Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

صاحب قلیوبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو یزید بسطامی ایک دن اس حال میں باہر نکلے کہ ان پر گریہ و زاری کا اثر تھا۔کسی نے آپ سے اس کا سبب پوچھا ۔آپ نے فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ قیامت کے دن ایک بندہ موقف(کھڑے ہونے کی جگہ)حساب کی طرف اپنے مخاصم اور مخالف کے ساتھ آئے گا اور کہے گا کہ اے میرے رب میں قصاب تھا ،پس یہ شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے گوشت کا بھاؤ چکایا اور اپنی انگلی میرے گوشت پر رکھی حتیٰ کہ اس کی انگلی نے گوشت پر نشان کر دیا اور اس نے گوشت نہیں خریدا اور میں آج اسی قدر کا محتاج ہوں۔پس اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ مدعا علیہ کی نیکیوں میں سے مدی کے حق کے بقدر اس کو دیا جائے ۔
اور اس شخص(مدعی) کا ترازو ایک ذرہ کے بقدرہلکا تھا۔۔۔پس یہ اس کے ترازومیں رکھا جائے گا چنانچہ اس کے ترازو کا پلڑا غالب ہو جائے گا اور اس کو جنت کا حکم دیا جائے گا اور اس مخاصم اور مدعا علیہ کا ترازو اسی قدر کم ہو جائے گا اور اس کو دوزخ کا حکم دیا جائے گا ۔۔۔پس مجھے معلوم نہیں کہ اس دن میرا کیا حال ہو گا۔۔۔(انمول موتی)
صاحب قلیوبی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ شیر بھیڑیا اور لومڑی ہمراہ ہوئے ۔ چنانچہ یہ تینوں شکار کے واسطے نکلے اور ایک گدھے ایک ہرن اور ایک خرگوش کا شکار کیا ۔۔ شیر نے بھیڑیئے سے کہا کہ ہمارے درمیان ان کو تقسیم کر و ۔ بھیڑ یئے نے کہا کہ تقسیم توبالکل ظاہر ہے ۔ گدھا تیرے لیے اور خرگوش لومڑی کے واسطے اور ہرن میرے لیے ہے ۔ (یہ سن کر ) شیر نے پنجہ سے اس کے سر پر طمانچہ مارا ۔ پھرلومڑی سے کہا کہ ہمارے درمیان تو تقسیم کر ۔اس نے کہا کہ کام تو صاف اور ظاہر ہے ۔ گدھا بادشا ہ کے ناشتے کے واسطے اور خرگوش شام کے واسطے اورہرن ان دونوں کے درمیان کے لیے ہے ۔ شیر نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے ، تجھ کو یہ تقسیم کس نے بتلائی ؟ لومڑی نے کہا کہ مجھے اس تقسیم کی پہچان اس طمانچہ سے ہوئی ، جو میںنے ابھی دیکھا ہے اور پیٹھ پھیر کر بھاگ گئی ۔ اس حکایت سے ثابت ہوتا ہے کہ جانور بھی تجربہ سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ امام ابن قیم الجوزیہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے ۔ طواف کے دوران اچانک انہیں ایسی تکلیف شروع ہوئی کہ ان کا حرکت کرنا دشوار ہوگیا ۔ انہوں نے در دوالی جگہ پر ہاتھ رکھ کر سورہ فاتحہ پڑھی ، تکلیف فوراً رفع ہوگئی اور ایسے محسوس ہوا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ امام ابن قیم مزید بیان کرتے ہیں : میں نے کئی مرتبہ اس سورہ کے بارے میں یہ تجربہ کیا ۔
امام ابن القیم نے سورہ فاتحہ کے علاوہ آب زم زم کی اہمیت کو بھی اجا گر کیا ہے ۔ امام صاحب فرماتے ہیں : میں آب زم زم کا ایک پیالہ پکڑ تا تھا ۔ اس پر کئی مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھتا اور اسے پی جاتا تھا ۔ اس عمل سے ایسی صحت مندی اور عافیت کا احساس ہوتا کہ دنیا کی ساری دوائیاں اس کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہیں ۔
(مفتاح دارالسعادة ، ص ، 270)

اداریہ