Daily Mashriq

دعوے نہیں کام

دعوے نہیں کام

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے شیخوپورہ پاور پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاشی قوت بنتا جارہا ہے حزب اختلاف سازشیں چھوڑ کران کا ساتھ دے ۔انہوں نے مژدہ سنایا کہ لوڈ شیڈنگ کا 2018تک خاتمہ ہوگا۔ پورے ملک میں شاہراہوں کا جال بچھا رہے ہیں دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے 220کروڑ روپے کی لاگت سے پشاور میں سڑکو ں کی تعمیر و مرمت کرنے ، زکوڑی پل کے اوپر فلائی اوور اور ورسک روڈ پر فلائی اوور کیلئے ٹینڈرجاری کرنے ، بس اڈے کی منتقلی اور اس کی جگہ سی پیک آئی ٹی ٹاور پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پاناما لیکس کا معاملہ انتخابی سرگرمیوں کی راہ میں مزاحم ہے تاہم اب کچھ عرصے کیلئے سماعت نہ ہونے پر سیاسی معاملات کا عنصر بڑھ رہا ہے ۔ بلاشبہ پانامہ کیس کے ملکی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہوں گے اگر یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ گیا اور اگر معاملہ کمیشن کے قیام کی طرف چلاگیا تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا معاملہ ہوگا۔ تحریک انصاف کے چیئر مین قبل ازیں کیس کے فیصلے پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان میں کمیشن کے قیام کو تسلیم کرنے کا عندیہ سامنے آیا ہے۔ بہر حال سیاسی نقطہ نظر سے اب پانامہ کیس اتنا اہم دکھائی نہیں دیتا قانونی طور پر یہ کن نتائج کا حامل ہوتا ہے اس کا فیصلہ بہر حال عدالت عظمیٰ سے آنا ہے ۔ فی الوقت اس کیس سے قطع نظر ملک میں انتخابی سیاست اور انتخابی بجٹ کی تیاریوں کا مرحلہ ہے۔ وزیر اعظم کے جلسو ں اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا دونوں کے اعلانا ت اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اگر چہ وفاقی و صوبائی حکومت کی کار کردگی کا موازنہ زیادہ موزوں نہ ہوگا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پالیسیو ں میں بہتری اور نظام میں تبدیلی کو اصل کا ر کردگی گر دانا تھا مگر اگلے روز کابیان برعکس ہے۔ بہر حال ہمیں اس سے بحث نہیں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ عوام کو تبدیلی منصوبوں کیلئے غیر مرئی از قسم پالیسیوں اورنظام کی بہتری جیسے امور کی بہ نسبت کسی بنی بنائی سڑک ، پل موٹر وے اور اس جیسے نظر آنے والے منصوبوں سے زیاد ہ راغب بھی کیا کہا جا سکتا ہے اور وہ قائل بھی ہوتے ہیں ۔ موٹروے پر سفر کرنے والا ہر مسافر ایک لمحے کیلئے قائل ضرورہوتا ہے کہ اس کی تعمیر پر لاکھ تنقید کرنے اور بد عنوانی کے الزامات کے باوجود یہ عوام کیلئے ایک سہولت اور ملکی ترقی کے لئے ایک بڑا کام ضرور ہے ۔خیبر پختونخوا میں اس طرح کے نظر آنے والے منصوبوں کی کمی ہے ۔ شہر پشاور کو گل و گلزار بنانے کے دعوے ہر دور حکومت میں کئے گئے مگر شہر پشاور کی حالت آج تک نہ بدل سکی اور وزیر اعلیٰ کے اعلان کردہ منصوبوں سے بھی زیادہ توقعات کی وابستگی اس لئے حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا کہ انتخابی وعدوںپر اعتبار کرنا غضب کیا تیرے وعدے پر اعتبار کیا کے زمرے میں آتا ہے ۔جبکہ جن منصوبوں کی تکمیل پر ان کا افتتاح ہوتا ہے وہ سورج چڑ ھتا ہے تو دنیا دیکھتی ہے ۔اس فارمولے کے تحت جہاں ہر حکومت اور حکمران کو اپنی اپنی کار کردگی کا جائزہ لینا چاہیئے وہاں ان کو اس کا امر کا بھی ۔ یقین ہونا چاہتے کہ ان کی کسوٹی مختلف ضرور ہو سکتی ہے مگر عوام ہر حکمران کو اس کسوٹی پر ہی پرکھتے ہیں ۔ خیبر پختونخوامیں کسی برسر اقتدار جماعت کا دوسری مرتبہ اقتدار نہ دیکھنا اس امر کا ٹھوس ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی کسوٹی اور معیار یہی ہے اور وہ اس پر سختی سے کار بند ہیں اگر تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی اس کسوٹی پر پورا اترے گی اور عوام مطمئن ہوں گے تو پنجاب کی طرح کی مثال ہمارے صوبے میں بھی قائم ہو سکتی ہے ۔ اس وقت مرکزی حکومت کی کارکردگی اور انتخابات میں عوام کے متوقع فیصلے کا اندازہ لگانا ممکن نہیں البتہ پنجاب حکومت کی کارکردگی دیکھ کر اس امر کا کسی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں موجود ہ حکمران انتخابات میں منظر نامے سے ہٹ سکتے ہیں مگر ان کے سکر ین سے مکمل طور پر غائب ہونے کا کوئی امکان نہیں اور عین ممکن ہے کہ عوام ایک مرتبہ پھر انہی کو موقع دیں جیسا کہ پہلے ایسا کر چکے ہیں۔ ہمارے تئیں اس وقت حکمرانوں کو منصوبوں کے اعلانات کی بجائے منصوبوں کی تکمیل اور تکمیل شدہ منصوبوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ مخالفین کو فیتہ کاٹنے کا طعنہ دینے کی بجائے خود فیتہ کاٹ کر اس امر کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے صوبے میں بھی کم منصوبے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچے ہم نے بھی مقدور بھر منصوبوں پر کام شروع کروایا اور اب اس کی فصل پک کر عوام کی منفعت کیلئے حاضر ہے ۔ پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے معتبر بین الاقوامی جریدوں کا حوالہ نفسیاتی اطمینان دلانے کیلئے کافی ضرور ہے لیکن مسائل کا شکار اور مشکلات کے ستائے عوام کی رائے ان جریدوں سے کم ہی متاثر ہوگی۔ عوام کیلئے آنکھوں دیکھا حال ہی سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے اور وہ شنید ہ کے بود مانند دیدہ کی ترجیح کے قائل ہیں ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ آخر ی مالی سال میں عوام کی فوری فلاح اور مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کو ششیں کریں گی اور صوبے کے عوام کو مایوس نہیں کیا جائے گا۔

اداریہ