Daily Mashriq


سندھ طاس معاہدے کا مستقبل

سندھ طاس معاہدے کا مستقبل

پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعے کو سمجھنے کے لئے ہمیں اس مسئلے کو قانونی لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کرنا ہوگا۔اس حوالے سے پہلے حصے میں سندھ طاس معاہدے کے تحت کشن گنگا اوررتلے ڈیم کی تعمیر کی قانونی حیثیت کو دیکھنا ہوگا۔ دوسرے حصے میں آئندہ چند سالوںمیں بھارت کی جانب سے چناب اور سندھ پر بنائے جانے والے چالیس سے زائد ڈیموں کے مسئلے کو رکھنا ہوگا۔ جبکہ تیسرے حصے میں بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی دھمکیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کشن گنگا اور رتلے ڈیموں کی تعمیر اور ڈیزائن کے حوالے سے سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے مطابق پاکستان نے ورلڈ بنک سے رابطہ کیا ہے تاکہ سندھ طاس معاہدے میں تنازعات کے حل کے فریم ورک کے تحت مصالحتی کورٹ بنا کر مذکورہ تنازعات کو حل کیا جاسکے۔ دوسری طرف بھارت نے ورلڈ بنک سے ان معاملات پر ایک غیرجانبدار ماہر کی تعیناتی کی درخواست کی ہے لیکن ورلڈ بنک نے ان دونوں درخواستوں پر عمل درآمد روک دیا ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مسائل دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ ابھی تک ہونے والی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو اپنا مقدمہ اسی جوش و جذبے سے لڑنا ہوگا جیسا کہ وہ اب تک کرتا آیا ہے ۔ پاکستان کے انڈس واٹر کمیشنر اور وزارتِ پانی و بجلی مصالحتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ اس وقت تک کرتے رہیںجب تک بھارت مذکورہ دونوں ڈیموں پر کام روک نہ دے۔ اب ہم اس بات کے قانونی پہلوئوں کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ کیا بھارت کی جانب سے بنائے جانے والے ڈیم سندھ طاس معاہدے کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ۔ اختیارات کے اس معاملے کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جس میں سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا بھارت اپنے علاقے میں بہنے والے دریائوں پر ڈیم بنانے کا فیصلہ کر چکا ہے ، کیا اس فیصلے کی راہ میں حائل سیاسی مسائل سے نمٹا جاچکا ہے۔ اس کے بعد کیا اس ڈیم کی تعمیر کے لئے معاشی اور تعمیراتی فزیبلٹی رپورٹ بنائی جاچکی ہے ، ڈیم کے لئے مناسب جگہ کا انتظام کیا جا چکا ہے اور کیا مذکورہ منصوبے کے لئے سرمائے کا انتظام کیا جاچکا ہے ؟ اگر ان سب عوامل پر غور کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی جانب سے بنائے جانے والے ڈیموں پر سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو اعتراضات اُٹھانے کا پور ا حق حاصل ہے ۔ سندھ طاس معاہدے کے قانونی فریم ورک کے تحت ورلڈ بنک اب اس معاملے میں مداخلت کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہاں پر یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کچھ پاکستانی ماہرین کی رائے میں سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کی طرف آنے والے دریائوں پر لاتعداد ڈیم بنانے کا مکمل ا ختیار دیتا ہے ۔ اگر ہم اس معاہدے کو غورسے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان ماہرین کی مذکورہ رائے بالکل غلط ہے۔ اس لئے بھارت کی جانب سے مستقبل قریب میں بنائے جانے والے ڈیموں کے معاملے کو ایک الگ خانے میں رکھ کر دیکھا جانا ضروری ہے اور مذکورہ خانہ سندھ طاس معاہدے سے باہر ہے کیونکہ اس وقت ان ڈیموں کی منصوبہ بندی کا عمل جاری ہے اور یہ عمل سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک سے باہر ہے۔ اگر پاکستان مندرجہ ذیل دووجوہات کو بنیاد بنا کر مقبوضہ کشمیر میں بنائے جانے والے چالیس سے زائد ڈیموں پر اعتراض اٹھاتا ہے تو پھر پاکستان کے اعتراضات میں وزن پایا جائے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے پاس ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک اور راستہ بھی موجود ہے ۔ دونوں ہمسایہ ممالک اگلی دو دہائیوں یا اس سے زائد مدت میں دونوں ممالک میں بہنے والے دریائوں پر بننے والے مجوزہ ڈیموں کے پراجیکٹس اوران کے مقام ایک دوسرے کے سامنے پیش کرکے کسی معاہدے پردستخط کرسکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان دریائے کابل پر اس قسم کا معاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اب ہم اس سارے معاملے کے تیسرے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں جس میں بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کی دھمکی شامل ہے۔ اگرچہ کسی بھی جنگ کی صورت میں پاکستان کی طرف سے وزارتِ دفاع جواب دے گی لیکن اگر بھارت اپنی طرف سے سندھ طاس کو معاہدے کو ختم کرتا ہے تو وزارتِ پانی و بجلی کو صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔سندھ طاس معاہدے کی رو سے کوئی بھی فریق یک طرفہ طور پر معاہدہ ختم نہیں کرسکتا اس لئے بھارت کی جانب سے ایسے کسی بھی اقدا م کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت کھلی جارحیت سمجھا جائے گا۔ ایسے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے افواجِ پاکستان اور وزارتِ دفاع کوہر وقت تیار رہنے کے ساتھ ساتھ جوابی دھمکیوں سے بھی کام لینا ہوگا تاکہ بھارت کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے کسی بھی اقدام اُٹھانے سے پہلے سوچنا پڑے۔(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں