Daily Mashriq

اساتذہ تنظیموں کو احتجاج کا بہانہ چاہیے

اساتذہ تنظیموں کو احتجاج کا بہانہ چاہیے

اساتذہ تنظیموں کی جانب سے صوبائی کابینہ کی پرائمری سکولوں کی سطح پر مخلوط نظام تعلیم رائج کرنے اور خواتین اساتذہ کی تقرریوں کے فیصلے پر احتجاج کا اعلان بلاوجہ اور نا قابل قبول ہے۔ پرائمری سطح تک کے بچوں کی مخلوط تعلیم کو پختون روایات کے منافی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں اور نہ ہی پرائمری سطح تک بچے اور بچیوں کے اکھٹے تعلیم پر اسلام میں ممانعت ہے اور نہ ہی علماء کرام اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔اس فیصلے پر اساتذہ کو کیا ٹھوس اعتراضات ہیں ان کو احتجاج کی کال دینے والوں نے سامنے نہیں لایا اور نہ ہی ان کے پاس ایسے اعتراضات موجود ہوں گے جن پر غور کیا جا سکے اورتوجہ کے قابل ہوں ۔ اسلام مردوزن کی ایک خاص عمر میں میل جول پر قد غن کی ہدایت کرتا ہے۔ پرائمری سطح کے بچے بچیوں کی عمر معصومیت کی ہوتی ہے سمجھداری کی نہیں ۔ پرائمری سطح تک مخلوط تعلیم کے انتظامی سطح پر مثبت اثرات کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ قریب قریب سکولوں کی تعمیر اور طلبہ کو زنانہ ومردانہ کی تفریق کے بغیر سکولوں میں داخلے کی سہولت میسر آئے گی ۔ علاوہ ازیں اس نظام سے بچے اور بچیاں ایک دوسرے کے لئے کسی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں رہیں گی بلکہ گھر اور محلے کے بعد ان کو سکولوں میں بھی بہن بھائیوں کی طرح رہنے کی تربیت ملے گی ۔ جہاں تک خواتین اساتذہ کی تقرری کا سوال ہے اس میں بھی کوئی قباحت نظر نہیں آتی بلکہ بچے ایک فطری ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں گے ۔ خواتین اساتذہ فطری طور پر بچوں کو نرمی اور شفقت سے پڑھائیں گی البتہ خواتین اساتذہ کی تقرری سے ایک بڑا سوال یہ ضرور اٹھے گا کہ خواتین پر مبنی تدریسی عملہ بچوں کو پڑھانے میں دلجمعی کا مظاہر ہ کرے گا جیسا کہ عمومی طور پر زنانہ پرائمری سکولوں میں استانیوں کی غیر موجود گی ، تدریس سے عدم دلچسپی اور بچوں پرپوری طرح توجہ نہ دینے کی روش عام ہے اس طرح کے مسائل مر د اساتذہ کے بھی ہوں گے مگر اس کی شرح کم ہے اس خامی پر قابوپانے کیلئے اولاً میرٹ پر اساتذہ کا تقرر اور نزدیک ترین سکولوں میں تقررکی ضرورت ہے اور پالیسی بھی یہی ہے پرائمری سکولوں میں استانیوں کی کار کردگی پر نظر رکھنے کیلئے ایک سر کل کے طور پر سینئر اور معمر اساتذہ کی ایک ٹیم مقرر کی جائے جو وقتاً فوقتاًسکولوں میں جا کر بچوں کی تعلیم و تربیت کا جائزہ لیں مانیٹرنگ کے موجودہ نظام کو چکر دینے کیلئے جو طریقے ایجاد کئے گئے ہیں ان کا توڑ نکالا جائے ۔ اساتذہ تنظیموں کو اس طرح کے معمولات میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اساتذہ کی بہبو د اور تد ریسی نظام کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں کامعیار بہتر ہوسکے۔
پٹواریوں سے ریٹ لسٹ آویزاں کرانے کا تکلف
ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے پٹواریوں کو سرکاری ریٹ لسٹ نمایا ں جگہ آویزاں کرنے کی ہدایت اصولی طور پر تو مثبت قدم ہے لیکن اس کا حشر بھی سرکاری لسٹ تلے ہر دکاندار کی جانب سے اس کا مذاق اڑانے جیسا ہوگا ۔ سرکاری ریٹ لسٹ آویزاں کرنے سے لوگوں کو سرکاری ریٹ سے آگاہی تو ہوگی مگر کیا رشوت کے استعارے کی مانند نام کے حامل یہ افراد اسی ریٹ کی پابندی کریں گے اور سرکاری ریٹ پر انتقال اراضی ہوگی اس کا جواب سو فیصد نفی میں ہے ۔ پٹواری اس معاشرے کا سب سے راشی طبقہ ہے اور ان کی سر پرستی اگر سرکاری طو رپر ہونا قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا ایک عام خیال ہے کہ اگر پٹواری نظام کا خاتمہ کر دیا جائے تو افسران بالا بھوکوں مرنے لگیں ۔ اس نظام میں بہتری لانے کا ایک ممکن موزوں طریقہ یہ ہے کہ پنجاب کی طرح اس سارے نظام کو کمپیوٹر ائز کیاجائے اس سے رشوت کے خاتمے کی توقع تو نہیں البتہ ریکارڈ پر پٹواریوں کی دسترس کمزور ہونے اور عوام کی دسترس بہتر ہونے سے رشوت کے مواقع میں کمی ضرور آئے گی ۔ ڈپٹی کمشنر پشاور اگر آویزاں لسٹ کے مطابق پٹواریوں کو سرکاری ریٹ سے زائد فیس وصولی سے روک سکیں اور سرکاری ریٹ کا پابند بناسکیں تو یہ ان کا کارنامہ اور عوام کیلئے خوشگوار حیرت ہوگی ۔
درد دل رکھنے والوں سے اپیل
بخشو پل کے رہائشی شخص کا بارشوں سے تبا شدہ گھر او رچاردیواری کی مرمت کا مطالبہ فوری توجہ کا حامل مسئلہ ضرور ہے مگر سرکا ر کے کھاتوں میں اس طرح کے فوری اقدامات کی گنجائش نہیں ۔ بیت المال سے بھی ایسے افراد کو مددکے حصول کے لئے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہے بلکہ اس طرح کے لاچار افراد کے بس سے باہر ہے کہ وہ بیت المال کے حکام سے دس ہزار روپے کی مقررہ رقم نکلواسکیں ۔ اس طرح کی صورتحال میں جہاں حکومت اور سرکاری اداروں کی طرف سے مایوسی کا عالم ہو وہاں پر مخیر حضرات سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ دوکمسن معذوربچوں اور اہل خانہ کے واحد کفیل ایک دیہاڑی دار مزدور اور بے بس شخص کی مدد کریں ۔

اداریہ