Daily Mashriq


این آر او کی تکرار

این آر او کی تکرار

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے باربار این آر او ہونے کی خبروں کو مسترد کرنا اور کسی سے بھی کوئی ڈیل ہونے کے باربار تردید سے پس پردہ کچھ نہ کچھ ہونے کی کہانی کا تاثر ملتا ہے۔ وزیراعظم کی سطح پر اگر کسی بات کی ایک مرتبہ کھلے اور صریح الفاظ میں تردید ہو جائے اور یکسر انکار کا عندیہ دیا جائے تو اس کے بعد اس موضوع کو باربار زیربحث لانا مناسب نہیں۔ ایسا کرنے سے اس باب کے بند نہ ہونے اور نئی صورتحال اور حالات پیدا ہونے کا تاثر اُبھرتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس موضوع کو باربار سامنے لانے سے میڈیا بھی اس موضوع کی تکرار کرتا ہے اور یوں یہ معاملہ داخل دفتر ہونے کی بجائے قابل تذکرہ رہتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے کسی این آر او سے ایک مرتبہ پھر انکار کیا گیا اور یقیناً ایسا ہی ہے تو پھر اس کے باربار اعادے کی کیا ضرورت ہے ۔ ایسا کرنے سے وہ عناصر جن کے حوالے سے کہا جاتا ہے جو سوال اُٹھاتے ہیں اس کا جواب تحریک انصاف اور حکومت کی صفوں سے نہ آنے سے ان کی بلے بلے ہو جاتی ہے۔ وہ اکثر یہ سوال دہراتے ہیں کہ جب ڈیل یا این آر او ہو رہا ہے یا معاملات چل رہے ہیں تو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ دوسرا فریق کون ہے اس کا نام کیوں نہیں لیا جاتا۔ ہمارے تئیں وہ فریق یا تو خود حکومت ہے یا پھر اسٹیبلشمنٹ اگر حکومت ایک جانب درون خانہ معاملت کرتی ہے اور دوسری جانب اس سے انکار اور تردید کی صورت اختیار کی جا رہی ہے تو یہ عوام کو اندھیرے میں رکھنے، عوام کو دھوکہ دینے اور قول وفعل کے تضاد کے مظاہرے کی بات ہے اور اگر ایسا نہیں اور کسی دوسری قوت سے کوئی سودے بازی کی کیفیت ہے تو پھر حکومت کی بالادستی وعملدراری اور احتساب کا نعرہ کہاں ہے۔ ہر دو صورتوں میں اس موضوع کو چھیڑنا حکومت کے حق میں نہیں جاتا مگر سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ اس کے باوجود اس گناہ بے لذت کا ارتکاب باربار کیا جارہا ہے۔ کابینہ کے حالیہ اجلاس کے بعد حکومتی صفوں میں ایک مرتبہ پھر حزب اختلاف کی مانند کا جو لب ولہجہ اختیار کیا گیا ہے اور دوسری جانب سے گرفتار نوازشریف سے حکومت کے خائف ہونے کا جو راگ الاپا جارہا ہے حقائق کیا ہیں اس سے ہٹ کر ان کا بیانیہ، ان کے سوالات اور ان کا استدلال قابل قبول لگنے لگتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نہ کسی کو این آر او ملنا چاہئے اور نہ کسی کو ڈھیل دی جانی چاہئے بلکہ ان معاملات کو سیاسی بنانے کی بجائے اگر قانونی اور عدالتی رہنے دیا جائے تو یہ حکومت اور ملک وقوم کیلئے مناسب ہوگا۔ جن جن لوگوں پر ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے اور بدعنوانی کا الزام ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی یہ کوئی سیاسی موضوع ہے، یہ خالصتاً قانون اور عدالتی معاملات ہیں جس کے اثرات سے سیاست کو دور رکھا جائے بلکہ اس کی پرچھائیاں بھی سیاست پر نہیں پڑنی چاہئیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے این آر او کی خبروں کو خلاف حقیقت گرداننے اور واضح طور پر قرار دینے کے بعد کہ پی پی پی اور (ن) لیگ سے کوئی ڈیل نہیں ہو رہی ہے اس موضوع کو بند کر دینا چاہئے۔ اس ضمن میں وزیراعظم اگر اپنے وزراء اور ترجمانوں کو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کی بجائے یکساں موقف اختیار کرنے اور واضح لائحہ عمل اختیار کرنے کی ہدایت کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ حکومت کی صفوں میں بعض وزیروں اور ہر ترجمان کی اپنے اپنے انداز میں معاملات کی تشریح کے طرزعمل کا وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہئے تاکہ یکساں موقف اختیار کیا جا سکے۔ وزیراعظم کے زیرصدارت اجلاس میں حزب اختلاف کو مؤثر جواب دینے کی ہدایت پر دوبارہ حزب اختلاف کی زبان بولنے کے طور پر عمل کرنا حکومت کے مفاد میں نہیں بلکہ اس سے تو حزب اختلاف کا کام آسان اور سخت لب ولہجہ اختیار کرنے کے باعث حکومت کے دباؤ میں ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ حزب اختلاف کو مؤثر جواب الزام تراشی کا سہارا لیکر نہیں باثبوت مدلل متین اور سنجیدہ طرزعمل اور لہجہ اختیار کر کے دیا جا سکتا ہے اور یہی حکومتی مصلحت اور مفاد کا تقاضا بھی ہے اور مؤثر بھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ کہنا کہ حکومت کی تبدیلی سے نظام تبدیل نہیں ہوتا ایک طرح سے اظہار ناکامی ہے کیونکہ موجودہ حکمرانوں کا عوام سے وعدہ ہی یہ رہا ہے اور اُنہوں نے انتخابات میں تبدیلی کے وعدے اور نعرے پر کامیابی حاصل کی ہے جس کے بعد ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ درست ہے کہ تبدیلی کیلئے مستقل کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے اور تحریک انصاف کی قیادت نے عوام کو تبدیلی پر قائل کرنے کے بعد حق حکمرانی حاصل کی ہے جس کے بعد چونکہ وہ فیصلہ سازی اور قوت نافذہ کے حامل ہوگئے ہیں لہٰذا تبدیلی لانے کا عمل بھی اُنہوں نے ہی شروع کرنا اور کامیاب کرانا ہے۔ اس ضمن میں تاخیر اور مشکلات دونوں کی گنجائش ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا عوام نے تبدیلی کے علمبرداروں کو کامیابی دلاکر ذمہ داری اُن کے سر ڈال دی ہے، وہ نظام تبدیل کرتے ہیں یا حکومتی اقدامات کے ذریعے تبدیلی لاتے ہیں اُنہیں یہ ذمہ داری بہرصورت پوری کرنے کی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔

متعلقہ خبریں