Daily Mashriq

سوالیہ نشان

سوالیہ نشان

یاد رہے1961ئ میں ثانوی تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں آیا اس سے پہلے پشاور یونیورسٹی میٹرک اور ایف اے کے امتحانات کی نگرانی کرتی تھی۔آٹھویں جماعت کا امتحان صوبائی محکمہ تعلیم کی ذمہ داری تھی۔بورڈ اور یونیورسٹی دونوں کے منتظم اعلیٰ بہ لحاظ عہدہ صوبائی گورنر تھے۔ان اداروں کے وائس چانسلر اور چیئرمین کی حتمی منظوری گورنر دیتے تھے۔یہ آسامیاں جب خالی ہو جاتی تھیں تو محکمہ تعلیم کی جانب سے ایکٹ میں درج تعلیمی کوائف ،تجربے اور مقرر کردہ عمر کے مطابق سینئر لوگوں کے ناموں پر مشتمل پینل گورنر کو ارسال کر دیا جاتا۔جس میں متعلقہ افراد کی مکمل پروفائل اور عہدے کے لئے ان کی موزونیت کی تفصیل درج ہوتی۔گورنر پینل میں شامل افراد کے کوائف کی چھان بین کے بعد اپنی دانست میں ایک موزوں شخص کو وائس چانسلر یا بورڈ کا چیئرمین مقرر کر دیتا۔گورنر کو ایکٹ کے تحت وائس چانسلر یا بورڈ کے چیئرمین کے لئے بعض دفعہ دوسرے اداروں ، یا پیشوں سے وابستہ مناسب اور موزوںافراد کی تقرری کا اختیار بھی حاصل تھا جسکے تحت یونیورسٹی میں سینئر قانون دان اور فوجی جرنیل بھی وائس چانسلر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں ، گزشتہ چند سالوں سے متذکرہ دونوں اداروں میں اُن کے سربراہوں کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ صوبے کے جامعات کے وائس چانسلر کا تقرر سرچ کمیٹی کے ذریعے کیا جاتاہے ۔ اخبارات میں وائس چانسلر کی آسامی کے لئے اشتہار چھپتے ہیں در خواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ ایک کمیٹی ان درخواستوں کی چھان بین کرتی ہے امید واروں کی فہرست مختصر (Short list)کر کے اُن کے انٹر ویوز ہوتے ہیں اور پھر سرچ کمیٹی کی دانست میں موزوں امیدوار وں کا تقرر کر دیا جاتا ہے شنید ہے کہ صوبے کی دو جامعات کے لئے وائس چانسلر ز کی تقرریوں میںسرچ کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا ۔ 

جس پر اہل امید واروں نے نہ صرف احتجاج کیا تھا بلکہ سرچ کمیٹی کی فہرست میں میرٹ پر جس امید وار کا نام دوسرے نمبر پر درج تھا وہ داد رسی کے لئے عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں۔ اب ایک بار پھر صوبے کی نو جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کا معاملہ زیر غور ہے ۔ جسکی تفصیل ہم اپنے ایک گزشتہ کالم میں عرض کر چکے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس مسئلے کو کیسے نمٹا یا جاتا ہے اورپر دہ غیب سے ان آسامیوں پر تقرر ی کا کیا فیصلہ سامنے آتا ہے ۔ فی الوقت تو گزشتہ دنوں 7تعلیمی بورڈ ز میں ان کے سربراہوں کی تقرری متنازع بن چکی ہے ۔
جیسے کہ ہم ابتدائی سطروں میں بتا چکے ہیں ، گزشتہ سے پیوستہ صوبائی حکومت کے ادوار تک بورڈز میں چیئر مین کی تقرری کا اختیار گورنر کے پاس تھا ، نہ درخواستیں طلب کرنے کا دستور رائج تھا اور نہ انٹر ویوز کی ضرورت پڑتی تھی ۔ صوبائی محکمہ سکولز اور کالجز کے تجربہ کار ، سینئر موسٹ اساتذہ کاایک پینل بنا کر گورنر کو ارسال کر دیتے تھے ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ عمل اس قدر خفیہ طریقہ سے انجام دیا جاتا کہ پینل میں شامل افراد کو بھی ، اُس کاعلم نہ ہو تا گورنر پینل میں سے ایک موزوں شخص کو تین سال کے لئے بورڈ کا چیئر مین مقرر کر دیتے ، ہمیں یا دنہیں پڑتا کہ ماضی میں گورنر کے فیصلے پر کسی نے انگشت نمائی کی ہو ، یا پھر اُن کے مقرر کر دہ کسی چیئر مین کی دیا فت پر کبھی کسی نے شک و شبے کا اظہار کیا ہو۔ ایم ایم اے دور کی گورنمنٹ میں بورڈ کے چیئر مین کی تقرری کے اختیارات ، گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کے سپرد کر دیئے گئے ، اور اس طرح پہلی بار سیاسی مداخلت کے ذریعہ چیئرمین کے عہد ے پر تقرری میں پسند و ناپسند کا عمل شروع ہوگیا ۔ ایکٹ کے مطابق بورڈ کے چیئر مین کے لئے گریڈبیس کی شرط رکھی گئی ہے ۔ لیکن اب اس اہم آسامی پر منظور نظر افراد کے لئے اس شرط کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
آج کل جن سات افرادکو بورڈز چیئرمین مقرر کرنے کی خبر زیر گردش ہے وہ سب اس وقت گریڈ انیس میں کام کر رہے ہیں جبکہ کالجز میں میرٹ کی بنیاد پر ترقی پانے والے گریڈ بیس کے بے شمار اساتذہ پہلے سے موجود ہیں ان افراد کو نظر انداز کرنا ایکٹ کی واضح خلاف ورزی ہے۔ شنید ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ثانوی تعلیمی بورڈز میں ایک 20گریڈ کے چیئرمین کواس کی میعاد (Tenure)کے خاتمے سے پہلے ہی رخصت کر کے انیس گریڈافسر کو مقررکرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیمی بورڈ کی سربراہی کے لئے اگربیس گریڈ کی جگہ کوئی گریڈ انیس کاافسرزیادہ موزوں ہے تو پھر اس پوسٹ کے لئے بنیادی کوائف کو نظر انداز کرنے کی بجائے ایکٹ میں ترمیم کرنے کے بعد آسامی کو ڈائون گریڈ کر دیا جائے بورڈز چیئرمینوں کی حالیہ تقرریوں کے ضمن میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اُ ن میں بااثر افراد پہلے ہی چند سالوں سے ان اداروں میں کنٹرولر یا سیکر ٹری کی آسامیوں پر کام کر رہے تھے ۔اُ نکے میعاد کا ر کے خاتمہ سے پہلے تین سال کے لئے بورڈز کا سربراہ مقرر کر کے اُنہیں مزید استفادے کاموقع فراہم کر دیا گیا ہے ۔ ہماری دانست میں جب تک جامعات اور ثانوی تعلیمی بورڈز کی تقرریوں میں سیاسی مداخلت کو نہ روکا جائے ان اہم اداروں سے اچھے نتائج کی توقع نہیں رکھی جا سکتی اور نہ اُ ن کی کار کردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت ایک سوالیہ نشان اور لمحہ فکریہ بھی ہے ۔

اداریہ