Daily Mashriq

اصل تاریخ سے کٹے لوگوں کا المیہ؟

اصل تاریخ سے کٹے لوگوں کا المیہ؟

آزادی کے آٹھویں عشرے سے گزرتے زمین زادے اگر یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ آزادی کہاں ہے جس کیلئے لاکھوں مرد وزن اپنی زندگیوں سے گئے؟ تو اس سوال کا برا منانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں کھلے دل سے جواب دینا چاہئے یا پھر اس سوال پر مکالمہ اٹھانا چاہئے۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ ریاستیں مصنوعی تاریخ' کھوکھلے دعوؤں' منہ زور طاقت سے نہیں بلکہ آزادی انصاف' مساوات اور احترام آدمیت پر قائم رہتی پھلتی پھولتی ہیں۔ دستیاب انسانی تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیجئے ریاستوں کے عروج وزوال کی داستانوں کو کھلی آنکھوں کیساتھ پڑھ لیجئے' بہت دور اگر نہ جا سکیں تو قیام پاکستان سے سقوط مشرقی پاکستان تک کے ماہ وسال کے معاملات پر غور وفکرکریں تو زمینی حقائق آپ کو سرکاری بیانئے اور رجعت پسندوں کی کہانیوں سے یکسر مختلف دکھائی دیں گے۔ بدقسمتی سے ہم میں سے کسی نے بھی سقوط مشرقی پاکستان کی وجوہات پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی۔ درشنی اور فیشنی نعروں سے جی بہلاتے ہیں یا پھر اس سوچ سے رزق چنتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں ہندو اساتذہ نے نئی نسلوں کے ذہنوں میں زہر بھرا اور یہ زہر ایک دن بارود بن کر پھٹا۔ ایسا نہیں ہے' دل پہ ہاتھ رکھ کر غور کیجئے' آج کے پختونخوا' سرائیکی وسیب، بلوچستان اور سندھ میں کونسے ہندو اساتذہ ہیں جو زہر بو رہے ہیں۔ اب تو وسطی پنجاب کے اندر سے بھی توانا آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ زمین زادوں کی نئی نسل آزادی' انصاف' مساوات' حق حکمرانی اور باہمی احترام کو اصل زندگی قرار دیتی ہے۔ بھاڑے کی لڑائیوں اور تھانیداری کے شوق سے بیزار نسل سوال کرتی ہے کہ آخر ایک حقیقی جمہوری فلاحی ریاست کے قیام میں امر مانع کیا ہے؟ سوال ہو یا سوالات منہ چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ آزادی کے آٹھویں عشرے تک آتے آتے آدھا ملک گنوا چکے' چار مارشل لاء بھگتے' سمجھوتہ برانڈ طبقاتی حکومتیں' لیاقت علی خان راولپنڈی میں قتل ہوئے۔ بھٹو کو راولپنڈی میں پھانسی پر چڑھایا' بینظیر بھٹو بھی لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر ماری گئیں۔ یہی آٹھ عشروں کی کہانی ہے' ورق ورق الٹتے چلے جائیں۔

ہمارے اہل دانش کے پاس تو اس سوال کا جواب ہی نہیں کہ ہماری تاریخ کب اور کہاں سے شروع ہوئی۔ کیا بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں ہوئی تقسیم کے نتیجے میں بننے والے نئے ملک کو تاریخ کے ان ادوار سے الگ کرکے آگے بڑھایا جائے گا جو اس خطے کی تاریخ ہے۔ نئی تاریخ کیا اور کہاں سے شروع ہوئی۔ معاف کیجئے گا جغرافیہ تقسیم ہونے سے تاریخ ختم نہیں ہوجاتی، پاکستان معرض وجود میں آگیا' کیوں' کیسے اس پر بحث اٹھانے کی ضرورت نہیں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہاکڑہ' موہنجوداڑو' ہڑپہ اور گندھارا تہذیبوں کے وارث نہیں؟ ہیں تو پھر ہم اس وراثت پر تاریخ کی عمارت اُٹھانے سے شرمندہ کیوں ہوتے ہیں۔ ہماری نصابی کتب ہوں یا دوسری کتابیں ان میں ان چار قدیم تہذیبوں کا ذکر اس طور کیوں نہیں جس طرح ہونا چاہئے۔ کیوں کچھ لوگ روز اول سے بضد ہیں کہ تاریخ کا مذہب ہوتا ہے۔ تاریخ ہندو' سکھ' عیسائی ومسلمان' بدھ یا یہودی ہوتی ہے؟ کیا یہاں کوئی یہ سوچنے سمجھنے کی زحمت پر آمادہ نہیں کہ اپنے اصل سے کٹ کر زندگی بسر کرنے کا شوق درست نہیں۔ تاریخ وجغرافیہ کا مذہب نہیں ہوتا مذہب ہو یا عقیدہ یہ انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ مذہب وعقیدے کی کسوٹی پر تاریخ کو پرکھنے کا شوق کسی بھی طور درست نہیں ہم جو ہیں وہی رہیں گے' اقرار ہی صائب ہوتا ہے۔ تاریخ یکسر مختلف ہے، آزادی کے آٹھویں عشرے میں بھی اگر ہمیں تاریخ کی تلاش ہے تو اس پر برہم ہونیکی ضرورت نہیں، تاریخ ہمیں ہماری شناخت دے سکتی ہے، ہمارا اصل تاریخ میں ہی پوشیدہ ہے۔

