Daily Mashriq

پارلیمانی کمیٹی میں شواہد پیش کئے جائیں

پارلیمانی کمیٹی میں شواہد پیش کئے جائیں

خیبر پختونخوا حکومت کی قائد حزب اختلاف کی تجویز پر بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان جمہوری روایات کی پاسداری اور حزب اختلاف کے مطالبے کو وقعت دینا ہے جو اس لحاظ سے بھی خوش آئند ہے کہ اس سے شکوک وشبہات اور غلط فہمیوں کا باب بند ہوگا اور اصل صورتحال سامنے آسکے گی۔ ایک فاضل رکن کی جانب سے تو منصوبے میں ڈیڑھ ارب روپے کمیشن لینے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔ سابق صوبائی وزیربلدیات عنایت اللہ نے انکشاف کیا کہ بی آر ٹی منصوبہ کابینہ کے آخری دو اجلاسوں میں زیربحث لایا گیا اور اس وقت بھی انہوں نے منصوبے کے5نکات پر اعتراض کیا تھا جبکہ اس وقت کابینہ میں شامل تحریک انصاف کے متعدد وزراء مذکورہ منصوبے کے حق میں نہیں تھے۔ اگرچہ اب تک بننے والی پارلیمانی کمیٹیوں اور کمیشنز کی کارکردگی سے عوام کو مکمل سچ سے آگاہی اور کمیٹی کے سرکاری اور حکومتی معاملات میں اصلاح وبہتری لانے کا ریکارڈ کچھ بہتر نہیں لیکن اس کے باوجود بھی حکومتی اقدام اس بناء پر مثبت ہے کہ اس کمیٹی میں ان موضوعات اور معاملات پر حزب اختلاف کو مطمئن کرنے یا پھر ان کے الزامات کی حقیقت کو سامنے لانے کا موقع ضرور ملے گا۔ جہاں تک اس منصوبے کے حوالے سے تحفظات کا سوال ہے شاید ہی کوئی منصوبہ ایسا ہوگا جس پر تحفظات کی گنجائش نہ ہو اس منصوبے کی تکمیل سے عوام کو سفر کی بہتر سہولتوں کی توقع ہے جبکہ ٹریفک رش اور آلودگی میں بھی کمی ممکن ہوگی۔ جہاں تک منصوبے میں بدعنوانی کا الزام ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اولاً حزب اختلاف کو خواہ مخواہ کی الزام تراشی سے گریز کی ضرورت تھی اگر حزب اختلاف کے پاس اس قدر بھاری کمیشن لینے کے الزام کا کوئی کمزور ثبوت بھی ہو تو اسے سامنے لانے میں مصلحت کا شکار نہیں ہوا جائے اسے نہ صرف پارلیمانی کمیٹی ہی کے سامنے پیش کیا جائے بلکہ نیب سے اس ثبوت کیساتھ باقاعدہ طور پر رجوع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

انسداد آئس کے سخت قوانین جلد بنائے جائیں

آئس نشہ کی روک تھام اورذمہ داروں کو سخت سزا دینے کیلئے خیبر پختونخوا اسمبلی میںتوجہ دلاؤ نوٹس اور اس امر کی نشاندہی کہ آئس نشہ صوبہ بھر اور بالخصوص پشاور اور ایبٹ آباد کے کالجز میں عام ہورہا ہے اور نوجوان نسل میں تیزی کیساتھ یہ نشہ پھیلتا جا رہا ہے۔ ایک سنگین مسئلے کی درست نشاندہی ہے اس ضمن میں حکومت کی جانب سے مسودہ قانون کی تیاری کا عندیہ اپنی جگہ قابل اطمینان امر ضرور ہے تاہم اس میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ حکومت جتنا جلد اس مسودہ کو قانونی شکل دیکر قانون سازی کے مراحل ومدارج سے گزار کر اسے لاگو کرائے اتنا بہتر ہوگا۔ اس ضمن میں حزب اختلاف کا تعاون فطری امر ہوگا۔ جب تک اس ضمن میں موثر قانون سازی نہیں ہوتی تب تک ہماری پولیس کو اس کی روک تھام کی بنیادی ذمہ داری سے پہلو تہی کی گنجائش نہیں۔ انسداد منشیات کے دیگر قوانین منشیات فروشوں کی گرفتاری سے نہیں روکتے یہ لعنت جس طرح ہماری نوجوان نسل خاص طور پر لڑکیوں کو متاثر کر رہی ہے وہ سب سے تشویشناک امر ہے۔ نوجوان نسل اور تعلیمی ادارے خاص طور پر اس لعنت کی زد میں ہیں۔ اس لعنت کی روک تھام کیلئے جتنا جلد اور جتنا سخت قدم اٹھایا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

پولیس فائرنگ کی تحقیقات کی ضرورت

رسالپور میں پولیس ناکے پر نہ رکنے پر پولیس اہلکاروں کی مبینہ طور پر پارہوتی کے نوجوان کوگولی مارکر زخمی کرنے کا واقعہ تحقیقات کا متقاضی ضرور ہے جس میں اس امر کا تعین ہوگا کہ نوجوان پر فرار ہوتے ہوئے فائرنگ کی گئی یا پھر پولیس نے اختیارات سے تجاوز کیا۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ زخمی نوجوان کا علاج معالجہ جاری ہے اور ان کے صحت یاب ہونے کی امید ہے۔ پولیس ناکوں پر اشارے پر فوراً نہ رکنا غلط فہمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے لیکن فرار کی کسی کوشش پر فائرنگ میں جان بھی جاسکتی ہے جس سے بچنے کا واحد راستہ پولیس سے تعاون اور ایک اچھے اور ذمہ دار شہری کے کردار کا مظاہرہ ہے۔ پولیس والوں کو نوجوانوں کے خوفزدہ ہو کر نہ رکنے پر گولی مارنے جیسے اقدام سے حتی المقدور گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ ناکے پر کسی نوجوان کے نہ رکنے پر اگر فائرنگ ناگزیر بھی ہوجائے تو ٹائر پر فائر کرکے پنکچر کرکے فرار ہوتے شخص کو رکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے' فرار ہوئے نوجوان کی اطلاع آگے متعین نفری کو دی جاسکتی ہے جہاں اسے روکنے کیلئے پیشگی انتظامات کئے جاسکتے ہیں۔ بہرحال یہ ایسی صورتحال نہیں تھی جس میں نوجوان کیلئے ناکہ توڑنا اور فرار کی کوشش مناسب تھی یا پھر پولیس کو اس انتہائی اقدام سے گریز کرنے کی ضرورت تھی اس قسم کی صورتحال ہی ہر دو جانب نقصان اور پریشانی کا باعث بنتی ہے جس سے معمولی احتیاط کا مظاہرہ کرنے سے بچنا باآسانی ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں