Daily Mashriq

آج کل!

آج کل!

کئی بار خواہشات نے خاموشی سے ذہن کے دریچوں کو ہولے سے تھپایا ہے۔ کئی بار دل نے بے طرح تڑپ کر بہتری کی خواہش کی ہے۔ کئی بار اس اُمید نے اندھیرے میں ہاتھ تھاما ہے کہ بہتری کی کوئی تو راہ ہوگی تو جلد ہی سُجھائی دے گی لیکن ہر بار راہ کھو گئی ہے۔ ہر بار اس قوم کا اعتبار ٹوٹا ہے، ہر بار اُمید بجھ گئی ہے۔ اس حکومت کے آنے سے پہلے کتنے منظر آنکھوں کے سامنے گھومتے۔ کتنے روپہلے دنوں کی اُمید اردگرد گھومتی رہی۔ ہمارا خیال تھا کہ اچھے دن کسی بھی درست فیصلے کے منتظر ہوںگے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ ہر بار دن کا صفحہ پٹھا اور ایک نئی تاریخ اُبھری لیکن اب تک کچھ نہیں ہو سکا۔ شاید امیدوں کے اتنے رنگ تھے کہ انہیں پوری طرح مٹنے میں کچھ وقت تو لگے گا لیکن میں سوچتی ہوں کہ آخر اس سب کا کیا فائدہ ہوا۔ جن لوگوں پر اتنا اعتماد کیا، جن کی باتوں میں سچائی کی رمق تھی، جن کے لہجوں میں کوئی فریب نہ تھا، ان لوگوں نے ہمارے دنوں کے دُکھ دور کرنے کیلئے کوئی تیاری ہی نہ کی تھی۔ تحریک انصاف کی اس حکومت کے عنان اقتدار سنبھالنے سے پہلے لوگ بڑے زور وشور سے کہا کرتے تھے کہ ان کے دن پھرنے میں کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں اور پھر حکومت آگئی۔ بڑی خوشیاں، بڑے جشن کئے گئے۔ بڑے خواب سجائے گئے اور اُمید کے خیمے ہر جانب گاڑ دیئے گئے۔ خیال تھا ایسی تبدیلی آجائے گی کہ یہاں کسی نے کبھی ایسے اچھے دنوں کا سوچا تک نہ ہوگا۔ پاکستانی قوم نے جذباتی ہو کر عمران خان اور کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا آپس میں موازنہ کرنا شروع کر دیا کیونکہ جذباتیت میں اس قوم کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور صعوبت میں اضافہ ہو رہا ہے لوگوں کو بہت سی باتیں بھولتی جارہی ہیں۔ اب گیس کے بل وصول کرنے کے بعد نہ یہ یاد آتا ہے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم اس ملک کی بہتری کیلئے حکمت عملی تیارکر رہے ہیں اور نہ ہی یہ یقین ہاتھ تھامتا ہے کہ ان چند دنوں کی مصیبت گزارنے کے بعد بالآخر اچھے دن بھی آئیںگے۔ وہی لوگ جو موجودہ حکومت کی محبت میں دوسری جماعتوں کے حامیوں کے دست وگریباں دکھائی دیتے تھے اب ان کے جذبوں میں بھی کچھ کمی سی ہے۔ اس ملک سے محبت کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طغیانی میں بھی کچھ ٹھہراؤ سا دکھائی دینے لگا ہے۔ کبھی گیس کے بل کمر توڑ رہے ہیں، کبھی پالیسیوں میں کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہ دینا دل مٹھی میں کر لیتا ہے۔ کہیں سے کوئی بہتری ہی سُجھائی نہیں دیتی۔ دکھائی بھی کیسے دے، یہ حکومت اپنی تمام تر نیک نیتی اور بدعنوانی سے نفرت کے باوجود اس ملک کی حکومت کیلئے تیار نہ تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اتنے پڑھے لکھے لوگوں کی موجودگی میں کچھ نہ کچھ تیاری کرلی گئی ہوتی۔ کوئی لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا ہوتا۔ یہ طے ہوتا کہ جب معاملات کو سنھبالنا ہوگا تو کس طور، کس بات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ بات آج تک معلوم نہیں ہوئی کہ اس ملک کی کل آمدنی کتنی ہے۔ ہمارے بجٹ کا کتنے فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔ ملک کے معاملات نبھانے کیلئے کس قدر رقم بچتی ہے۔ یہ باتیں تو ہر کسی کو معلوم ہیں، ملک کی درآمدات برآمدات کی لسٹ بھی کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ ہاں اکثر معاملات سے وابستہ زمینی حقائق صرف اس وقت معلوم ہوتے ہیں جب انسان اس کا سامنا کرتا ہے۔ کرکٹ میچ دیکھنے والے شائقین اکثر ہر بال پر اپنی ماہرانہ رائے دیتے ہیں کہ اگر بیٹنگ کرنے والے نے بال کو اس جانب، اس طور سے مارا ہوتا تو یقیناً بہتر ہوتا لیکن وہ شخص جو بیٹ پکڑے بال کا سامنا کر رہا ہوتا ہے، اصل حقیقت اسی کو معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کے حالات بھی ایسے ہی ہیں، اکثر لوگ انتہائی مہارت سے ان باتوں کے حوالے سے تجزئیے کرتے، مشورے دیتے دکھائی دیتے ہیں جن کے بارے میں انہیں تفصیل میں کوئی بات ہی معلوم نہیں ہوتی۔ ان کی یہ معصوم مہارت انتہائی گنجلک مسائل ومعاملات کو ضرورت سے زیادہ سہل دکھاتی ہے۔ جس سے لوگ بھی گمراہ ہوتے ہیں اور اپنی جانب آنے والی مشکل کا درست احاطہ نہیں کرسکتے۔ موجودہ حکومت کے حوالے سے بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیش آئی ہے۔ تحریک انصاف کے لوگ گنجلک مسائل کو سہل سمجھ کر ان کا آسان حل سمجھتے اور سمجھاتے رہے ہیں، تجزیہ نگاروں کا بھی قریباً یہی عالم تھا۔ تحقیق کی کمی نے اس گمراہی میں اور بھی اضافہ کیا۔ عام آدمی معجزوں کی امید لگا کر بیھٹا رہا اور جبکہ حقیقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ معجزوں کیلئے تو وقت اور صعوبت سے گزرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی، تو معاملات کٹھن ترین لگتے ہیں۔ ہم اس وقت ایک ایسے ہی وقت سے گزر رہے ہیں۔ لوگوں کے پیر حقیقتوں میں اُلجھتے ہیں تو ان کی پیشانیوں کی شکنوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ ہر ایک سوچتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟ اور کیا ان کا یہ فیصلہ درست بھی تھا۔ ایک عجب سی پریشانی اور گھبراہٹ ہے اور یہ حقیقت بھی واضح ہونے لگی ہے کہ حکومت سنھبالنے کی کوئی تیاری نہ تھی، سو اب حوصلوں کی شمع بھی ٹمٹمانے لگی ہے ۔