بطور خاص اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ یا تہذیب سے جڑی شناخت انکار مذہب یا انکار پاکستان ہرگز نہیں۔ اچھا کیا قیام پاکستان سے پہلے یہاں دھول اُڑتی تھی آبادی بٹوارے کیساتھ ہوئی؟ ظہور اسلام سے قبل یا اس خطے میں اسلام کی آمد سے قبل جہل کا راج تھا؟ تاریخ کے اوراق اُلٹنا ہوں گے تب آسان سا جواب ملے گا۔ وہ یہ کہ اس خطے کی چاروں تہذیبیں' ہاکڑہ' موہنجوداڑو' ہڑپہ اور گندھارا' انسانیت اور سماج کے ارتقائی سفر کی معراجیں ہیں۔ ان تہذیبوں نے انسانیت کو مالامال کیا۔ اپنی شناخت کے سوال میں جذباتی زمین زادوں کی نئی نسل اگر ان تہذیبوں سے رشتہ جوڑتی ہے تو اسے کفر وشرک یا غداری قرار دینے کی ضرورت نہیں۔ قوموں کی شناخت کا بیانیہ ان کی تاریخ سے عبارت ہوتا ہے۔ یہ ہمارا ہم سب کا ملک ہے اس کے وجود سے کوئی انکار نہیں کر رہا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست اپنے لوگوں کے جذبات کو سمجھ پا رہی ہے نہ ریاستی دانش خوشہ چینیوں کو یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ مصنوعی تاریخ اور کھوکھلے دعوے شناخت کے تقاضے پورے نہیں کر پاتے۔ بائیس کروڑ انسانوں کو ان کی تاریخ کے اصل سے کاٹ کر کسی اور سمت دھکیلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیا ریاست اور اس کی دانش کے وظیفہ خوار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تاریخ اور شناخت کے حوالے سے حقیقت کو تسلیم کیا گیا تو ان کا سودا فروخت نہیں ہوگا؟ بہت ادب کیساتھ عرض ہے مسئلہ صرف بے شناختی کا نہیں بلکہ آزادی' انصاف' مساوات اور حق حکمرانی سے محرومی کا بھی ہے۔ زمین زادوںکی نئی نسل یہ سمجھتی ہے کہ آزادی کے آٹھویں عشرے میں بھی ان پر طبقاتی نظام مسلط ہے۔ اس نظام کو مسلط رکھنے والے ہی تاریخ کے اصل سے انکار کرتے ہیں تاکہ جبر واستحصال جاری وساری رہے۔ مکرر عرض کرنا ضروری ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس امر پر غور کریں کہ آزادی' انصاف' مساوات' حق حکمرانی اور احترام آدمیت کا دور دورہ کیسے ممکن ہوگا۔ طالب علم کو دو ہی صورتیں دکھائی دیتی ہیں اولاً یہ کہ لوگوں کی ان شناختوں کا احترام کیا جائے جن پر وہ فخر کرتے ہیں ثانیاً یہ کہ ایک ایسے نظام کے قیام کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں جو طبقاتی بالادستی کے جبر سے نجات دلا سکے۔

متعلقہ خبریں