Daily Mashriq

پاکستان کو لاحق خطرات اور حکومتی رویہ

پاکستان کو لاحق خطرات اور حکومتی رویہ

بھارت میں انتخابات پاکستان دشمنی کے ماحول میں ہو رہے ہیں، بھارت کی جانب سے کیسے خطرات لاحق ہیں سیاسی قیادت قوم کو اس بارے میں آگاہی دینے میں اب تک ناکام نظر آتی ہے۔ ہمارے لئے بھارت کی جانب سے سیزفائر لائن کی خلاف ورزیوں میں اب غیر معمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جان بوجھ کر سول آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اگر مغربی سرحدوں سے جڑے ہوئے واقعات پر بحث کی جائے تو اس وقت امریکہ اور طالبان معاہدے کیلئے خاموشی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ عقاب اور فاختائیں بھی فضا میں موجود ہیں۔ عقاب سمجھتے ہیں کہ امریکہ کابل چھوڑنے کی غلطی کر رہا ہے، کابل چھوڑ دینے سے امریکہ ان تمام فوائد سے دست بردار ہو جائے گا جو اس نے اٹھارہ سال کی جنگ سے حاصل کئے تھے جبکہ کابل دوبارہ ان ہاتھوں میں چلا جائے گا جو انخلا کو اپنی کامیابی تعبیر کریں گے اور پھر سے نائن الیون جیسا منصوبہ بنائیں گے۔ امریکہ کے پالیسی ساز اداروں میں کام کرنے والوں کی رائے ہے کہ افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے، امریکہ نے تعلیم اور صحت عامہ سمیت ملک میں جو انفراسٹرکچر بنایا ہے، یہ منصوبے ضائع ہوجائیں گے۔ معاہدے میں افغان حکومت کو شامل ہونا چاہئے، صرف طالبان کیساتھ معاہدہ کرکے امریکہ خود انہیں قانونی حیثیت دے رہا ہے۔ امریکہ کو یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ یہ معاہدہ صرف اس صورت میں ہوگا جب افغان حکومت بھی اس میں شامل ہوگی۔ اس شرط کو پورا کئے بغیر امریکہ اس وقت تک افغانستان میں رہے گا جب تک موجودہ حکومت چاہے گی اور اس کی قومی سلامتی کے مقاصد تقاضا کریں گے جبکہ مغرب کی فاختاؤں کا مؤقف ہے کہ طالبان کی حکومت سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کا نائن الیون سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ طالبان نے تو یہ تجویز رکھی تھی کہ ہم اسامہ اور القاعدہ کے دیگر عناصر (جو پشتون روایات کے مطابق ان کی پناہ میں تھے اور جن کے بارے میں کوئی ثبوت پیش کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے) کو ایک تیسرے ملک کے حوالے کرنے کو تیار ہیں، تو اس تجویز کو نہایت تحقیر اور تکبر کیساتھ رد کر دیا گیا تھا لیکن امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرکے غلطی کی تھی اور اس کے سامنے کوئی واضح مقصد بھی نہیں تھا یہ دو نقطۂ نظر امریکا طالبان مذاکرات کے دوران سامنے آئے ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ امریکہ نے بار بار مؤقف تبدیل کیا، افغان قوم کی تعمیر وترقی، القاعدہ کا خاتمہ اور دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر وہ گزشتہ بیس سالوں سے یہاں موجود ہے۔ طالبان نے افیون کی کاشت کو ختم کر دیا تھا لیکن اب اس سے بنی ہیروئن ساری دنیا میں برآمد ہو رہی ہے، امریکہ نے افغان جنگ میں اپنے تین ہزار فوجی کھوئے اور بیس ہزار زخمی ہوئے جن کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ کیلئے معذور ہوگئی۔طالبان اور امریکہ کے مابین معاہدہ ہوجانے کے بعد پاکستان میں اعلیٰ سطح پر آج تک یہ بحث نہیں ہوسکی کہ اس معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں پاکستان کو کیا کرنا چاہئے، ہر وزیر ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے کہ چلو آج کا دن گزر گیا، آنے والے کل کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اس کی کسی کو فکر ہے اور نہ کوئی فکر دکھائی دے رہی ہے۔تحریک انصاف نے ہزارہ صوبے اور مسلم لیگ (ن) نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبے بنانے کیلئے قومی اسمبلی میں آئین میں ترمیم کا بل پیش کر دیا ہے، یہ بل احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، رانا تنویر اور عبدالرحمن کانجو کے دستخطوں سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا گیا ہے، صوبہ بہاولپور پرانی ریاست بہاول پور کی حدود پر مشتمل ہوگا جو اس وقت تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان پر مشتمل ہے جبکہ صوبہ جنوبی پنجاب دو ڈویژنوں یعنی ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژن پر مشتمل ہوگا، قومی اسمبلی میں یہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی چال ہے۔ پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی میں یہ بل دوتہائی اکثریت سے منظور ہوجائے اور پھر پنجاب اسمبلی میں اس کی تائید میں دوتہائی اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرے صوبے میں دوتہائی اکثریت تو رہی ایک طرف اس وقت قومی اسمبلی میں کسی جماعت کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں، تحریک انصاف کی حکومت وفاق میں کئی حلیف جماعتوں کے سہارے قائم ہے جن میں سے بعض کے تحریک انصاف کیساتھ اختلافات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ملکی معیشت سے ہی جڑا مسئلہ گرے لسٹ کا ہے پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ اس لسٹ سے باہر نکل آئے۔ بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا پاکستان اپنی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے کہ وہ فی الفور اس لسٹ سے باہر آسکے اور اپنی اسی خواہش کے پیش نظر پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے 36نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے جو جون2018ء سے ستمبر 2019ء تک 15ماہ کے عرصے پر محیط ہے اس کے بعد ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کوششوں کا ازسرنو جائزہ لے گا، حکومت نے کبھی یہ معاملہ پارلیمنٹ میں زیربحث لانے کا نہیں سوچا اور نہ کبھی اپوزیشن جماعتوں نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہے، یوں حالات کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت مسائل میں بری طرح سے گھری ہوئی ہے طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ نامساعد حالات سے نکلنے کی کوئی سبیل دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔

متعلقہ خبریں