Daily Mashriq

فاٹا اصلاحات، ایجنڈے سے خارج کیوں؟

فاٹا اصلاحات، ایجنڈے سے خارج کیوں؟

سمجھ میں نہیں آتا کہ سرتاج عزیز فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارت گزشتہ پیر کے وفاقی کابینہ کے ایجنڈے سے کیوں خارج کر دی گئیں۔ وہ بھی اجلاس سے محض تھوڑی دیر پہلے۔ یکایک ان میں کون سے خرابی نظر آئی! فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے متعدد کوششوں کے بعد یہ کمیٹی خود حکمران مسلم لیگ کے ایما پر بنائی گئی تھی۔ حکومت کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کو اس کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا جنہیں وفاقی وزیر کی حیثیت حاصل ہے اور وہ حکمران مسلم لیگ کے سینیٹر ہیں۔ کمیٹی نے بہت سی سکیموں کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کی تھیں۔ اس سفارشات پر پارلیمنٹ میں بحث ہوئی تھی اور فائنل سفارشات کو پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ ان کے نافذ العمل ہونے میں محض ایک رسمی کارروائی باقی تھی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کا ایجنڈا 33شقوں پر مشتمل تھا۔ ان میں سے 31شقوں کی منظوری دے دی گئی۔ لیکن فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کی منظوری کابینہ کے اجلاس سے کچھ دیر پہلے ایجنڈے سے خارج کر دی گئی۔ ان میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جائے۔ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی آواز خود فاٹا سے آ رہی ہے۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے دس سے زیادہ ارکان قومی اسمبلی اور بھاری تعداد میں مشران کابینہ کے اجلاس سے ایک روز پہلے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں جمع ہوئے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا اعلان 12مارچ سے پہلے کر دیا جائے ۔ ان ارکان میں دیگر سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ حکمران مسلم لیگ ن کے ارکان بھی شامل تھے۔ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ نہ صرف فاٹا کے ارکان اسمبلی کر رہے ہیں بلکہ علاقے میں اثر ورسوخ رکھنے والی سیاسی پارٹیاں جماعت اسلامی 'پیپلزپارٹی' قومی وطن پارٹی' نیشنل عوامی پارٹی اور تحریک انصاف بھی کر رہی ہیں۔ البتہ وفاق میں حکمران مسلم لیگ ن کی اتحادی مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام اور محمود خان اچکزئی کی ملی عوامی پارٹی گزشتہ کچھ عرصے سے کہہ رہی ہیں کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے فیصلے سے پہلے فاٹا کے عوام کی رائے معلوم کر لی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ انضمام کی تجویز کو فاٹا کے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ چند دن پہلے محمود خان اچکزئی نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں انضمام کے حق میں جو اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے اگر اس میں تین سے زیادہ ارکان اسمبلی شریک ہو گئے تو وہ فاٹا کے عوام سے معافی مانگ لیں گے۔ جیسا کہ سطور بالا میں بیان کیا جا چکا ہے کنونشن سنٹر میں فاٹاکے نمائندوں کا جو اجتماع ہو ااس میں فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا مطالبہ بھرپور زور و شور سے کیا گیا اور اس اجتماع میں دس سے زیادہ ارکان قومی اسمبلی نے فاٹا کے عوام کی نمائندگی کی۔ لیکن محمود خان اچکزئی نے اب تک فاٹا کے عوام سے معافی نہیں مانگی ۔ فاٹا کے ارکان اسمبلی میں ان کی پارٹی کا ایک بھی رکن نہیں ہے۔ لیکن یہ وفاقی حکومت میں مسلم لیگ ن کے اتحادی ہیں ۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے مولانا فضل الرحمان بھی وفاق میں حکومت کے اتحادی ہیں۔ جمعیت کو فاٹا کے ووٹرز تک مدارس کے سہارے کچھ رسائی حاصل ہے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر انضمام کی صورت میں دیگر سیاسی پارٹیاں بھی فاٹا کی سیاست میں دخیل ہو گئیں تو انتخابی مہم پر جمعیت کی بزعم خود اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ اس لیے مولانا فضل الرحمان انضمام نہیں چاہتے۔ کہا جارہا ہے کہ انضمام کے فیصلے سے پہلے فاٹا میں ریفرنڈم کرایا جائے ۔ یہ تجویز بظاہر جمہوری اقدار کے مطابق نظر آتی ہے۔ لیکن مردم شماری مئی میں مکمل ہو گی۔ دو تین ماہ اس کے نتائج کے مرتب کرنے میں لگ جائیں گے اس کے بعد جب عام انتخابات سر پر ہوں گے تو ریفرنڈم کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ یعنی جو سفارشات گزشتہ پیر کو منظور ہونے والی تھیں انہیں چھ آٹھ ماہ کے لیے موخر کر دیا جائے۔ لیکن ایک بار جو تجویز موخر ہو جائے وہ پتہ نہیں کب تک موخر ہی رہتی ہے۔ ایک آواز یہ بھی ہے کہ جیسے نظام چل رہا ہے اسی طرح چلنے دیا جائے اور اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ یہ نظام انگریز نے 1901ء میں قائم کیا تھا اس میں پولیٹیکل ایجنٹ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کے زور پر علاقے کا بادشاہ ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو ایک فرد کے جرم کی سزا سارے قبیلے کو دے سکتا ہے۔ کسی قبیلہ کو علاقہ بدر کر سکتا ہے اور اجتماعی جرمانے عائد کر سکتا ہے۔ لیکن فاٹا اب انگریز کے زمانے کا علاقہ غیر نہیں رہا۔ وہاں کے لوگ پڑھ لکھ رہے ہیں۔ فاٹا کے لوگ علاقے میں تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے قیام ' خیبر پختونخوا میں انضمام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں شہری حقوق حاصل ہوں گے ، انصاف کی عمومی عدالتیں حاصل ہوں گی ۔ تعلیم کے مواقع حاصل ہوں گے تو بہت جلد یہ لوگ مختلف شعبوں میں آگے آئیں گے۔ اور پھر عارضی ترک سکونت کے دوران ان کا میل جول بندوبستی علاقے کے لوگوں کے ساتھ ہوا ہے جہاں عدلیہ آئین اور قانون کے تقاضوں کے مطابق انصاف فراہم کرنے کی پابند ہے۔ وہ اب ایف سی آر کے تحت محکوموں کے طور پر زندگی نہیں گزارنا چاہتے ۔ یہ حقائق ہیں جن کے پیشِ نظر پارلیمنٹ نے سرتاج عزیز کی سفارشات پر صاد کیا جن میں فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام تجویز کیا گیا ہے ۔ سرتاج عزیز حکمران جماعت کے اہم رہنما ہیں۔ پارلیمنٹ میں حکمران مسلم لیگ کی بھاری اکثریت ہے۔ اگرفاٹا سفارشات پر اختلاف رائے کی وجہ سے جمعیت اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرتی ہیں جس کا کوئی امکان نہیں ہے تو حکمران مسلم لیگ ن کی اکثریت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس سب کے باوجود سرتاج عزیز سفارشات کو وفاقی کابینہ کے ایجنڈے سے عین آخر وقت کیوں خارج کیا گیا سمجھ میں نہیں آتا۔

اداریہ