عظیم ہستی اس حق کو پورا کرنے میں دیر نہیں کرتی ِ، 

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

لیکن یہ دنیا والے تو ماں جیسے نہیں ہوتے ، بڑے سنگدل ہیں ہمارے آس پاس بسنے والے لوگ، حسد ، بغض،ایک دوسرے کو کچل کر آگے بڑھ جانے کی دوڑ ، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، اقتدار کی بھوک، بے انصافی، خوف خدا کی کمی اور اس قسم کی کتنی قباحتیں ہیں کتنے عارضے ہیں جو بڑی بے دردی سے ایک دوسرے کے انسانی حقوق کی پامالی کا باعث بن رہے ہیں ،

سب سے پر امن یہ واقعہ ہے

آدمی آدمی کو بھول گیا

یوں لگتا ہے جیسے چالاک اور زور آور لوگوں کی دنیا ہو ، بندوق کی گولیوں سے قانون کی دھجیاں اڑادینے والے لوگوں کی ہے یہ دنیا ، اپنی دھن دولت اثر و رسوخ اور اختیار کو وسعت دینے کے لئے دوسروں کے حقوق کی پامالی کرنے والوں کی یہ دنیا ہے ، اگر زور آور لوگوں کا بس چلے تو دنیا کے کمزورو ناتواں اور شریف النفس لوگوں کا جینا حرام کردیں یا ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنا غلام بنا کر تگنی کا ناچ نچانے لگیں ، انفرادی طور پر تو ہم اپنے حقوق پامال ہوتے دیکھتے ہی رہتے ہیں ، مگر اجتماعی سطح پر اقتدار پر قابض ہونے والے ہمارے حقوق کو پامال کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتے ۔بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے قبلہ اول کو یہودیوں اور نصرانیوں کے قبضہ میں دیکھ کر ہم دل ہی دل میں لہو کے آنسو رونے لگتے ہیں ، آہ فلسطینیوں سے ان کی آزادی کا حق چھیننے والے ، اف کشمیر کے چناروں کو غلامی کی آگ میں بھسم کردینے والے ، افغانستان ، شام اور عراق میں آگ اور خون کی ہولی کھیل کر آج 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منانے کا ڈھونگ رچا کر مگر مچھ کے آنسو بہاتے نظر آرہے ہیں ، تاکہ ان کی جانب سے انسان ، انسانیت اور انسانی حقوق کی پے در پے خلاف ورزیوں کے جرائم پر پردہ پڑارہے ، بڑا مکار شکاری ہے مگر مچھ جب شکار کو اپنے جبڑوں میں دبوچتا ہے آنسو ضرور بہاتا ہے ، کہتے ہیں اس وقت اس کو وہ بندر یاد آجاتا ہے جس کا شکار کرتے وقت اس نے کہا تھا میں تیرا کلیجہ کھانا چاہتا ہوں ، بندر نے مگر مچھ کی زبان سے یہ بات سنی تو اس نے کہا وہ تو میں درخت کی ٹہنی پہ بھول آیا ہوں ، بندر کی زبانی یہ بات سن کر سست رومگر مچھ نے کہا کہ جاؤ اور فوراً لیکر آؤ اپنا کلیجہ بندر نے مگر مچھ کی گرفت کو ڈھیلا پاکر قلا بازی لگائی اوراپنا کلیجہ لانے کے بہانے اس کے چنگل سے آزادہوکر یہ جا وہ جا دور جنگل میں بھاگ کر ٹہنی درٹہنی اچھلنے لگا۔ادھر مگرمچھ اس کا کلیجہ کھانے کے شوق میں 'ڈو مور ڈو مور' کا راگ الاپتا رہا اور دوسری طرف بندر ٹہنی ٹہنی اچھل کر آزادی کے نغمے الاپتا رہ گیا

ہم زندہ قوم ہیں ، پائندہ قوم ہیں

ہم سب کا ہے ارمان پاکستان پاکستان

1948میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کی پاسداری کا قانون ترتیب دے کر اس کا خوب خوب چرچا کیا گیا ، اورپھرتاریخ پر نظر رکھنے والوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا اور دھڑکتے دلوں سے محسوس کیا کہ تب سے اب تک انسانی حقوق کا بھرم رکھنے کے دعوے دار نمرودوں نے انسانی حقوق کو غصب کرنے کی ایسی ایسی خلاف ورزیاں کیں کہ ہر زبان مظلوموں کی زبان بن کر پکار اٹھی کہ

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

اگر 1948ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے تحفظ کی عمل داری کی قسم کھائی تو 1948ء ہی میں کشمیر جنت نظیر کو پکے ہوئے پھل کی طرح بھارتیوں کی جھولی میں ڈال دیا گیا ، اور یوں تب سے اب تک کشمیری بلک بلک کر تڑپ تڑپ اور جان و مال کی قربانیاں دیتے ہوئے اپنی آزادی کا حق مانگ رہے ہیں ، کیا یہ ستم نہیں کہ مہینوں سے بھارت کے شدت پسند حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر کے کشمیر کے نہتے مسلمانوں کو حبس بے جا میں دبوچ رکھا ہے ، کیا یہ جورو جفا ، یہ ظلم وستم ، انسانی حقوق کے تحفظ کے دعوے داروں اور علم برداروں کو نظر نہیں آرہا ۔ یہ سب ہاتھی کے دانت ، کھانے کے اور، دکھانے کے اور، کے مصداق عالمی انصاف کی مسندوں پر براجمان عالمی امن کے ٹھیکیداروں کی دہری پالیسی کا آئنہ دار رویہ ہے ، جو ایک طرف تو انسانی حقوق کے تحفظ کی مالا جپتا نظر آتا ہے اوردوسری طرف ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے نہیں چوکتا ، یوں لگتا ہے جیسے بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کرکے انسانی حقوق کے عالمی دن کا چرچا کرنے والے آج کے دن دنیا والوں کواپنا دوغلا پن دکھاتے ہوئے کہہ رہے ہوں

بے مروت ہیں بد خصال ہیں ہم

دوغلے پن کی ایک مثال ہیں ہم

متعلقہ خبریں