Daily Mashriq


روشن خیا لی سی روشن خیالی وفاقی وزیر

روشن خیا لی سی روشن خیالی وفاقی وزیر

وفاقی وزیرریلوے سعد رفیق کا یہ جملہ کہ ووٹ عوام سے لیں اور فیصلے دوسرے کر یں یہ کیسے ہوسکتا ہے سیاسی حلقو ں میں گونج رہا ہے ۔سعد رفیق اکل کھر ے انسان ہیں ان کے والد گرامی خواجہ رفیق بھی ان سے زیا دہ اکل کھر ے تھے اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ان سے زچ رہتے تھے ۔چنا نچہ بھٹو حکومت کے خلاف جلو س نکا لنے کے دوران نا معلو م حملہ آور و ں نے پر قاتلا نہ حملہ کیا اور وہ اس سے جانبر نہ ہو سکے جس کے بعد ان کے صاحبزادے سعد رفیق کا نا م چمکا۔ سعدرفیق اور خواجہ آصف کے بیان کبھی کبھی ایسے بے باکانہ ہو تے ہیں تاہم یہ بیانا ت کبھی سیا سی نہیںبلکہ دیگر دباؤ یاضروریا ت کے پیش نظر واپس بھی ہو جا تے ہیں۔ مختصر یہ کہ سعد رفیق کا بیان کسی قو ت کے خلا ف نہیں سمجھا جا رہا ہے بلکہ اس کو اعلا ن انتخابی مہم جا نا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگلا سال انتخابات کا ہے جس کے لیے سیا سی جما عتوں کو تیا ریا ں قبل از وقت کر نی ہیں ۔ پا کستان میں کلی طورپر انتخابات سیا سی عملیات کی بنیاد پر نہیں ہوتے اس میں کئی عوامل شامل ہو تے ہیں۔ بعض قوتو ں کی پسند اور ضروریا ت بھی در پر دہ کا م کر تی ہیں جیسا کہ پر ویز مشرف کے دور میں دومر تبہ انتخابات بائیں بازو کی کامیابی کے فارمولے کی بنیاد پرکر ائے گئے اور بائیں بازو کی جما عتو ں کو ہدایت تھی کہ وہ سوشلزم یا بائیں بازوکی اصطلا ح استعما ل کرنے کی بجائے رو شن خیا ل نظریئے کو آگے بڑھائیں ۔ روشن خیالی کیا وبا ہے اس کی کوئی تعریف متعین نہیںکی گئی ۔آج سے ساٹھ ستر سال پہلے مغربی لباس زیب تن کر نے والو ں ، ہونٹ ٹیڑھے کر کے انگریزی بولنے والوں کو روشن خیال کہا جا تا تھا کیو ں کہ اپنے آقاؤں کی طر زکی بود وباش رکھتے تھے اور مذہب سے رسمی لگاؤ کا اظہا ر کر تے تھے کیو ںکہ ان کے نزدیک مذہبی رجحان ایک دقیا نو سی عمل ہے۔ تاہم روشن خیالی کا اصل نظریہ تو مغر ب کی جا نب سے آیا تھا مگر ایشیا میں اس کو در لانے میں ترکی کے مصطفٰے کما ل کا کما ل تھا ، چنا نچہ انہوں نے دائیں بائیں کے چکر میںپڑ نے کے لیے خو دکو مغرب زدہ قرا ر دینے کے لیے روشن خیال بن کر اس طر ح پیش کیا کہ اسلا م کی ایک طر ز حکمر انی خلا فت کے بخئیے ادھیڑدیئے ۔اب روشن خیالی کے نا م پر ایک نئی پخ نکا لی گئی ہے اور اس کے بابائے روشن خیالی سابق فوجی آمر پر ویز مشر ف کو تسلیم کرلیا گیا ہے ، چنانچہ آئندہ انتخابات کے لیے اس روشن خیالی کی قوت کو تشکیل دیا جا رہا ہے ۔ پر ویز مشرف نے حال ہی میں روشن خیا ل سیا سی قیادتو ں سے ملا قات کا سلسلہ شروع کیا ، وہ ہنو ز پا کستان کے وزیر اعظم بننے کے خواب میں مبتلا ہیں چنا نچہ روشن خیال جما عتو ں کی جو فہر ست تیا ر کی گئی ہے اس میں ایم کیو ایم لند ن ، ایم کیو ایم پاکستان ، پا ک سرزمین ، تحریک انصاف ، مسلم لیگ ق ، اے این پی اسفند یا ر ، وطن پارٹی ، اور دوسری علا قائی وہ جما عتیں جو کسی زمانے میں بائیں بازو کی جما عتیں کہلا تی تھیں۔ یہا ں یہ سوال ہے کہ جماعت اسلا می کس کھا تے میں ہے ، اس وقت وہ پی ٹی آئی کے ساجھے میں ہے حالا نکہ پاکستان کی بہترین منظم اور مستحکم نظریا تی جما عت تسلیم ہو نے کے باوجو د وہ اب تک تحریک انصاف کی روشن خیالی کے بارے میں ہم آہنگ ہو نے کا جو از پیش نہ کر سکی ہے کہ دونوں میں کیا مشترک ہے جس کی وجہ سے دونو ں کا ساجھا ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ جا وید ہا شمی سے نا راض ایک شخصیت جن کے بارے میں جاوید ہاشمی نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ عمران خان سے اختلا ف کے بعد اس شخصیت نے ان کو دھمکی آمیز فو ن کیا تھا اور کہا تھا کہ میاں نو از شریف ، چودھری نثار اور خواجہ آصف اور دیگر ساتھیو ں کو عدالتو ں میںگھسیٹیں گے جیسا کہ اس وقت میا ں نو ا زشریف گھسیٹے جا رہے ہیں وہ ہی شخصیت سابق فوجی آمر پر ویز مشرف سے ان سیا ست دانو ں کو جن کو روشن خیالو ں کی فہر ست میں جمع کیا گیا ہے ملا قاتو ں کا اہتما م کرارہی ہے۔ حال ہی میں گجر ات کے چو دھر ی بردران نے بھی ملا قات کی ہے جس کے بعد ان بردران نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پر ویز مشر ف کی مسلم لیگ میں شامل ہو سکتی ہے گویا مسلم لیگ اپنا الگ تشخص بر قرار رکھے گی ۔ آئندہ انتخابا ت میں روشن خیالو ں کی ایک جما عت بنا نے کی سعی ہو رہی مولا نا فضل الرّحما ن بھی کا فی متحرک ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس وقت اس مشن پر ہیں کہ کوئی ایسا اتحاد نہ بننے پائے جس کا فائدہ تحریک انصاف کو حاصل ہو ۔ مولانا مو صوف کا میا ب چھٹی حس کے مالک گردانے جا تے ہیں اور جا نتے ہیںکہ پی ٹی آئی کی اب خیبر پختون خوا میں پہلی جیسی پو زیشن نہیں رہی ہے مگر کہا یہ جا رہا ہے کہ فاٹاکے معاملے میں پی ٹی آئی کا خوف دلا کر فاٹا کو کے پی کے میں ضم ہو نے سے روکا جا رہا ہے۔ ایسی کوئی با ت نہیں ہے یہ پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کی کا رستانی ہے ، فاٹا میں گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو جو کا میا بی ملی تھی وہ اس سیل روا ں کی بنیا د تھی جس کے جھکڑ پور ے پا کستان میں چلے تھے جیسا کے 1970ء میں پی پی کا سونا می تھا۔ مو لا نا فضل الرّحما ن کی جما عت فاٹا میں اس دور میں جس طرح مقبول تھی آج بھی ہے ، اس کے علا وہ جنوبی اضلا ع میں بھی اثر رکھتی ہے ، فاٹا کی قسمت کا فیصلہ غلط طور پر کیا جا رہا ہے ، کیو ں کہ فاٹا کی ہیئت بدلنے سے بین الا قوامی حالا ت کے اثرات بھی بدلیں گے۔ یہ صرف فاٹا کا اندرونی معاملہ نہیںہے اس کا بیر ون ملک کے حالا ت سے گہر ا تعلق ہے اور اس میں روشن خیال جماعتیںاسی بنیا دپر متحر ک بھی ہیں۔ فاٹا کا بہترین حل رائے شما ری ہے کہ فاٹا کے عوام صوبہ کے پی کے میں شامل ہو نا چاہتے ہیںیا الگ صوبے کی حیثیت یا پھر مو جود ہ قبائلی طرز پر وجو د بر قرار رکھنا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ کر نافاٹا کے عوام کا حق ہے چند لو گو ں کا نہیں ۔

متعلقہ خبریں